دہشتگردی نیا انداز اختیار کرتی ہے
پچھلی مرتبہ جب اس جریدے میں دہشتگردی کے موضوع پر گفتگو کی گئی تھی تو اسکے سرِورق پر سادہ سی تصویر میں بندوقبردار نقابپوش قاتلوں کے پیچھے ایک بڑا دھماکا دکھایا گیا تھا۔ تاہم، آجکل تصویر کا رُخ بالکل بدل گیا ہے۔
شام کے وقت کچھ ٹرک بڑی خاموشی کے ساتھ رہائشی علاقے سے گزرتے ہوئے ایک سکول کے قریب پہنچ کر رُک جاتے ہیں۔ جلد ہی، گیس ماسک اور کیمیائی اجزا سے محفوظ رکھنے والا خاص لباس پہنے ہوئے تربیتیافتہ آدمیوں کی ایک ٹیم جھاڑیوں میں آہستہآہستہ آگے بڑھنے لگتی ہے۔ ٹیم کو صرف یہ معلوم ہے کہ ایک سکول کے سٹیڈیم میں نصبکردہ ایک چھوٹا سا آلہ کھیلوں کی تقریب کے دوران پھٹ گیا تھا جس سے خارج ہونے والی گیس سے سینکڑوں تماشائی بیمار ہو گئے تھے۔ مقامی ایمرجنسی عملے کے تعاون سے چار آدمی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے بڑی احتیاط کیساتھ متاثرہ علاقے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس آلے سے کونسی گیس خارج ہوئی تھی؟ اینتھریکس؟ اعصابی گیس؟
یہ آدمی کیمیائی تجزیے کے آلات سے لیس آہستہآہستہ مرکزی حصے کی جانب بڑھتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں اُنہیں دھماکاخیز آلے کے باقیات ملتے ہیں۔ اُن کا مشن بہت مشکلوپیچیدہ ہے کیونکہ اُنہیں سراغ لگانے کیلئے چھوٹےچھوٹے آلات کو استعمال کرنے کے علاوہ بھاریبھرکم اشیا کو بھی اِدھراُدھرکرنا ہے۔
جلد ہی اُنکے ماسک بھاپ سے بھر جاتے ہیں۔ تربیتیافتہ اشخاص کے لئے بھی یہ سخت محنتطلب کام ہے۔ تاہم، دس منٹ کے اندراندر اس مادّے کی شناخت ہو جاتی ہے۔ اُن کیساتھ آنے والا کیمیادان تصدیق کرتا ہے کہ ”یہ اینتھریکس ہے۔“
دہشتگردی کا ایک نیا روپ
یہ صورتحال اتنی بھی خطرناک نہیں تھی جتنی کہ یہ دکھائی دیتی ہے۔ یہ ایک مشق تھی جس کا مقصد نیو یارک کے شمالی حصے میں زہریلی گیس کے حملے سے نپٹنے کے لئے ٹیم کے ردِعمل کو پرکھنا تھا۔ یہ گروپ حال ہی میں تشکیل دئے جانے والے ماس ڈسٹریکشن سول سپورٹ ٹیمز میں سے ایک تھا۔ ایسی ٹیموں کی تفویض خطرناک جراثیموں، کیمیکلز یا تابکاری مادّوں کا تجزیہ کرنے سے دہشتگردوں کے نئے قسم کے حملوں کی شدت اور وسعت کا اندازہ لگانا ہے۔
یہ ٹیم عالمی پیمانے پر دہشتگردی کے مختلف خطرات اور چیلنجوں کے پیشِنظر تشکیل دی جانے والی بہت سی ٹیموں میں سے ایک ہے۔a حالیہ برسوں میں رونما ہونے والے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آزاد گروہوں یا تنہا انتہاپسندوں کی طرف سے دہشتگردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ بیشتر دہشتگرد ابھی بھی فوجی تنصیبات اور سفارتخانوں کو نشانہ بناتے ہیں تاہم بعض نے حملوں کی اپنی فہرست میں ذرائع آمدورفت، کھیلوں کی تقریبات، مصروفترین شہری علاقہجات، ہوٹلوں اور سیروتفریح کے مقامات کو بھی شامل کر لیا ہے جہاں حفاظتی انتظامات اتنے سخت نہیں ہوتے۔
دہشتگردوں کے رویے میں تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے، یو.ایس. ہاؤس انٹیلیجنس کمیٹی کے چیئرمین پورٹر گوس نے بیان کِیا: ”آجکل دہشتگردی بہت بدل گئی ہے کیونکہ پہلے حکومت اسکی حمایت کرتی تھی مگر اب لوگ اپنے کسی مقصد کے حصول کیلئے دہشتگردی کا سہارا لیتے ہیں۔ لہٰذا، دہشتگردی میں تبدیلی کیساتھ ساتھ ہمیں اپنی سوچ کو بھی تبدیل کرنا ہوگا۔“
دہشتگردی کے نئے انداز میں ایسی حکمتِعملی اور کارگزاریاں شامل ہیں جنہیں روکنا یا جنکا مقابلہ کرنا مشکل ہے۔ زیادہتر دہشتگرد نئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے اور اپنی مدد آپ کرنے کے قابل ہیں۔ یوایساے ٹوڈے بیان کرتا ہے: ”کمپیوٹر اور کمیونیکیشن کی نئی ٹیکنالوجی اور منظم جرائم کیساتھ وابستگی نے دہشتگردی کا مقابلہ کرنا اَور بھی زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔“ اس نئے انداز میں نئے ہدف بھی شامل ہیں جس کے باعث رپورٹروں اور صحافیوں نے ”کمپیوٹر پر دہشتگردی،“ ”حیاتیاتی دہشتگردی“ اور ”ماحولیاتی دہشتگردی“ جیسی اصطلاحات ایجاد کر لی ہیں۔
دہشتگردی کا یہ نیا رُوپ کسقدر بھیانک ہے؟ کیا آپ ذاتی طور پر خطرے میں ہیں؟ کیا بینالاقوامی دہشتگردی کے مسئلے کا کوئی حل ہے؟ اگلے مضامین اِن سوالات پر روشنی ڈالیں گے۔
[فٹنوٹ]
a دہشتگردی کی بابت مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب خانہجنگی والے ممالک میں ایک گروہ دوسرے گروہ کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں کرتا ہے تو اُنہیں یا تو اپنے حقوق کیلئے لڑی جانے والی جنگ کا نام دیا جاتا ہے یا پھر دہشتگردی قرار دیا جاتا ہے۔ ان سلسلہوار مضامین میں لفظ ”دہشتگردی“ کو اپنے مطالبات پورے کرانے کیلئے کئے جانے والے پُرتشدد کاموں کے حوالے سے استعمال کِیا گیا ہے۔
[صفحہ ۴، ۵ پر بکس/نقشہ]
(تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)
دہشتگردی کی صدی
۱۔ بیونس آئرس، ارجنٹینا
مارچ ۱۷، ۱۹۹۲
ایک کار بم دھماکے نے اسرائیلی سفارتخانے کو ملیامیٹ کر دیا جسکے نتیجے میں ۲۹ ہلاک اور ۲۴۲ زخمی ہوئے۔
۲۔ الغریز، الجیریا
اگست ۲۶، ۱۹۹۲
بینالاقوامی ہوائیاڈے پر بم دھماکے میں ۱۲ ہلاک اور کمازکم ۱۲۸ زخمی ہوئے۔
۳۔ نیو یارک سٹی، ریاستہائےمتحدہ
فروری ۲۶، ۱۹۹۳
مذہبی انتہاپسندوں نے عالمی تجارتی مرکز میں بہت بڑا بم دھماکا کِیا جس کے باعث ۶ ہلاک اور تقریباً ۱،۰۰۰ زخمی ہوئے۔
۴۔ ماٹسوموٹو، جاپان
جون ۲۷، ۱۹۹۴
اوم شنریکیو گروپ کے ارکان نے رہائشی علاقے میں سارن گیس کا سپرے کر دیا جسکی وجہ سے ۷ ہلاک اور ۲۷۰ زخمی ہوئے۔
۵۔ ٹوکیو، جاپان
مارچ ۲۰، ۱۹۹۵
اوم شنریکیو گروپ کے ارکان مُہلک سارن گیس سے بھرے ہوئے چھ بیگ لیکر ٹوکیو کی زمیندوز ریلگاڑی میں سوار ہو گئے اور اسے گاڑی کے اندر خارج کر دیا۔ اس سے ۱۲ ہلاک اور ۵،۰۰۰ سے زائد زخمی ہوئے۔
۶۔ اوکلاہوما سٹی، ریاستہائےمتحدہ
اپریل ۱۹، ۱۹۹۵
وفاقی عمارت کے اندر ٹرک میں بم دھماکا ہوا جسکا الزام رائٹ وِنگ انتہاپسندوں پر لگایا گیا۔ اس سے ۱۶۸ افراد ہلاک اور ۵۰۰ سے زائد زخمی ہوئے۔
۷۔ کولمبو، سریلنکا
جنوری ۳۱، ۱۹۹۶
نسلی انتہاپسند دھماکاخیز مادّے سے بھرے ٹرک کیساتھ ایک بینک میں گھس گئے۔ اس کے نتیجے میں ۹۰ ہلاک اور ۱،۴۰۰ سے زائد زخمی ہوئے۔
۸۔ لندن، انگلینڈ
فروری ۹، ۱۹۹۶
آئرش دہشتگردوں نے ایک پارکنگ گیراج میں بم دھماکا کر دیا جس سے ۲ ہلاک اور ۱۰۰ سے زائد زخمی ہوئے۔
۹۔ یروشلیم، اسرائیل
فروری ۲۵، ۱۹۹۶
ایک شخص بس کو بم سے اُڑا کر خود بھی اسکے ساتھ ہلاک ہو گیا۔ اس کیلئے مذہبی انتہاپسندوں کو مشکوک خیال کِیا جا رہا ہے۔ اس سے ۲۶ ہلاک اور تقریباً ۸۰ افراد زخمی ہوئے۔
۱۰۔ دہران، سعودیعرب
جون ۲۵، ۱۹۹۶
یو. ایس. ملٹری کی عمارت کے باہر تیل سے بھرے ٹرک میں بم دھماکے کی وجہ سے ۱۹ ہلاک اور ۵۱۵ زخمی ہوئے۔
۱۱۔ نوم پن، کمبوڈیا
مارچ ۳۰، ۱۹۹۷
حملہآوروں نے ایک مظاہرے کے دوران مجمع میں چار دستی بم پھینکے۔ تقریباً ۱۶ ہلاک اور ۱۰۰ سے زائد زخمی ہوئے۔
۱۲۔ کوئمبٹور، انڈیا
فروری ۱۴، ۱۹۹۸
مذہبی جنگجوؤں کی طرف سے بمباری کے پےدرپے حملوں کے نتیجے میں ۴۳ ہلاک اور ۲۰۰ زخمی ہوئے۔
۱۳۔ نیروبی، کینیا اور دارِاسلام، تنزانیہ
اگست ۷، ۱۹۹۸
یو.ایس. سفارتخانوں میں بم دھماکے۔ اس سے ۲۵۰ ہلاک اور ۵،۵۰۰ سے زائد زخمی ہوئے۔
۱۴۔ کولمبیا
اکتوبر ۱۸ اور نومبر ۳، ۱۹۹۸
ایک حملہ بموں سے اور دوسرا مزائیلوں سے۔ پہلا حملہ تیل کی پائپلائن پر کِیا گیا جس کے نتیجے میں ۲۰۹ ہلاک اور ۱۳۰ سے زائد زخمی ہوئے۔
۱۵۔ ماسکو، روس
ستمبر ۹ اور ۱۳، ۱۹۹۹
دو بڑے بڑے دھماکوں نے دو رہائشی عمارتوں کو ملیامیٹ کر دیا۔ ۲۱۲ ہلاک اور ۳۰۰ سے زائد زخمی ہوئے۔
[تصویروں کے حوالہجات]
Source: The Interdisciplinary Center, Herzliya, Israel
.Mountain High Maps® Copyright © 1997 Digital Wisdom, Inc
Victor Grubicy/Sipa Press
[صفحہ ۶ پر بکس/تصویر]
کمپیوٹر پر حملے
مارچ ۱۹۹۹: رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ پینٹاگون کمپیوٹرز نامعلوم اشخاص کی طرف سے ”منظم“ حملے کا شکار رہے ہیں۔ ماہر پروگرامر یو.ایس. ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے کمپیوٹر نظام کو تباہ کرنے کیلئے ہر روز اس پر ۶۰ سے ۸۰ حملے کرتے ہیں۔
۱۹۹۹ کا وسط: تین مہینوں کے اندراندر حکومت کے مخالف ماہر پروگرامر یو.ایس. سینٹ، تحقیقوتفتیش کے وفاقی دفتر، یو.ایس. آرمی، وائٹ ہاؤس اور ریاستہائےمتحدہ میں کابینہ کے مختلف شعبوں کے ویب پیجز میں غیرقانونی طور پر داخل ہو جاتے ہیں۔
جنوری ۲۰۰۰: رپورٹ کے مطابق عالمی پیمانے پر کاروباری دُنیا نے گزشتہ سال کے دوران ضرررساں کمپیوٹر وائرسز کی صورت میں ”معاشی دہشتگردی“ کا مقابلہ کرنے کیلئے ۱.۱۲ بلین ڈالر خرچ کئے ہیں۔
اگست ۲۰۰۰: ایک ماہر پروگرامر نے برطانیہ کی حکومتی ایجنسی اور مقامی ادارے کی ویب سائٹس میں گھس کر انہیں درہمبرہم کر دیا۔