اپنے بچے کو حادثات سے بچائیں
سویڈن میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
جب کارل ایرک اور برگیٹا اپنے ایک مُتوَفّی پڑوسی کا گھر صاف کر رہے تھے تو اُنکی تینسالہ بیٹی حنا اُنکے ساتھ ہی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد، گولیوں کی بوتل اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے حنا کمرے سے باہر نکلی۔ اُس نے کچھ گولیاں کھا لیں تھیں۔ بوتل دیکھ کر برگیٹا تو خوفزدہ ہو گئی۔ یہ اُس پڑوسی کی دل کی بیماری کی دوائی تھی۔
جلد ہی حنا کو ایک ہسپتال لیجایا گیا جہاں اُسے رات بھر انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا۔ گولیوں کی بڑی مقدار لینے کے باوجود جو اُسکی صحت کو دائمی طور پر نقصان پہنچا سکتی تھی، اُسے کسی بھی طرح کے مُضر اثرات کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ کیوں؟ کیونکہ اُس نے گولیاں کھانے سے کچھ ہی دیر پہلے دلیہ کھایا تھا۔ دلیہ کسی حد تک زہر کو جذب کر گیا تھا جسے اُس نے قے کرکے باہر نکال دیا تھا۔
حنا کا تجربہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ دُنیابھر میں ہر روز ہزاروں بچے ایسے حادثات سے دوچار ہوتے ہیں جس کے باعث ڈاکٹر کے پاس یا ہسپتال جانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ صرف سویڈن میں، ہر سال ۸ بچوں میں سے ایک کو حادثے کے بعد طبّی علاج کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسلئے، اگر آپ والدین ہیں تو اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ آپ کے بچے کیساتھ بھی کوئی ایسا واقع پیش آ سکتا ہے۔
یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے کہ بچے اکثر گھر یا آسپڑوس جیسے مانوس ماحول ہی سے چوٹ لگوا لیتے ہیں۔ عمر کیساتھ ساتھ جسطرح کی چوٹیں وہ لگواتے ہیں اُن میں بھی فرق آتا جاتا ہے۔ ایک شیرخوار بچہ اپنے پلنگ سے گر پڑتا ہے یا پھر کوئی چھوٹی موٹی چیز گلے میں پھنسا لیتا ہے۔ نوعمر بچے عموماً اُونچی جگہوں پر چڑھتے ہوئے گِر جاتے ہیں یا پھر ہاتھ پاؤں جلا لیتے ہیں یا کسی زہریلی چیز کو پکڑ لیتے یا کھا لیتے ہیں۔ سکول جانے والے بچے اکثر ٹریفک کے حادثات میں یا پھر گھر سے باہر کھیلتے وقت زخمی ہو جاتے ہیں۔
ان میں سے بیشتر حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔ تھوڑی بہت بصیرت اور اپنے بچے کی نشوونما کی رفتار کو جانتے ہوئے آپ چوٹوں اور جانلیوا حادثات کی روکتھام میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسکا ثبوت بچوں کا ایک حفاظتی پروگرام ہے جس پر سویڈن میں ۱۹۵۴ سے عمل کِیا جا رہا ہے۔ اُس سے پہلے، ہر سال حادثات میں ۴۵۰ سے زیادہ بچے فوت ہو جاتے تھے۔ تاہم، آجکل موت کی سالانہ شرح کم ہوکر تقریباً ۷۰ رہ گئی ہے۔
گھر کے اندر
بچوں کی ماہرِنفسیات کرسٹن بیکسٹروم بیان کرتی ہیں کہ ”آپ ایک دو یا تین سال کی عمر کے بچے کو خطرات سے بچنا نہیں سکھا سکتے اور نہ ہی اُن سے کچھ یاد رکھنے کی توقع کر سکتے ہیں۔“ لہٰذا، حادثات سے بچنے کیلئے اپنے بچوں کی مدد کرنے کی ذمہداری آپ والدین پر یاپھر اُن دوسرے بالغ اشخاص پر ہے جن کیساتھ آپ کے بچے کبھیکبھار کچھ وقت کیلئے رہتے ہیں۔
سب سے پہلے، اپنے گھر میں نظر دوڑائیں۔ ملحقہ بکس میں موجود چیکلسٹ استعمال کریں۔ شاید بعض حفاظتی آلات تمام ممالک میں دستیاب نہیں ہوتے یا پھر معقول قیمت پر نہیں ملتے۔ تاہم، تھوڑی بہت خوشتدبیری اور تخیلاتی قوت کیساتھ، آپ غالباً ایسے حل کی بابت سوچ سکتے ہیں جو آپ کے مخصوص حالات کے پیشِنظر کارگر ثابت ہونگے۔
مثال کے طور پر، اگر آپ کے باورچی خانے کے درازوں پر خمیدہ ہینڈل لگے ہوئے ہیں تو آپ اُنکے اندر کچھ پھنسا سکتے ہیں۔ اسی طرح کا بندوبست اوون کے دروازے کو بند کرنے کیلئے بھی کِیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ پلاسٹک کی تھیلیوں کو گِرہ لگا کر رکھتے ہیں تو وہ اتنی خطرناک نہیں رہتیں۔
شاید آپ دیگر ایسے طریقوںکی بابت سوچ سکتے ہیں جن سے گھر کے اندر اور اسکے گردونواح میں حادثات کو روکا جا سکتا ہے اور پھر انہیں اپنے اُن دوستوں اور واقفکاروں کو بھی بتا سکتے ہیں جنکے بچے چھوٹے ہیں۔
گھر کے باہر
اُن جگہوں کا جائزہ لیں جہاں آپکا بچہ کھیلتا ہے۔ چار سال سے اُوپر کے بچوں کو زیادہتر چوٹیں اُس وقت لگتی ہیں جب وہ گھر سے باہر کھیلتے ہیں۔ وہ گِر کر خود کو زخمی کر لیتے ہیں یا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی بائیسکل سے گِر جائیں۔ تین سے سات برس کی عمر کے بچوں میں گھر سے باہر ہونے والے حادثات میں سب سے زیادہ خطرناک حادثہ کسی گاڑی کے نیچے آ جانا اور پانی میں ڈوب جانا ہے۔
جب آپ کھیل کے میدانوں کا جائزہ لیتے ہیں تو اس بات کا خاص طور پر یقین کر لیں کہ تمام چیزیں اچھی حالت میں ہیں تاکہ اُن کیساتھ کھیلتے وقت بچے کو کوئی چوٹ نہ لگے۔ کیا جھولوں، پھسلنوں اور اسی طرح کی دیگر چیزوں کے نیچے نرم مٹی یا ریت بچھی ہوئی ہے تاکہ گرنے سے بچے کو چوٹ نہ لگے؟
کیا آپکے گھر کے قریب تالاب یا نہریں ہیں؟ ایک یا دو سال کے بچے کے ڈوبنے کیلئے محض چند انچ پانی ہی کافی ہے۔ ماہرِنفسیات بیکسٹروم بیان کرتی ہیں کہ ”جب ایک ننھا بچہ مُنہ کے بل پانی کے تالاب میں گِرتا ہے تو وہ اُوپر اور نیچے کا امتیاز کرنے کی حس کھو بیٹھتا ہے۔ بچہ دوبارہ اُوپر نہیں اُٹھ پاتا۔“
اسلئے، سب سے بنیادی بات تو یہ ہے: ایک سے تین سال کی عمر کے بچوں کو کسی بالغ کی نگرانی کے بغیر باہر کھیلنے نہ دیں۔ اگر آسپڑوس میں کہیں پانی موجود ہے تو بچے کو اُس وقت تک نگرانی کے بغیر گھر سے باہر کھیلنے کی اجازت نہ دیں جبتک وہ کافی بڑا نہیں ہو جاتا۔
ٹریفک میں
آپکے گھر کے باہر ٹریفک ہونے کی صورت میں بھی ایسا ہی کِیا جانا چاہئے۔ بیکسٹروم بیان کرتی ہیں کہ ”جو بچہ سکول جانے کی عمر کا نہیں ہوتا وہ صرف واضح باتوں کو ہی سمجھ سکتا اور ایک وقت میں ایک ہی بات یاد رکھ سکتا ہے۔ تاہم ٹریفک کو سمجھنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔“ جبتک آپکا بچہ سکول جانے کی عمر کو نہیں پہنچ جاتا اُسے اکیلے سٹرک پار نہ کرنے دیں۔ ماہرین کے مطابق، جبتک بچے کمازکم ۱۲ سال کے نہیں ہو جاتے وہ اتنے پُختہ نہیں ہوتے کہ اُن سے بھاری ٹریفک میں تنہا سائیکل چلانے کی توقع کی جائے۔
اپنے بچے کو سائیکل چلاتے وقت، کسی جانور پر سواری کرتے وقت، سکیٹ کرتے وقت یا برف گاڑی چلاتے وقت حفاظتی ہیلمٹ استعمال کرنا سکھائیں۔ سر کی چوٹوں کا علاج مشکل سے ہوتا ہے اور یہ مستقل نقصان پہنچا سکتی یا جانلیوا ثابت ہو سکتی ہے! بچوں کی ایک کلینک پر، بائیسکل کے حادثے کے بعد علاج کے لئے آنے والے بچوں میں سے ۶۰ فیصد کا سر اور چہرہ زخمی ہوا تھا جبکہ ہیلمٹ استعمال کرنے والوں کے سر پر کوئی شدید چوٹیں نہیں آئی تھیں۔
نیز اس بات کا بھی یقین کر لیں کہ کار میں سفر کرتے ہوئے بھی آپکا بچہ محفوظ ہے۔ کئی ایک ممالک میں ایسے قوانین ہیں جو اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ چھوٹے بچوں کو خاص طور پر تیارکردہ حفاظتی سیٹوں پر باندھ کر رکھا جائے۔ اس سے ٹریفک کے حادثات کے دوران بچوں کی چوٹوں اور اموات کی شرح میں خاطرخواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ آپ جہاں رہتے ہیں اگر وہاں حفاظتی سیٹیں دستیاب ہیں تو انہیں استعمال کرنا زندگی کی ضمانت دے سکتا ہے۔ تاہم اس بات کا یقین کر لیں کہ یہ منظورشُدہ ماڈل ہونا چاہئے۔ یاد رکھیں کہ شیرخوار بچوں کی سیٹ تقریباً تین سال سے بڑی عمر کے بچوں کی سیٹوں سے مختلف ہوتی ہیں۔
ہمارے بچے یہوواہ کی طرف سے ایک گراںبہا بخشش ہیں اور ہم ہر طرح سے اُنکی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔ (زبور ۱۲۷:۳، ۴) اچھے والدین کے طور پر، کارل ایرک اور برگیٹا، حنا کے واقعہ سے پہلے اور اسکے بعد بھی ہمیشہ اپنے بچوں کے تحفظ کی بابت فکرمند رہتے ہیں۔ کارل ایرک تسلیم کرتا ہے کہ ”اُس واقعہ کے بعد ہم اَور زیادہ محتاط ہو گئے تھے۔“ آخر میں برگیٹا کہتی ہے کہ ”اب جبکہ ہمارے بچوں کے بھی بچے ہیں تو ہم ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ ہماری ادویات تالے میں بند ہیں۔“
[صفحہ 22 پر بکس]
اپنے گھر میں تحفظ
• ادویات: انہیں بچوں کی پہنچ سے دُور تالے والی الماری میں رکھیں۔ قدرتی جڑی بوٹیوں یا وٹامنز سے تیارکردہ ادویات پر بھی یہی اصول عائد ہوتا ہے۔ نیز، اپنے ہاں رات ٹھہرنے والے مہمانوں سے بھی درخواست کریں کہ وہ اپنی ادویات کو بچوں کی پہنچ سے دُور رکھیں۔
• گھریلو استعمال کی کیمیائی اشیاء: اُنہیں بھی بچوں کی پہنچ سے دُور تالے والی الماری میں رکھیں۔ اُنہیں اُنکی اصلی بوتلوں یا ڈبوں میں رکھیں تاکہ اُنکی واضح شناخت ہو سکے۔ جب آپ ان اشیاء کو استعمال کرتے ہیں تو ان پر کڑی نظر رکھیں اور اگر آپ ایک لمحے کیلئے بھی کمرے سے باہر جاتے ہیں تو انہیں کسی مخصوص جگہ پر رکھ کر جائیں۔ بچے ہوئے ڈیٹرجنٹس کو ڈشواشر میں نہ چھوڑیں۔
• چولہا: دیگچیوں کے ہینڈل کو ہمیشہ چولہے کی پچھلی طرف رکھیں۔ اگر ممکن ہو تو ساسپین گارڈ نصب کریں۔ اوون کا دروازہ اگر کھلا ہو تو بچوں کا پاؤں اُس پر آ سکتا ہے اسلئے چولہوں پر ٹلِٹ گارڈ نصب کریں۔ اوون کے دروازے پر بھی تالا لگا ہونا چاہئے۔ کیا اوون کے دروازے کو چھونے سے بھی بچہ خود کو جلا سکتا ہے؟ تو پھر، اِس پر جالی لگائیں تاکہ بچہ گرم دروازے کو ہاتھ نہ لگا سکے۔
• خطرناک گھریلو آلات: چاقو، قینچی اور دیگر خطرناک چیزوں کو تالے والی الماری یا دراز میں یاپھر ایسی جگہ پر رکھا جانا چاہئے جہاں بچوں کا ہاتھ نہ پہنچ سکے۔ اِن آلات کو استعمال کرتے وقت اگر آپ انہیں وقتی طور پر کہیں رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں میز یا کسی بھی بالائی پرت کے کنارے سے دُور رکھیں جہاں بچوں کا ہاتھ نہ پہنچتا ہو۔ ماچس اور پلاسٹک بیگ بھی چھوٹے بچوں کیلئے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
• سیڑھیاں: سیڑھیوں کے دونوں کناروں پر کمازکم ۳۰ انچ اُونچے جنگلے لگائیں۔
• کھڑکیاں اور بالکنی کے دروازے: بچے کے تحفظ کے لئے ان پر بھی زنجیریں یا جالیاں لگائیں تاکہ بچہ انہیں کھول نہ سکے یا جب کمرے میں تازہ ہوا کیلئے انہیں کھولا گیا ہو تو بچہ اِن میں سے پھنسپھنسا کر باہر بھی نہ نکل سکے۔
• کتابوں کی الماری: اگر بچہ اُونچی جگہوں پر چڑھنا اور چیزوں کیساتھ جھولنا پسند کرتا ہے تو اُسے گِرنے سے بچانے کیلئے کتابوں کی الماری اور دیگر اُونچے فرنیچر کو دیوار کیساتھ مضبوطی سے پیوستہ رکھیں۔
• بجلی کے سوراخ اور تاریں: استعمال میں نہ آنے والے سوراخوں کو کسی نہ کسی طرح بند رکھنا چاہئے۔ ٹیبل لیمپ اور اسی طرح کی دوسری چیزوں کی تاروں کو دیوار یا فرنیچر کیساتھ جڑا ہوا ہونا چاہئے تاکہ بچہ لیمپ کو اپنے اُوپر گِرا کر خود کو زخمی نہ کر سکے۔ بصورتِدیگر ایسے لیمپ کو ہٹا دیں۔ کبھی بھی استری کو استری سٹینڈ پر اور اسکی تار کو لٹکتا ہوا نہ چھوڑیں۔
• گرم پانی: اگر آپ اپنے گرم پانی کے درجۂحرارت میں ردوبدل کر سکتے ہیں تو اسے تقریباً ۱۲۰ ڈگری فارنہیٹ پر رکھیں تاکہ اگر بچہ نل کھول بھی لے تو وہ اس سے جل نہ جائے۔
• کھلونے: تیز کناروں یا نوکدار کھلونوں کو تلف کر دیں۔ چھوٹے کھلونے یا ٹکڑوں میں بکھر جانے والے کھلونوں کو پھینک دیں کیونکہ مُنہ میں ڈالنے کی صورت میں یہ بچے کے گلے میں پھنس سکتے ہیں۔ بچے کے بھالو کی آنکھیں اور ناک مضبوطی سے جڑے ہونے چاہئیں۔ بڑے بہن بھائیوں کو سکھائیں کہ جب بچہ فرش پر ہے تو اپنے چھوٹے کھلونے اُسکے پاس سے ہٹا لیں۔
• اشیائےخوردنی: مونگپھلی، سخت گولیاں اور ٹافیاں بچوں کی پہنچ سے دُور رکھیں۔ یہ بچے کے گلے میں پھنس سکتی ہیں۔
[تصویر کا حوالہ]
ماخذ: بچوں کے محتسب اعلیٰ کا دفتر
[صفحہ 22 پر بکس]
حادثے کی صورت میں
• زہر: اگر بچے نے کوئی زہریلی دوائی پی لی ہے تو اُس کے مُنہ کو اچھی طرح دھوئیں اور اُسے پینے کیلئے دودھ یا پانی کے ایک یا دو گلاس دیں۔ اسکے بعد مشورے کیلئے کسی ڈاکٹر یا زہر سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے سے رابطہ کریں۔ اگر کوئی زنگآلود چیز بچے کی آنکھ میں چلی جاتی ہے تو اُسے فوراً کمازکم دس منٹ تک پانی سے خوب دھوئیں۔
• جلے کے زخم: معمولی جلنے پر کمازکم ۲۰ منٹ تک ٹھنڈا پانی (زیادہ ٹھنڈا نہ ہو) زخم پر ڈالیں۔ اگر زخم بچے کی ہتھیلی سے بڑا ہے یا چہرے، جوڑ یا پیٹ کے نچلے حصے یا اعضائےمخصوصہ پر ہے تو آپکو بچے کو ایمرجنسی میں لے جانا چاہئے۔ جِلد کے گہرے زخموں کا علاج بھی ہمیشہ ڈاکٹر سے ہی کروانا چاہئے۔
• گلے میں کچھ پھنس جانا: اگر کوئی چیز بچے کی سانس کی نالی میں پھنس گئی ہے تو اسے فوراً باہر نکالنا اشد ضروری ہے۔ اس کیلئے ایک مؤثر طریقہ ہیملک تدبیر (ایک تدبیر جس میں پیٹ کے بالائی حصے کو دبا کر سانس کی نالیوں میں ہوا بھیجی جاتی ہے) ہے جسے آپ فوراً استعمال کر سکتے۔ اگر آپ اس طریقے سے واقف نہیں تو مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں یا بچوں کے حادثات یا ابتدائی طبّی امداد سے متعلق کورس کریں جس میں یہ طریقہ سکھایا جاتا ہے۔
[تصویر کا حوالہ]
ماخذ: سویڈن ریڈکراس
[صفحہ 23 پر تصویر]
محفوظ بائیسکل ہیلمٹ پہننا
[صفحہ 23 پر تصویر]
کار سیٹ میں تحفظ