انہوں نے اِسے تفریح کا نام دیا
قدیم رومی مدوّر تماشاگاہ میں بڑا جوشوخروش تھا۔ ہزاروں لوگ قدیم روم کے نہایت سنسنیخیز تماشے کو دیکھنے کیلئے جمع تھے۔ تماشاگاہ کو جھنڈیوں، گلاب کے پھولوں اور خوشرنگ مشجر پردوں سے آراستہ کِیا گیا تھا۔ فوارے خوشبودار پانی اُگل رہے تھے جس سے پوری فضا معطر تھی۔ متموّل حضرات اپنی شاندار پوشاک میں ملبّس تھے۔ ہجوم کی کھسرپھسر بلند قہقہوں میں بدل گئی مگر اس انبوہ کی بیہودگی نے جوکچھ واقع ہونے والا تھا اُسکی دہشت پر پردہ ڈال دیا۔
تھوڑی دیر بعد ٹوبے کی زوردار آواز نے دو مبارزین کو لڑنے کی دعوت دی۔ جب حریفوں نے بیرحمانہ وحشیپن سے ایک دوسرے کو زخم لگانے شروع کئے تو ہجوم آپے سے باہر ہونے لگا۔ تماشائیوں کے بلند نعروں سے تلواروں کے ٹکرانے کی آواز بمشکل سنائی دے رہی تھی۔ یکایک، ایک مبارز نے شاطرانہ انداز میں اپنے حریف کو زمین پر پٹخ دیا۔ نیچے گِرے ہوئے مبارز کی زندگی اور موت تماشائیوں کے ہاتھ میں تھی۔ اگر وہ اپنے رُومالوں کو لہراتے ہیں تو وہ زندہ رہیگا۔ لیکن عورتوں اور لڑکیوں سمیت پورے مجمع نے اپنے انگوٹھوں کے ایک ہی اشارے سے موت کا حکم دے دیا۔ چند ہی لمحوں میں بےجان جسم کو تماشاگاہ کے فرش سے گھسیٹ کر باہر پھینکوا دیا گیا اور خون سے تر زمین کو بیلچوں سے کھدوا کر اُوپر تازہ ریت بکھیر دی گئی اور ہجوم نے خود کو بقیہ خونی کھیل دیکھنے کیلئے تیار کر لیا۔
قدیم روم میں رہنے والے بہتیرے لوگوں کے لئے یہ ایک تفریح تھی۔ ”حتیٰکہ اخلاقیات کی سختی سے پیروی کرنے والے بھی ایسے قتلوغارت سے لطفاندوز ہونے پر کوئی اعتراض نہیں کرتے تھے،“ روم: دی فرسٹ تھاؤزینڈ ایئرز کتاب بیان کرتی ہے۔ نیز مبارزین کا کھیل روم کی پیشکردہ گھٹیا تفریح کی محض ایک قسم تھی۔ خون کے پیاسے تماشائیوں کو خوش کرنے کیلئے سٹیج پر حقیقی بحری جنگوں کی منظرکشی بھی کی جاتی تھی۔ لوگوں کو سرِعام سزائیں دینے کا مظاہرہ بھی کِیا جاتا تھا جس میں سزائےموت پانے والے کسی مجرم کو ایک کھمبے کیساتھ باندھ دیا جاتا تھا اور بھوکے جنگلی جانور اُسے پھاڑ کھاتے تھے۔
ایسے لوگ جو خونآشام ذہنیت کے مالک نہیں تھے اُن کیلئے روم کئی قسم کے سٹیج ڈرامے پیش کرتا تھا۔ مائمز—روزمرّہ زندگی سے متعلق مختصر ڈراموں—میں ”زناکاری اور عشقبازی نمایاں موضوع ہوتے تھے،“ لٹوِک فریڈلینڈر نے رومن لائف اینڈ مینرز انڈر دی ارلی ایمپائر میں لکھا۔ ”زبان فحش کلمات سے پُر ہوتی تھی اور چہرے کو بگاڑنے، بیہودہ اشارے کرنے اور سب سے بڑھ کر بانسری کی دھن پر عجیبوغریب رقص کیساتھ مزاح نہایت اخلاقسوز ہوا کرتا تھا۔“ دی نیو انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق، ”اس بات کی شہادت موجود ہے کہ رومی سلطنت میں مائم سٹیج پر سچمچ زناکارانہ کام کئے جاتے تھے۔“ اسی وجہ سے فریڈلینڈر نے مائم کو ”بداخلاقی اور فحاشی کے ڈراموں میں سب سے زیادہ نفرتانگیز“ کہا اور اُس نے مزید بیان کِیا: ”جو مناظر جتنے گِرے ہوئے ہوتے اُنہیں اتنی ہی داد حاصل ہوتی۔“a
آجکل کی بابت کیا ہے؟ کیا تفریح کے سلسلے میں انسان کا ذوق بدل گیا ہے؟ ثبوت پر غور کریں، جیساکہ اگلے مضمون میں بحث کی گئی ہے۔
[فٹنوٹ]
a بعضاوقات، ڈرامائی پیشکش کو حقیقت کا رنگ دینے کیلئے ڈرامے میں موت کی سزا دی جاتی تھی۔ کتاب دی سِولائزیشن آف روم بیان کرتی ہے: ”اکثر سزائےموت پانے والے مجرم کے لئے کسی خطرناک موقع پر اداکار کی جگہ لے لینا کوئی غیرمعمولی بات نہ تھی۔“