بڑےبوڑھوں کیساتھ کیا واقع ہو رہا ہے؟
اٹلیؔ میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
”مجھے یقین نہیں تھا کہ بطور دادا مَیں اپنے اسباط کی طرف سے ایسی شفقت حاصل کر سکتا ہوں۔ وہ ایک بخشش ہیں—محبت کے بندھنوں کو مضبوط کرنے والے دلکش اور معصوم پیامبر۔“—اؔیٹورا، دادا۔
مذکورہبالا خوشگوار رشتے کے باوجود، آجکل بڑےبوڑھوں، والدین اور اسباط کی ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھی نہیں گزرتی۔ تعاون کرنے کی بجائے، تینوں نسلوں کا اکثر اختلاف رہتا ہے۔ کن نتائج کے ساتھ؟ عمررسیدہ یعنی بڑےبوڑھوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تنہائی اور ناخوشی—خاندان کے وہ افراد جو اکثر سب سے زیادہ غیرمحفوظ اور تنہا ہوتے ہیں، وہ جن کی خاندان کے افراد شاید اُسی وقت خبر لیتے ہیں جب اُنہیں معاشی مشکلات میں اُن سے کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ آپکے خاندان میں حالت کیسی ہے؟ کیا بڑےبوڑھوں کی واقعی قدر کی جاتی ہے؟
گزشتہ چند عشروں میں، نمایاں عالمگیر معاشرتی تبدیلیوں نے، سرقبائلی خاندان کے تقریباً مکمل خاتمے کا باعث بنتے ہوئے، خاندان اور اسکے بیچ تعلقات کو متاثر کِیا ہے۔ یورپ میں، صرف ۲فیصد عمررسیدہ لوگ اپنے بچوں کیساتھ رہتے ہیں۔ اوسط متوقع عمر میں حالیہ اضافے اور بچوں کی پیدائش میں کمی کے نتیجے کے طور پر، صنعتی ممالک میں بھی، عام آبادی کے مقابلے میں بڑےبوڑھوں کا تناسب کہیں زیادہ ہے۔ یورپ کی آبادی کے ۲۶فیصد کو بڑےبوڑھے اور بڑیبوڑھیاں تشکیل دیتے ہیں اور یورپی یونین کی طرف سے شائعکردہ ایک سروے کے مطابق، اعدادوشمار میں ”یقینی طور پر اضافہ“ ہوگا۔ آشی ایوننگ نیوز کہتا ہے کہ جاؔپان، ”اپنے عمررسیدہ شہریوں کی نگہداشت کرنے کی اپنی روایت پر نازاں ہے۔“ تاہم، بالخصوص شہروں میں، جب اسکی درحقیقت کوئی ضرورت بھی نہیں ہوتی، پھر بھی بڑےبوڑھوں کو ہسپتالوں یا اسپیشلائزڈ کلینکوں میں چھوڑنے کے رحجان میں عالمگیر اضافہ ہو رہا ہے۔ کیپ ٹاؤن کے اخبار دی کیپ ٹائمز کے مطابق، جنوبی افرؔیقہ میں بھی، جہاں روایتاً عمررسیدہ کیساتھ عزت سے پیش آتے تھے، وہاں اب بوڑھوں کو نظرانداز کرنے کا افسوسناک رجحان پایا جاتا ہے۔ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ خاندان ”جہاں تک ممکن ہو زندگی سے زیادہ سے زیادہ“ فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ”خود کو اس بات سے دھوکا دے رہے ہیں کہ ایک بار جب وہ دادی کو کسی ادارے میں بحفاظت پہنچا دیتے ہیں تو اُنہوں نے وہ سب کچھ کر دیا ہے جس کی اُن سے توقع کی جاتی ہے۔“
وہی اخبار ایک خصوصی واقعہ کا ذکر کرتا ہے جس میں تین بچے اپنی عمررسیدہ دادی کو ”کفالت کرنے اور باقاعدہ ملاقاتیں کرنے کے وعدوں کیساتھ“ بوڑھوں کیلئے بنائے گئے ایک بہترین ریسٹ ہوم میں داخل کروا دیتے ہیں۔ لیکن اُسکے ساتھ کیا واقع ہوتا ہے؟ ”پہلےپہل تو روزانہ ملاقاتیں کی جاتی ہیں۔ چند ہفتوں بعد وہ کم ہو کر ہفتے میں تین مرتبہ رہ جاتی ہیں۔ اسکے بعد یہ ہفتے میں ایک رہ جاتی ہے۔ سال بعد مہینے میں دو یا تین مرتبہ، بالآخر سال میں پانچ یا چھ مرتبہ اور آخرکار کوئی بھی نہیں۔“ اس دادی نے اُکتا دینے والے اپنے دِن کیسے گزارے؟ دِل کو چیر دینے والا بیان کہتا ہے: ”اُس کے کمرے کی ایک کھڑکی ایک درخت کی طرف کھلتی تھی اور اُس کے واحد جاندار ساتھی وہ فاختائیں اور گرسل تھے جو اس پر رینبسیرا کرتے تھے۔ وہ اُنکی آمد کی ایسی منتظر رہتی تھی گویا کہ وہ قریبی رشتےدار تھے۔“
جنوبی افرؔیقہ کی طرزِزندگی کی مغربیت کے نتیجے میں، جوکہ بہتیروں کو شہر میں ملازمت تلاش کرنے پر اُکساتی ہے، اس کے قبائلی خاندانوں میں بھی یہی چیز واقع ہو رہی ہے۔ معاشرتی حالات بدلنے کے علاوہ، بڑےبوڑھوں کو نظرانداز کرنے کی دیگر وجوہات اُن انساندوست خوبیوں کو چھوڑنا ہے جو خوشگوار معاشرتی اور خاندانی زندگی کو فروغ دیتی ہیں—نیکی، اپنے پڑوسی کیلئے احترام، خاندانی اُلفت—اور خودغرضی، صرف عیشونشاط کیلئے زندہ رہنے، تکبّر اور سرکشی کی روح کا ہر جگہ پھیل جانا ہے۔ صحائف کے مطابق، ایسی اخلاقی تنزلی اس بات کا نشان ہے کہ ہم ”آخری ایّام“ میں رہ رہے ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵) لہٰذا، بہتری اور استحکام کے ذریعے کے طور پر اپنے بڑےبوڑھوں کا پاسولحاظ رکھنے کی بجائے، بچے اور اسباط اکثر اُنہیں تیزتر معاشرتی تبدیلی کی راہ میں تکلیفدہ رُکاوٹ سمجھتے ہیں۔a
نسلی خلا بہت زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے اور یہ خاطرخواہ تناؤ کا باعث بنتا ہے، خصوصاً اُس وقت یہ زیادہ ہوتا ہے جب عمررسیدہ اپنے خاندانوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس کے باوجود، بڑےبوڑھوں کی مدد بہت زیادہ نفعبخش ہو سکتی ہے! تو پھر، نسلوں کے درمیان کونسے بنیادی مسائل ہیں جو دادا دادی، بچوں اور اسباط کے درمیان پُرمحبت رشتوں کی راہ میں حائل ہوتے ہیں؟ اور کیسے بڑےبوڑھے خاندانی دائرے کے اندر اپنے اس انمول کردار کو ایک بار پھر مستقل بنیادوں پر اُستوار کر سکتے ہیں؟
[فٹنوٹ]
a یہ تسلیم کِیا جانا چاہئے کہ ضعیفی کی بعض حالتوں اور صحت کے شدید مسائل کے سلسلے میں، پیشہور سٹاف کیساتھ ہو سکتا ہے کہ ایک نرسنگ ہوم بعض عمررسیدہ والدین کیلئے انتہائی پُرمحبت اور عملی بندوبست ہو۔