یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو94 8/‏1 ص.‏ 3-‏4
  • اخلاقیات کو کیا ہو گیا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اخلاقیات کو کیا ہو گیا ہے؟‏
  • جاگو!‏—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • جب ”‏چوری چوری نہیں“‏
  • جنسی اخلاقیات کا بگا‌ڑ
  • اخلاقی معیار کیا ہے؟‏
  • انسانوں کی ایک نمایاں خصلت
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • اخلاق کدھر کا رخ کئے ہوئے ہیں؟‏
    جاگو!‏—‏1994ء
  • جامع اخلاقی رہبر
    جاگو!‏—‏1994ء
  • کیا اخلاقیات پہلے سے بدتر ہیں؟‏
    جاگو!‏—‏2000ء
مزید
جاگو!‏—‏1994ء
جاگو94 8/‏1 ص.‏ 3-‏4

اخلاقیات کو کیا ہو گیا ہے؟‏

سرکاری اہلکار۔ سیاسی امیدوار۔ مذہبی راہنما۔ ہم اس پایہ کے لوگوں سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ چال‌چلن کی عمدہ مثالیں ہوں۔ تاہم، حالیہ وقتوں میں، ان مرتبوں پر فائز بہت سے آدمیوں نے شدید شرمناک اسکینڈلوں کے سلسلے میں اولین کرداروں کے طور پر کام کیا ہے۔ ان کے خراب چال‌چلن نے بری عادات کے دائرہ‌کار کو وسیع کر دیا ہے—‏زناکاری اور گستاخانہ جھوٹ سے لے کر پرفریب مالی لین‌دین اور غبن تک۔‏

کتاب دی ڈیتھ آف دی ایتھکس ان امریکہ یوں نوحہ‌خواں ہے:‏ ”‏جبکہ قوم پہلے ہی ایکوائرڈ ایمیون ڈیفیشنسی سنڈروم، (‏حاصل‌کردہ مدافعت کی کمی کی علامات اور نشانات)‏ کی اس مہلک بیماری کے قبضہ میں ہے .‏.‏.‏ تو ایک اور طرح کی ایڈز [‏ایکوائرڈ انٹیگرٹی ڈیفیشنسی سنڈروم]‏ (‏حاصل‌کردہ راستی کی کمی کی علامات اور نشانات)‏ وبا بنتی ہوئی نظر آتی ہے۔ تاہم، اس نے اسی طرح سے تدارک کیلئے فوری توجہ کی پکاروں پر آمادہ نہیں کیا ہے۔“‏ (‏نسخ عبارت ہماری۔)‏ ٹائم میگزین دعوی کرتا ہے کہ ریاستہائے متحدہ ”‏اخلاقی دلدل میں لوٹ رہی ہے۔“‏

اخلاقی دلدل بمشکل ہی ریاستہائے متحدہ تک محدود ہے۔ حالیہ وقتوں میں اسرائیل، انڈونیشیا، انڈیا، جاپان، جرمنی، چین، فرانس، اور یونان بھی ایسے اسکینڈلوں سے کانپ اٹھے ہیں جن میں ممتاز شخصیات ملوث تھیں۔ اور اس سے حیران نہیں ہونا چاہئے کہ معاشرے کے لیڈروں کا اخلاق‌سوز چال‌چلن محض عام لوگوں کے چال‌چلن کا آئینہ‌دار ہے۔ تھائی‌لینڈ کے وزیراعظم نے اپنے ملک میں بدکاری کو ”‏سرطانی“‏ قرار دیا ہے۔ اس نے اضافہ کیا کہ تمام معاشرہ ایسی بیماری میں مبتلا ہے جو لالچ اور بگڑی ہوئی معاشرتی قدروں میں جڑ پکڑے ہوئے ہے۔‏

لوگ یہ سوچنے میں بالکل حق بجانب ہیں:‏ ”‏اخلاق کے اس عالمگیر بگا‌ڑ کی وجہ کیا ہے؟ اس سے بھی اہم یہ کہ یہ سب کدھر کا رخ کئے ہوئے ہے؟“‏

جب ”‏چوری چوری نہیں“‏

کولمبس اوہائیو، یو۔ایس۔اے۔ میں، ایک بکتربند گاڑی کا پچھلا دروازہ اچانک کھلا اور نوٹوں سے بھرے ہوئے دو بیگ نیچے گر گئے۔ جب اندازے کے مطابق دو ملین ڈالر ہوا میں اڑے اور شاہراہ پر بکھر گئے تو درجنوں موٹرسوار اپنی کاروں سے باہر نکل بھاگے تاکہ نوٹوں سے اپنی جیبیں اور بٹوے بھر لیں۔ بعض گاڑیوں والوں نے تو سی‌بی ریڈیو کے ذریعے دوسروں کو بھی دعوت دی کہ اس چھوٹی سی چوری میں ان کے ساتھ شامل ہوں۔‏

پیسے کو واپس کرنے کی سرکاری استدعاؤں اور رقم واپس لوٹانے والے کو ۱۰ فیصد انعام دینے کے اعلان کو عملاً نظرانداز کر دیا گیا۔ بہتیروں نے ”‏جسے ملے وہی رکھ لے“‏ والے رجحان کو اپنایا۔ رقم کا محض ایک معمولی سا حصہ ہی واپس ملا۔ ایک شخص نے اس چوری کی یہ کہتے ہوئے توجیہ پیش کی کہ یہ دولت ”‏خدا کی طرف سے ایک بخشش“‏ تھی۔ تاہم، اس طرح کے واقعات اکادکا نہیں ہوتے۔ جب سان‌فرانسسکو، کیلیفورنیا اور ٹرانٹو، کینیڈا میں، بکتربند گاڑیوں میں سے پیسے گر پڑے تو اس وقت بھی راہگیروں نے اسی طرح کے لالچ کا مظاہرہ کیا تھا۔‏

یہ کہ عام طور پر دیانتدار اور راست‌رو لوگ بھی اتنی آسانی سے چوری کرنے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں پریشان‌کن نتائج کا باعث ہوا ہے۔ کم‌ازکم یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اخلاقیات کے مقبول‌عام نظریات کس قدر خراب ہیں۔ نیویارک میں کولمبیا یونیورسٹی کا فلسفے کا اسسٹنٹ پروفیسر تھامس پوگ یہ استدلال کرتا ہے کہ اگرچہ لوگوں کی اکثریت کسی شخص کے دوسرے شخص کی چیز کو چوری کرنے کو غیراخلاقی فعل قرار دیتی ہے تو بھی وہ کسی ادارے سے کوئی چیز چوری کرنے کو اتنا برا خیال نہیں کرتی۔‏

جنسی اخلاقیات کا بگا‌ڑ

جنسی کارگزاری میں بھی اخلاقیات کی بربادی کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ ایک حالیہ جائزے نے ظاہر کیا ہے کہ لوگ حیران‌کن حد تک ان سیاسی امیدواروں کو برداشت کئے ہوئے ہیں جو زناکاری میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایک مصنف مشورہ دیتا ہے کہ ایسے ووٹر شاید اسلئے زناکاری کو برا کہنے سے ہچکچائیں کیونکہ ”‏وہ خود ایسا کرنے میں مصروف ہیں۔“‏

بلا‌شبہ، حالیہ اعدادوشمار یہ آشکارا کرتے ہیں کہ ریاستہائے متحدہ میں تمام شادی‌شدہ افراد کا ۳۱ فیصد شادی سے باہر تعلقات میں وقت گذارتا رہا ہے یا ابھی تک اس میں ملوث ہے۔ امریکیوں کی اکثریت یعنی ۶۲ فیصد ”‏یہ سوچتی ہے“‏ کہ ایسا کرنے میں ”‏اخلاقی طور پر کوئی خرابی نہیں۔“‏ شادی سے پہلے جنسی تعلقات کی بابت بھی انکے نظریات بالکل اسی طرح کے ہیں۔ ۱۹۶۹ کے ایک جائزے نے یہ ظاہر کیا کہ اس وقت یو۔ایس کے عوام کا کوئی ۶۸ فیصد شادی سے پہلے جنسی تعلقات کو ناپسند کرتا تھا۔ آجکل، صرف ۳۶ فیصد اسے ناپسند کرتا ہے۔ ۱۹۶۰ کے دہے میں، سروے کی گئی عورتوں کا پچاس فیصد اپنے شادی کے دن پر پاک دامن تھا۔ آجکل صرف ۲۰ فیصد ایسی ہیں۔‏

اخلاقی معیار کیا ہے؟‏

اخلاقی تنزلی کاروباری سیکٹر میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ دو دہے پہلے، کالج کے سال‌اول کے صرف ۳۹ فیصد طالبعلم یہ خیال کرتے تھے کہ ”‏مالی کامیابی بیحد اہم یا لازمی ہے۔“‏ ۱۹۸۹ تک یہ عدد درحقیقت دوگنا ہو گیا۔ صاف عیاں ہے کہ ہولناک اخلاقی نتائج کے ساتھ—‏دولت کا حصول بہتیرے نوجوانوں کی سوچ پر مسلط ہے۔‏

جب ۱،۰۹۳ ہائی سکول (‏سیکنڈری سکول)‏ کے سینئر لوگوں کا جائزہ لیا گیا تو ۵۹ فیصد نے کہا کہ وہ دس ملین ڈالر کی خاطر ناجائز کاروباری معاہدہ کرنے کیلئے تیار ہیں—‏چھ ماہ کی سزا کے خطرے کے پیش نظر بھی!‏ اس کے علاوہ، ۶۷ فیصد نے کہا کہ وہ اخراجات کے حساب کو بڑھاچڑھا کر بیان کرینگے، ۶۶ فیصد نے کہا کہ کاروباری منازل کے حصول کی خاطر وہ جھوٹ بھی بول لینگے۔ تاہم، نوجوان محض اپنے بزرگوں کی قائم‌کردہ اخلاقی روش سے متاثر ہیں۔ جب ۶۷۱ منتظموں سے کاروباری اخلاقیات سے متعلق انکے نظریات کی بابت پوچھا گیا تو تقریباً ایک چوتھائی نے یہ دلیل دی کہ اخلاقیات ایک کامیاب ذرائع معاش کے حصول کیلئے ان کی راہ میں حائل ہو سکتی ہیں۔ آدھے سے زیادہ نے مزید ترقی کرنے کیلئے اپنی مرضی کے مطابق قوانین کی تشریح کرنے کا اعتراف کیا۔‏

اس پریشان‌کن رجحان پر قابو پانے کی کوشش میں، بعض کالج اخلاقیات پر مبنی کورسز کی پیشکش کرتے ہیں۔ لیکن بہتیرے ایسی کوششوں کے مؤثر ہونے کی بابت شکوک کا شکار ہیں۔ ”‏میں تو نہیں سمجھتا کہ کیسے اخلاقیات پر مبنی کلاسیں مددگار ثابت ہونگی۔“‏ کینیڈا کے ایک مشہور بزنس مین نے بیان کیا، ”‏پختہ اقدار والے طالبعلم اس بات کو نہیں سیکھیں گے جو انکے نزدیک انوکھی ہے اور جن طالبعلموں کے پاس بنیادی طور پر پختگی ہے ہی نہیں، وہ شاید حاصل‌کردہ بصیرتوں کو محض ان غیراخلاقی کاموں کے ارتکاب کیلئے متبادل راستہ تلاش کرنے کی خاطر استعمال کریں جو انہوں نے بہرصورت کرنے ہی ہیں۔“‏

اسی طرح بہتیرے تجارتی اداروں نے باضابطہ اخلاقی قوانین مرتب کر لئے ہیں۔ تاہم، ماہرین دعوی کرتے ہیں کہ ایسے ضابطے محض پرفریب نمائش ہیں اور ان پر زیادہ توجہ شاذونادر ہی دی جاتی ہے—‏ماسوا نقصان‌دہ اسکینڈل کے نتائج کی صورت میں۔ ایک حالیہ جائزے نے طنزاً یہ آشکارا کیا کہ وہ کمپنیاں جن کے پاس اخلاقیات سے متعلق تحریری ضابطے تھے ان پر ان کمپنیوں کی نسبت جن کے پاس یہ نہیں تھے غیراخلاقی چال‌چلن کے الزامات زیادہ لگائے گئے تھے!‏

جی‌ہاں، ہر طرف اخلاقیات کی تنزلی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے اور ایسا معلوم دیتا ہے کہ کسی کو بھی یہ خبر نہیں کہ وہ کدھر کا رخ کئے ہوئے ہیں۔ ایک بزنس ایگزیکٹو کہتا ہے:‏ ”‏وہ علامتیں جو ہمیں درست اور غلط میں امتیاز بتاتی تھیں وہ اب باقی نہیں۔ انہیں بتدریج ختم کر دیا گیا ہے۔“‏ کیوں ایسی اخلاقی علامتیں ختم ہو گئیں ہیں؟ کیا چیز ان کی جگہ لے رہی ہے؟ اگلے مضمون میں ان ہی مسائل کو زیربحث لایا جائیگا۔ (‏3.g93 8/8 p)‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں