کیا آپ کو معلوم ہے؟
قدیم بابل کے کھنڈرات سے جو اینٹیں ملی ہیں اور جس طرح سے یہ اینٹیں تیار کی جاتی تھیں، اُس سے کیسے پتہ چلتا ہے کہ بائبل میں دی گئی معلومات بالکل درست ہے؟
آثارِقدیمہ کے ماہرین کو قدیم بابل کے کھنڈرات سے بھٹی میں تیار کی گئی بہت سی ایسی اینٹیں ملی ہیں جنہیں شہر تعمیر کرنے کے لیے اِستعمال کِیا جاتا تھا۔ آثارِقدیمہ کے ایک ماہر رابرٹ کولڈوے کو لگتا ہے کہ ایسی اینٹیں اُن بھٹیوں میں تیار کی جاتی تھیں جو ”شہر سے باہر ہوتی تھیں۔ یہ ایسی جگہ ہوتی تھی جہاں مٹی بہت اچھی ہوتی تھیں اور ایندھن . . . زیادہ مقدار میں ہوتا تھا۔“
قدیم ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ بابل کے اعلیٰ افسر اِن بھٹیوں کو ایک نہایت ہی بُرا کام کرنے کے لیے بھی اِستعمال کرتے تھے۔ اسور کی تاریخ اور زبان کے ماہر اور شہر ٹورانٹو کی ایک یونیورسٹی کے پروفیسر پال الان بولیو نے کہا: ”بابل سے دریافت ہونے والی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ بادشاہ نے حکم دیا ہوا تھا کہ اگر کوئی شخص اُس سے بغاوت کرے یا بابل کے دیوتاؤں کی بےحُرمتی کرے تو اُسے آگ کی بھٹی میں پھینک دیا جائے۔“ بادشاہ نبوکدنضر کے زمانے سے ملنے والی ایک تحریر میں یہ حکم تھا: ”اُنہیں بھسم کر دو، جلا دو، بھون دو . . . اُن کا دُھواں اُوپر اُٹھنے دو، اُنہیں آگ میں پھینک کر مار دو۔“
جو لوگ بائبل پڑھتے ہیں، اُن کے ذہن میں اِس بات سے وہ واقعہ آتا ہے جو دانیایل 3 باب میں لکھا ہے۔ اِس واقعے میں ہم پڑھتے ہیں کہ بادشاہ نبوکدنضر نے شہر بابل سے باہر دورا کے میدان میں سونے کی ایک بہت بڑی مورت نصب کرائی۔ تین عبرانی لڑکوں یعنی سدرک، میسک اور عبدنجو نے اِس مورت کو سجدہ کرنے سے اِنکار کر دیا۔ اِس پر بادشاہ غصے سے آگبگولا ہو گیا اور اُس نے حکم دیا کہ ”بھٹی کی آنچ معمول سے سات گُنا زیادہ“ کر دی جائے اور اُن تینوں لڑکوں کو ”آگ کی جلتی بھٹی“ میں پھینک دیا جائے۔ لیکن یہوواہ کے ایک طاقتور فرشتے نے اُن تینوں کو موت کے مُنہ سے بچا لیا۔—دان 3:1-6، 19-28۔
Source.4.0 SA-NC-BY CC The Trustees of the British Museum. Licensed under ©
بھٹی میں تیار کی گئی ایک اینٹ جس پر نبوکدنضر کا نام لکھا ہوا ہے
بابل کے کھنڈرات سے ملنے والی اینٹوں سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ بائبل میں دی گئی معلومات بالکل درست ہے۔ بہت سی اینٹوں پر ایسی عبارتیں لکھی ہیں جن میں بادشاہ کی بڑائی کی گئی ہے۔ ایک عبارت یہ ہے: ”نبوکدنضر! بابل کا بادشاہ۔ وہ محل جو عظیم بادشاہ یعنی مَیں نے بنایا۔ میری نسل ہمیشہ تک حکومت کرتی رہے۔“ یہ بات اُس بات سے ملتی جلتی ہے جو دانیایل 4:30 میں لکھی ہے۔ اِس آیت میں نبوکدنضر شیخی مارتے ہوئے یہ کہہ رہا ہے: ”کیا یہ بابلِؔاعظم نہیں جس کو مَیں نے اپنی توانائی کی قدرت سے تعمیر کِیا ہے کہ دارالسلطنت اور میرے جاہوجلال کا نمونہ ہو؟“