یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م22 جون ص.‏ 29
  • کیا آپ کو معلوم ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا آپ کو معلوم ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏خداوند سچ‌مچ جی اُٹھا ہے۔“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • یسوع مسیح زندہ ہو گئے!‏
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
  • کیا آپ کو معلوم ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • خدا نے یسوع مسیح کو زندہ کِیا
    عظیم اُستاد سے سیکھیں
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
م22 جون ص.‏ 29

کیا آپ کو معلوم ہے؟‏

کیا رومی کسی ایسے شخص کو قبر میں دفنانے کی اِجازت دیتے تھے جسے سُولی دی جاتی تھی جیسے کہ یسوع مسیح کے ساتھ ہوا تھا؟‏

یسوع مسیح کے شاگرد اُن کی لاش کو سُولی سے اُتار کر کپڑے میں لپیٹ رہے ہیں۔‏

بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ یسوع مسیح کو دو مُجرموں کے درمیان میں سُولی دی گئی تھی۔ (‏متی 27:‏35-‏38‏)‏ لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بائبل میں لکھی یہ بات صحیح نہیں ہے کہ بعد میں یسوع مسیح کی لاش کو کفن پہنایا گیا اور اِسے دفنایا گیا۔—‏مر 15:‏42-‏46‏۔‏

اِنجیلوں کے کچھ تنقیدنگاروں کو اِس بات پر شک ہے کہ جس شخص کو سُولی دی جاتی تھی، اُسے بعد میں کفن پہنا کر قبر میں دفنایا جاتا تھا۔ اُن کا ماننا ہے کہ اِس طرح کے مُجرموں کی لاشوں کے ساتھ کچھ اَور کِیا جاتا تھا۔ صحافی ایرئیل صابر نے ایک رسالے میں اِس نظریے کی وجہ یوں بیان کی:‏ ”‏سُولی پر موت کی سزا معاشرے کے سب سے بُرے لوگوں کو دی جاتی تھی۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ماننا بہت عجیب سی بات ہے کہ رومی اِس طرح کے لوگوں کو عزت کے ساتھ باقاعدہ کفنانے دفنانے کی اِجازت دیتے۔“‏ رومی اِن مُجرموں کو ذِلت بھری موت دینا چاہتے تھے۔ اِس لیے وہ اکثر اُن کی لاشوں کو سُولی پر ہی لٹکے رہنے دیتے تھے تاکہ جنگلی جانور اُنہیں کھا جائیں۔ بعد میں اُن کی لاش کا جو کچھ بچتا تھا، اُسے بس مٹی میں دبا دیا جاتا تھا۔‏

لیکن آثارِقدیمہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہر بار ایسا نہیں ہوتا تھا۔ جن یہودیوں کو سُولی دی گئی، اُن میں سے کچھ کی باقیات کو بعد میں باقاعدہ دفنایا بھی گیا۔ 1968ء میں پہلی صدی عیسوی کے ایک ایسے آدمی کے ڈھانچے کی باقیات ملیں جسے سُولی دی گئی تھی۔ یہ باقیات یروشلیم کے نزدیک ایک ایسی قبر سے ملیں جو ایک یہودی خاندان کی تھی۔ اور یہ ہڈیوں کے ایک صندوق میں تھیں۔ اِن باقیات میں ایک ایڑی کی ہڈی تھی۔ اِسے 5.‏4 اِنچ (‏5.‏11 سینٹی‌میٹر)‏ کے ایک کیل کے ساتھ لکڑی کے ایک تختے میں ٹھونکا گیا تھا۔ صابر نے کہا:‏ ”‏جس آدمی کی یہ ایڑی تھی، اُس کا نام یحوخنن تھا۔ اِس سے یہ ثابت ہو گیا کہ اِنجیل میں یسوع کو قبر میں دفنانے کے بارے میں جو بات لکھی ہے، وہ سچی ہے۔“‏ صابر نے آگے کہا:‏ ”‏یحوخنن کی ایڑی اِس بات کی ایک مثال ہے کہ یسوع کے زمانے میں رومی کچھ ایسے یہودیوں کو دفنانے کی اِجازت دیتے تھے جنہیں سُولی دی جاتی تھی۔“‏

یحوخنن کی ایڑی کی ہڈی کی وجہ سے لوگوں میں اِس حوالے سے فرق فرق رائے پیدا ہوئی کہ یسوع کو سُولی پر کس طرح سے لٹکایا گیا تھا۔ لیکن اِس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جن مُجرموں کو سُولی دی جاتی تھی، اُن میں سے کچھ کو باقاعدہ قبر میں دفنایا گیا۔ اُنہیں بس ایسے ہی مٹی میں دبا نہیں دیا گیا۔ اِس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ بائبل میں یسوع کی لاش کو باقاعدہ قبر میں دفنانے کے بارے میں جو بات کی گئی ہے، وہ بالکل سچی ہے۔‏

اِن ثبوتوں سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہوواہ نے پیش‌گوئی کی تھی کہ یسوع مسیح کی لاش کو ایک امیر آدمی کی قبر میں دفنایا جائے گا اور یہوواہ کی بات کو پورا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔—‏یسع 53:‏9؛‏ 55:‏11‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں