مسیحیوں کے طور پر زندگیبر
”اُن باتوں پر دھیان دیتے رہیں“
ہمیں کن باتوں پر دھیان دینا چاہیے؟ فِلپّیوں 4:8 میں لکھا ہے کہ اُن باتوں پر دھیان دیں ”جو سچی ہیں، جن پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، جو نیک ہیں، جو پاک ہیں، جو محبت کی ترغیب دیتی ہیں، جن کو عمدہ خیال کِیا جاتا ہے، جو اچھی ہیں اور جو قابلِتعریف ہیں۔“ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں ہر وقت بائبل کی باتوں کے بارے میں سوچتے رہنا چاہیے۔ دراصل ہمیں ایسی باتوں کے بارے میں سوچ بچار کرنی چاہیے جن سے یہوواہ خوش ہو۔ ہمیں ایسی باتوں پر دھیان نہیں دینا چاہیے جن سے یہوواہ کا وفادار رہنے کا ہمارا عزم کمزور پڑ سکتا ہے۔—زبور 19:14۔
غلط خیالات پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔ ہمیں نہ صرف گُناہ کے اُس رُجحان سے لڑنا پڑتا ہے جو ہمارے اندر پایا جاتا ہے بلکہ شیطان سے بھی جو ’اِس دُنیا کا خدا‘ ہے۔ (2-کُر 4:4) چونکہ شیطان دُنیا کے ٹیوی چینلوں، ریڈیو، اِنٹرنیٹ، اخباروں اور رسالوں وغیرہ پر بھی اِختیار رکھتا ہے اِس لیے اِن میں پایا جانے والا مواد عموماً بدچلنی اور تشدد وغیرہ پر مبنی ہوتا ہے۔ ہمیں سوچ سمجھ کر اِس بات کا اِنتخاب کرنا چاہیے کہ ہم کن باتوں پر دھیان دیں گے۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو اِس کا ہماری سوچ پر بُرا اثر ہوگا اور ہماری سوچ کا ہمارے چالچلن پر اثر ہوگا۔—یعقو 1:14، 15۔
ویڈیو ”ایسی چیزوں سے دُور رہیں جو یہوواہ سے آپ کی وفاداری کو ختم کر سکتی ہیں—غلط تفریح“ دیکھیں اور پھر اِن سوالوں کے جواب دیں:
بھائی اپنے فون پر کس طرح کا مواد دیکھ رہا تھا اور اِس کا اُس کی سوچ پر کیا اثر ہوا؟
گلتیوں 6:7، 8 اور زبور 119:37 پر سوچ بچار کرنے سے بھائی کی مدد کیسے ہوئی؟