مسیحی خدمتی سکول کا اعادہ
مندرجہذیل سوالات ہفتہ شروع از فروری ۲۷، ۲۰۰۶ کے ہفتے کے دوران مسیحی خدمتی سکول میں زبانی اعادہ کے تحت زیرِغور آئیں گے۔ سکول اوورسیئر جنوری ۲ تا فروری ۲۷، ۲۰۰۶ کی تفویضات میں پیش کئے جانے والے مواد پر مبنی ۳۰ منٹ کا اعادہ کرے گا۔ [نوٹ: جن سوالوں کیساتھ کوئی حوالہ نہیں دیا گیا اُنکے جواب تلاش کرنے کیلئے آپکو خود تحقیق کرنی ہوگی۔]
تقریری لیاقت
۱. ایک جاندار پیشکش میں کیا کچھ شامل ہے؟ [۱، ایچٹی ص. ۶۸، پ. ۲-۴] ایک گرمجوش مقرر اپنے رویے سے بےحسی یا بےدلی کا اظہار نہیں کرے گا۔ بلکہ اسکے چہرے کے تاثرات، آواز کا اُتارچڑھاؤ اور گفتگو کا انداز مکمل طور پر جاندار ہوگا۔ ایسی پیشکش دوسروں کو فعال اور متحرک کرے گی اور اس سے ظاہر ہوگا کہ مقرر خدا کی روح سے معمور ہے۔ (روم ۱۲:۱۱)
۲. ایک مقرر کا مواد کے مطابق گرمجوش ہونا کیوں ضروری ہے؟ [۲، ایچٹی ص. ۶۸ پ. ۶–ص. ۶۹ پ. ۷] تقریر میں تنوع اور سامعین کے فائدے کیلئے ساری تقریر کے دوران یکساں اور بہت زیادہ جوش کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ اس سے مقرر اور سامعین دونوں تھک جائیں گے۔ تقریر کے بعض نکات دوسروں کی نسبت زیادہ گرمجوش پیشکش کا تقاضا کرتے ہیں اسلئے اُنہیں پوری تقریر میں بڑی مہارت سے مربوط ہونا چاہئے۔ اہم نکات کو بالخصوص گرمجوشی کیساتھ پیش کِیا جانا چاہئے۔ تقریر کے ان نکات کو سامعین کو تحریک دینے والا اور بحث، دلائل یا مشورت کا اطلاق واضح کرنے والا ہونا چاہئے۔
۳. چہرے کے تاثرات سے پُرتپاک احساس ظاہر کرنے کا کیا فائدہ ہوگا؟ [۴، ایچٹی ص. ۷۰، پ. ۱۳، ۱۴] چہرے کے تاثرات سے پُرتپاک احساس ظاہر کرنے میں ناکامی کی وجہ سے سامعین کیلئے یہ یقین کرنا مشکل ہوگا کہ آیا مقرر اُن کیلئے دلی جذباتواحساسات رکھتا ہے یا نہیں۔ تاہم، چہرے کا مشفقانہ اظہار حقیقی خلوصدلی کو ظاہر کرے گا۔ اس سے مقرر کو مطمئن رہنے میں مدد ملے گی۔ نیز سامعین کو مقرر کے قریب آنے اور مواد کیلئے مثبت ردِعمل ظاہر کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
۴. تعلیم دینے کیلئے تمثیلیں کیوں استعمال کرنی چاہئیں؟ [۶، ایچٹی ص. ۷۲، پ. ۱، ۲] تمثیلیں سامعین کے ذہنوں میں پُرمعنی تصاویر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ دلچسپی کو اُبھارتی، اہم نکات کو نمایاں کرتی اور سوچنےسمجھنے کی صلاحیت کو تحریک دیتی ہیں۔ ایک مؤثر تمثیل ذہن کیساتھ ساتھ جذبات پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ تمثیلیں تعصّب یا جانبداری پر قابو پانے میں مدد دیتی اور سامعین کے دلوں کو چُھو لیتی ہیں۔
۵. تمثیل کا اطلاق واضح کرنا کیوں ضروری ہے؟ [۹، ایچٹی ص. ۷۴، پ. ۱۰] اگر تمثیل کا اطلاق واضح نہیں کِیا جاتا تو بیشتر سامعین اسے سمجھ نہیں پائیں گے۔ لہٰذا، سب سے پہلے مقرر کے اپنے ذہن میں تمثیل کو واضح ہونا چاہئے اور اُسے اسکا مقصد بھی معلوم ہونا چاہئے۔ اُسے تمثیل کی قدروقیمت کی وضاحت کرنے والے حصے کو سادگی سے بیان کرنا چاہئے۔ (متی ۱۲:۱۰-۱۲)
تفویض نمبر ۱
۶. دوسری تواریخ ۳۶:۱۷-۲۳ بائبل پیشینگوئی کے قابلِاعتماد ہونے کی تصدیق کیسے کرتی ہے؟ [۲، ایسآئی ص. ۸۴، پ. ۳۵] دوسری تواریخ ۳۶:۲۱ میں درج عزرا کے الفاظ یرمیاہ ۲۵:۱۲ اور ۲۹:۱۰ میں درج پیشینگوئی کے سچا ثابت ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ، عزرا کے الفاظ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ۷۰ سال اس وقت شروع ہوئے جب تلوار سے بچ جانے والوں کو ۶۰۷ قبلازمسیح کے ”ساتویں مہینے“ میں قید کرکے بابل لے جایا گیا اور اسیری کے یہ سال یہودیوں کے اپنے وطن واپس لوٹنے کیساتھ ہی ۵۳۷ قبلازمسیح کے ’ساتویں مہینے‘ میں ختم ہوگئے۔ (۲-سلا ۲۵:۲۵، ۲۶؛ عز ۳:۱)
۷. کن واقعات نے یہودیوں کیلئے ۵۳۷ قبلازمسیح میں اپنے وطن واپس لوٹنا اور یہوواہ خدا کے گھر کو دوبارہ تعمیر کرنا ممکن بنایا تھا؟ [۳، ایسآئی ص. ۸۵، پ. ۱-۳] بابل ۵۳۹ قبلازمسیح میں یہوواہ کے چرواہے اور ممسوح، فارسی بادشاہ خورس کے ہاتھوں تباہوبرباد ہو گیا۔ (یسع ۴۴:۲۸؛ ۴۵:۱) اگرچہ بابل اپنے قیدیوں کو کبھی رِہا نہیں کِیا کرتا تھا توبھی خورس نے فرمان جاری کِیا کہ یہودی واپس یروشلیم جا سکتے ہیں۔
۸. عزرا کی کتاب کیسے یہوواہ کی سچے خدا کے طور پر تقدیس کرتی اور اس پر ہمارے اعتماد کو بڑھاتی ہے؟ [۴، ایسآئی ص. ۸۷ پ. ۱۴، ۱۸] عزرا کی کتاب یرمیاہ کی معرفت یروشلیم کی بربادی اور بحالی کے سلسلے میں یہوواہ کے نبوّتی الفاظ کی صحتوصداقت کو اُجاگر کرتی ہے۔ (یرم ۲۹:۱۰) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا نے اپنے قول کو عین وقت پر پورا کِیا۔ یہودیوں کے اپنے وطن واپس لوٹنے سے یہ اُمید پیدا ہو گئی تھی کہ یہوواہ اپنے وعدے کے مطابق وقت آنے پر داؤد کی نسل سے ایک بادشاہ ضرور پیدا کرے گا۔ (۲-سمو ۷:۱۲، ۱۳)
۹. بائبل تاریخ میں ”ارتخششتا بادشاہ“ کے ”بیسویں برس“ کی کیا اہمیت ہے؟ (نحم ۲:۱، ۵، ۶، ۱۱، ۱۷، ۱۸) [۵، ایسآئی ص. ۸۸، پ. ۲، ۵] مسیحا کی آمد کے سلسلے میں یروشلیم اور اسکی فصیلوں کی دوبارہ تعمیر کی یہ تاریخ (۴۵۵ قبلازمسیح) ایک اہم وقتی نشان تھی۔ انہتر ہفتے یا ۴۸۳ سال ۴۵۵ قبلازمسیح میں شروع ہوئے اور ۲۹ عیسوی میں مسیح کے مسح کئے جانے کیساتھ ختم ہو گئے۔ (دان ۹:۲۴-۲۷؛ لو ۳:۱-۳، ۲۳)
۱۰. نحمیاہ آجکل خدا کے خادموں کیلئے کیسے ایک عمدہ نمونہ ہے؟ [۸، ایسآئی ص. ۹۰، پ. ۱۶، ۱۷] نحمیاہ کی زندگی میں خدائی عقیدت پہلے درجے پر تھی۔ اُس نے خدائی کاموں کی خاطر دُنیا میں اعلیٰ مرتبے کو چھوڑ دیا۔ (نحم ۲:۱۷، ۱۸) وہ خطرات کے باوجود اپنی راستی پر قائم رہا۔ (نحم ۴:۱۴) اُس نے اپنے مرتبے کو ذاتی مفاد کیلئے استعمال نہ کِیا۔ اُس نے مادہپرستی کو رد کِیا۔ (نحم ۵:۱۴) نحمیاہ نے یہوواہ پر لوگوں کے ایمان کو مضبوط کرنے کیلئے دلچسپی دکھائی۔ اسکے علاوہ، اُس نے عزرا کیساتھ ملکر مستعدی کیساتھ لوگوں کو خدا کا پاک کلام پڑھ کر سنایا۔ (نحم ۸:۸، ۹)
ہفتہوار بائبل پڑھائی
۱۱. کیا اسرائیلی بابل سے واپس لوٹنے کے بعد بھی یہوواہ کی مرضی دریافت کرنے کیلئے اُوریموتمیم استعمال کرتے تھے؟ (عز ۲:۶۱-۶۳) خدا کے کلام میں اُس وقت یا اسکے بعد کے زمانے میں اُوریموتمیم کے استعمال کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ یہودیوں کا کہنا ہے کہ ۶۰۷ قبلازمسیح میں ہیکل کے تباہ کر دئے جانے کیساتھ ہی اُوریموتمیم بھی غائب ہوگئے تھے۔ [۳، م۰۶ ۱۵/۱ ”یہوواہ کا کلام زندہ ہے—عزرا کی کتاب سے اہم نکات“ مینارِنگہبانی ۸۶/۱ ص. ۲۱]
۱۲. بابل میں رہنے والے یہودی عزرا کیساتھ یروشلیم کیوں نہیں جانا چاہتے تھے؟ (عز ۷:۲۸–۸:۲۰) یروشلیم لوٹنے کا مطلب مشکل اور خطرناک حالات کے تحت نئے سرے سے زندگی شروع کرنا تھا۔ اُس وقت یروشلیم میں ایسی چیزیں بھی نہیں تھیں جن سے وہ بابل میں فائدہ اُٹھا رہے تھے۔ اسکے علاوہ، یروشلیم کا سفر بھی خاصا دشوار اور خطرناک تھا۔ جو لوگ واپس جانے کو تیار تھے اُنہیں یہوواہ پر مضبوط ایمان، سچی پرستش کیلئے جوش اور دلیری کی ضرورت تھی۔ [۴، م۰۶ ۱۵/۱ ”یہوواہ کا کلام زندہ ہے—عزرا کی کتاب سے اہم نکات“]
۱۳. فصیل کی دوبارہ تعمیر ایک ہاتھ سے کیسے ممکن تھی؟ (نحم ۴:۱۷، ۱۸) بوجھ اُٹھانے والے بڑی آسانی کیساتھ ایک ہاتھ سے اپنے سر یا کندھوں پر بوجھ اُٹھا سکتے تھے اور ”دوسرے میں اپنا ہتھیار“ رکھ سکتے تھے۔ جنہیں کام کرنے کیلئے دونوں ہاتھ استعمال کرنے پڑتے تھے اُن میں سے ”ہر ایک آدمی اپنی تلوار اپنی کمر سے باندھے ہوئے کام کرتا تھا۔“ وہ دشمن کے کسی بھی حملے کیلئے ہر وقت تیار تھے۔ [۵، م۰۶ ۱/۲ ”یہوواہ کا کلام زندہ ہے—نحمیاہ کی کتاب سے اہم نکات“؛ مینارِنگہبانی ۸۶/۲ ص. ۲۸]
۱۴. خفیہ خطوط چونکہ اکثر سربمہر تھیلیوں میں بھیجے جاتے تھے تاہم سنبلط نے نحمیاہ کو ”کُھلی چھٹی“ کیوں بھیجی تھی؟ (نحم ۶:۵) سنبلط شاید کُھلی چھٹی بھیج کر جھوٹے الزامات کو سب کی توجہ میں لانا چاہتا تھا۔ اسکے خیال میں شاید نحمیاہ اس بات سے اتنا غصے میں آ جائے گا کہ اپنی جان بچانے کیلئے سب کام چھوڑ کر چلا جائے گا۔ یا شاید سنبلط کے خیال میں خط کی باتیں یہودیوں کو اتنا خوفزدہ کر دیں گی کہ وہ کام روک دیں گئے۔ لیکن نحمیاہ خوفزدہ ہونے کی بجائے چپچاپ خدا کا کام کرتا رہا۔ [۶، م۰۶ ۱/۲ ”یہوواہ کا کلام زندہ ہے—نحمیاہ کی کتاب سے اہم نکات“]
۱۵. نحمیاہ نے سرداروں اور امیروں کی طرح واپس چلے جانے والے یہودیوں کو ملامت کرنے کے علاوہ اَور کونسے اصلاحی اقدام اُٹھائے؟ (نحم ۱۳:۲۵، ۲۸) نحمیاہ نے ”اُن پر لعنت کی“ اور اُنہیں خدا کی شریعت میں لکھی جانے والی سزائیں پڑھ کر سنائیں۔ اس نے عدالتی کارروائی کرتے ہوئے ”بعض کو مارا۔“ اسکے علاوہ اُس نے بعض کے ”بال نوچ ڈالے“ جوکہ اخلاقی برہمی کا نشان تھا۔ اُس نے سردار کاہن الیاسب کے پوتے کو بھی اپنے پاس سے بھگا دیا جس نے حورونی سنبلط کی بیٹی سے شادی کر لی تھی۔ [۸، م۰۶ ۱/۲ ”یہوواہ کا کلام زندہ ہے—نحمیاہ کی کتاب سے اہم نکات“]