حصہ ۵: ترقیپسند بائبل مطالعے کرانا
اس بات کا فیصلہ کرنا کہ طالبعلم کیساتھ کتنے پیراگراف کا مطالعہ کِیا جائے
۱ تعلیم دیتے وقت، یسوع اپنے شاگردوں کی ”سمجھ کے مطابق کلام سناتا تھا۔“ (مر ۴:۳۳؛ یوح ۱۶:۱۲) اسی طرح آجکل بھی خدا کے کلام کی تعلیم دینے والوں کو اس بات کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایک وقت میں بائبل طالبعلم کیساتھ کتنے پیراگراف کا مطالعہ کِیا جائے۔ اسکا انحصار مطالعہ کرنے اور کرانے والے دونوں کے حالات اور صلاحیت پر ہے۔
۲ مضبوط ایمان پیدا کریں: بعض طالبعلموں کو ایک بات دو یا تین مرتبہ مطالعہ کرنے کے بعد سمجھ میں آتی ہے جبکہ دیگر اُسی بات کو شاید ایک ہی مرتبہ مطالعہ کرنے کے بعد آسانی سے سمجھ جائیں۔ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیراگراف کا مطالعہ کرانے کی بجائے طالبعلم کو پیراگراف سمجھانا زیادہ ضروری ہے۔ ہر طالبعلم کو خدا کے کلام پر ایمان لانے کیلئے مضبوط بنیاد کی ضرورت ہے۔—امثا ۴:۷؛ روم ۱۲:۲۔
۳ ہر ہفتے جب آپ مطالعہ کراتے ہیں تو طالبعلم کیساتھ کچھ وقت صرف کریں تاکہ آپ اُسے خدا کے کلام سے حاصل ہونے والے علم کو سمجھنے اور قبول کرنے میں مدد دے سکیں۔ جلدبازی سے گریز کریں جو خدا کے کلام سے سکھائی جانے والی سچائیوں کی اہمیت کو کم کر سکتی ہے۔ اہم نکات پر توجہ دینے اور بنیادی تعلیم فراہم کرنے والے بنیادی صحائف پر غور کرنے کیلئے وقت نکالیں۔—۲-تیم ۳:۱۶، ۱۷۔
۴ مطالعے پر دھیان دیں: اگرچہ ہم مطالعہ کراتے وقت جلدبازی سے کام نہیں لینا چاہتے توبھی ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہمارا دھیان مطالعے سے ہٹ جائے۔ اگر ہمارا طالبعلم ذاتی معاملات پر بہت زیادہ باتچیت کرنا چاہتا ہے تو ہمیں مطالعے کے بعد اس موضوع پر باتچیت کرنے کے لئے وقت نکالنا چاہئے۔—واعظ ۳:۱۔
۵ اسکے برعکس، سچائی کیلئے ہمارے جوشوجذبے کی وجہ سے ہم بھی مطالعے کے دوران بہت زیادہ بولنے کی عادت میں پڑ سکتے ہیں۔ (زبور ۱۴۵:۶، ۷) کبھیکبھار کوئی نکتہ یا تجربہ بیان کرنا مطالعے کو خوشگوار بنا سکتا ہے لیکن ہم یہ نہیں کرینگے کہ سارا وقت انہی باتوں میں گزار دیں۔ ایسا کرنا طالبعلم کے بنیادی بائبل علم حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
۶ ہر مطالعے پر پیراگراف کی مناسب تعداد پر بات کرنا بائبل طالبعلموں کو ’یہوواہ کی روشنی میں چلتے‘ رہنے میں مدد دیگا۔—یسع ۲:۵۔