حقیقی مسیحی اتحاد کیسے ممکن ہے؟
۱ تقریباً ۲۳۴ ممالک اور ۳۸۰ زبانیں بولنے والے گروہوں کے ساٹھ لاکھ سے زائد لوگوں کو کونسی چیز متحد رکھ سکتی ہے؟ صرف یہوواہ خدا کی پرستش۔ (میک ۲:۱۲؛ ۴:۱-۳) یہوواہ کے گواہ ذاتی تجربے سے جانتے ہیں کہ حقیقی مسیحی اتحاد آجکل ایک حقیقت ہے۔ ”ایک چرواہے“ کے تحت ”ایک گلّہ“ کے طور پر، ہم اس دُنیا کی منقسم روح کی مزاحمت کرنے کیلئے پُرعزم ہیں۔—یوح ۱۰:۱۶؛ افس ۲:۲۔
۲ خدا کا لازوال مقصد یہ ہے کہ تمام ذیشعور مخلوق سچی پرستش میں متحد ہو۔ (مکا ۵:۱۳) اس بات کی اہمیت کو جانتے ہوئے یسوع نے سنجیدگی سے اپنے شاگردوں کے اتحاد کیلئے دُعا کی۔ (یوح ۱۷:۲۰، ۲۱) ہم میں سے ہر ایک مسیحی کلیسیا کے اتحاد کو کیسے فروغ دے سکتا ہے؟
۳ اتحاد کیسے حاصل ہوتا ہے: خدا کے کلام اور روح کے بغیر، مسیحی اتحاد حاصل نہیں ہو سکتا۔ جوکچھ ہم بائبل میں سے پڑھتے ہیں اسکا اطلاق کرنا خدا کی روح کو ہماری زندگیوں میں آزادانہ کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ ہمیں اس قابل بھی بناتا ہے کہ ”روح کی یگانگی صلح کے بند سے بندھی رہے۔“ (افس ۴:۳) یہ ہمیں محبت کی رُو سے ایک دوسرے کی برداشت کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ (کل ۳:۱۳، ۱۴؛ ۱-پطر ۴:۸) کیا آپ ہر روز خدا کے کلام پر غوروخوض کرنے سے اتحاد کو فروغ دیتے ہیں؟
۴ منادی کرنے اور شاگرد بنانے کا کام بھی ہمیں متحد رکھتا ہے۔ جب ہم ”انجیل کے ایمان کے لئے ایک جان ہو کر جانفشانی کرتے“ ہوئے مسیحی خدمتگزاری میں دوسروں کیساتھ کام کرتے ہیں تو ہم ”حق کی تائید میں اُن کے ہمخدمت“ بن جاتے ہیں۔ (فل ۱:۲۷؛ ۳-یوح ۸) ایسا کرنے سے کلیسیا کے اندر محبت فروغ پاتی ہے۔ کیوں نہ اس ہفتے میدانی خدمتگزاری میں اپنے ساتھ کسی ایسے شخص کو کام کرنے کی دعوت دیں جس کے ساتھ آپ نے حال ہی میں کام نہیں کِیا ہے؟
۵ ہم کتنے متشرف ہیں کہ ہم زمین پر حقیقی بینالاقوامی برادری کا حصہ ہیں! (۱-پطر ۵:۹) حال ہی میں، ہزاروں اشخاص نے ”خدا کو جلال دیں“ بینالاقوامی کنونشنوں پر اسکا براہِراست تجربہ کِیا ہے۔ دُعا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک ”یکدل“ ہوکر ہر روز خدا کا کلام پڑھنے، محبت کی رُو سے اختلافات نپٹانے اور خوشخبری کی منادی کرنے سے اس بیشقیمت اتحاد کو فروغ دیتا رہے۔—روم ۱۵:۶۔