ہمارا ایمان ہمیں نیک کام کرنے کی تحریک دیتا ہے
۱ ایمان نے نوح، موسیٰ اور راحب کو عمل کرنے کی تحریک دی۔ نوح نے کشتی بنائی۔ موسیٰ نے فرعون کے محل کے لوازمات کو رد کر دیا جو محض چند روزہ تھے۔ راحب نے جاسوسوں کو چھپایا اور انکی ہدایات پر عمل کرنے سے اپنے خاندان کی جان بچائی۔ (عبر ۱۱:۷، ۲۴-۲۶، ۳۱) آجکل ہمارا ایمان ہمیں کونسے نیک کام کرنے کی تحریک دیتا ہے؟
۲ گواہی دینا: ایمان ہمیں اپنے عظیم خدا اور ابدی زندگی کیلئے اُسکی شاندار فراہمیوں کی بابت دوسروں کو بتانے کی تحریک دیتا ہے۔ (۲-کر ۴:۱۳) بعضاوقات، ہم گواہی دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کر سکتے ہیں۔ لیکن ’یہوواہ کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنے‘ سے ہم مضبوط ہوتے ہیں اور ہماری گھبراہٹ دُور ہو جاتی ہے۔ (زبور ۱۶:۸) یوں ہمارا ایمان ہمیں ہر مناسب موقع پر اپنے رشتہداروں، پڑوسیوں، ساتھی کارکنوں اور ہممکتبوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی خوشخبری سنانے کی ترغیب دیتا ہے۔—روم ۱:۱۴-۱۶۔
۳ باہم جمع ہونا: اجلاسوں پر باقاعدہ حاضری ایک اَور نیک کام ہے جس کا سبب ایمان ہے۔ وہ کیسے؟ یہ مسیحی اجلاسوں پر جمع ہوتے وقت خدا کی روحالقدس کے ذریعے یسوع کی موجودگی کی بابت ہمارے یقین کو ظاہر کرتا ہے۔ (متی ۱۸:۲۰) اس سے ہماری یہ سننے کی خواہش ظاہر ہوتی ہے کہ ”روح کلیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔“ (مکا ۳:۶) ہم ہدایات پر دھیان دیتے ہیں کیونکہ ہم اپنی ایمان کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ ہمیں تعلیم دینے والا عظیم مُعلم، یہوواہ ہے۔—یسع ۳۰:۲۰۔
۴ ہمارے انتخابات: اندیکھے حقائق کا پُختہ یقین ہمیں اپنی زندگیوں میں روحانی معاملات کو مقدم رکھنے کی تحریک دیتا ہے۔ (عبر ۱۱:۱) یہ اکثر مادی قربانیوں کا تقاضا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک بزرگ نے اس وجہ سے ایک پُرکشش دُنیاوی ملازمت کی پیشکش قبول نہیں کی کہ اسکا مطلب اجلاسوں سے غیرحاضری، خاندان سے جُدائی اور پائنیر خدمت چھوڑنا تھا۔ دُعا ہے کہ ہم بھی اسی طرح بائبل کی اس یقیندہانی پر مکمل اعتماد رکھیں کہ یہوواہ، ”پہلے اُسکی بادشاہی اور اُسکی راستبازی کی تلاش“ کرنے والوں کی دیکھبھال کرتا ہے۔—متی ۶:۳۳۔
۵ ہماری زندگیوں پر ایمان کا پُرزور اثر دوسروں سے پوشیدہ نہیں رہتا۔ واقعی، ہمارا ایمان پوری دُنیا میں مشہور ہے۔ (روم ۱:۸) دُعا ہے کہ ہم سب اپنے نیک کاموں کے ذریعے اپنے زندہ ایمان کا ثبوت دیں۔—یعقو ۲:۲۶۔