خدا کے کلام پر دھیان دیں
۱ انسان کی ہر بات خاص توجہ کی حامل نہیں ہوتی۔ لیکن جب خدا کلام کرتا ہے تو دھیان سے سننا اشد ضروری ہوتا ہے۔ (است ۲۸:۱، ۲) ہمیں شکرگزار ہونا چاہئے کہ مُلہَم مصنّفین نے ہمارے فائدہ کیلئے ”خدا کا کلام“ تحریر کِیا۔ (روم ۳:۲) ہمارے اجلاس اِس کلام کو سننے کے بہترین مواقع عطا کرتے ہیں کیونکہ ان پر اِسے پڑھا اور زیرِبحث لایا جاتا ہے۔ آپ کیسے پوری توجہ دے سکتے ہیں؟
۲ وقت سے پہلے پہنچیں: ذرا اُن اسرائیلیوں کی خوشی کا اندازہ کریں جنہیں یہوواہ کی شریعت سننے کیلئے کوہِسینا پر اُسکے حضور حاضر ہونے کیلئے کہا گیا تھا! (خر ۱۹:۱۰، ۱۱، ۱۶-۱۹) اگر آپ یہوواہ سے ہدایت پانے کیلئے ایسا ہی رُجحان رکھتے ہیں تو آپ ہر اجلاس پر وقت سے پہلے پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کرینگے۔ اگر ہم دیر سے آتے اور نشستیں تلاش کرنے کی کوشش میں دوسروں کو پریشان کرتے ہیں تو ہم پورے اجلاس کو توجہ سے نہیں سن سکیں گے۔
۳ پہلے آنے والوں میں سے بھی بعض اجلاس کے شروع میں اپنی نشستوں پر نہیں ہوتے۔ ایسا کیوں ہے؟ جبتک چیئرمین ابتدائی گیت متعارف نہیں کراتا وہ دوستوں سے باتچیت کرنا بند نہیں کرتے اور پھر دوسروں کے سامنے سے گزرتے ہوئے اپنی نشستوں کی طرف بڑھتے ہیں۔ جب چیئرمین پلیٹفارم پر کھڑا ہوتا ہے تو ہمیں متوجہ ہو جانا چاہئے۔ یہ ہمارے لئے بیٹھ جانے کا اشارہ ہوتا ہے! پھر جب ابتدائی گیت متعارف کرایا جاتا ہے تو ہم یہوواہ کی تمجید کیلئے گیت میں حصہ لینے کے لئے تیار ہونگے۔
۴ متحد خاندان کے طور پر سنیں: جب باہم جمع ہونے والے اسرئیلیوں کے سامنے خدا کا کلام پڑھا جاتا تھا تو خاندانوں کو ”بچوں“ سمیت سننا اور سیکھنا ہوتا تھا۔ (است ۳۱:۱۲) اپنے اجلاسوں پر بھی بچوں کو ”بےتربیت“ نہیں چھوڑنا چاہئے۔ (امثا ۲۹:۱۵) والدین—نوعمر بچوں سمیت—پورے خاندان کو ساتھ بیٹھانے کا بندوبست بنائیں۔ بعض والدین ابتدائی گیت شروع ہونے کے بعد اپنے بچوں کو بیتاُلخلا لے جاتے ہیں۔ تاہم، ایسا کرنے سے ہم اپنے بچوں کو پرستش میں گیت اور دُعا کی اہمیت نہیں سیکھا سکیں گے۔ اگر ممکن ہو تو اجلاس کے شروع ہونے سے پہلے اپنے بچوں کو بیتاُلخلا لیجانا یقیناً بہتر ہوگا!
۵ مقرر کی باتچیت پر توجہ دیں۔ اپنے ذہن کو بھٹکنے کی اجازت نہ دیں۔ جب صحائف پڑھے جائیں تو بائبل میں دیکھیں۔ مختصر نوٹس لیں۔ ہر ایک تقریر کے بعد اپنے ذہن میں مقرر کی باتوں کا اعادہ کریں اور سوچبچار کریں کہ آپ اُن کا اطلاق کیسے کریں گے۔ اجلاس کے بعد، بطور خاندان پروگرام پر باتچیت کریں۔ ہر ایک کو کونسے نکات پسند آئے ہیں؟ آپ کا خاندان اِن معلومات کا اچھا استعمال کیسے کر سکتا ہے؟
۶ خدا کے کلام کیلئے احترام دکھائیں: اجلاس دوستوں سے باتچیت کرنے اور حوصلہافزا رفاقت سے لطفاندوز ہونے کا عمدہ موقع فراہم کرتے ہیں۔ اجلاس شروع ہونے سے پہلے آنے سے، ہمارے پاس باتچیت کرنے کا وقت ہوگا۔ تاہم، بعض بہنبھائی اس غلط سوچ کے حامل ہیں کہ بالخصوص جب کنگڈم ہال بڑا ہو تو اجلاس کے درمیان گفتگو کرنا انتشارِخیال کا باعث نہیں بنتا۔ اگر اجلاس بڑی جگہوں پر بھی منعقد ہوں توبھی ہمیں دھیان سے سننا چاہئے۔
۷ یہوواہ سے شریعت حاصل کرنے کے دوران موسیٰ نے ”نہ روٹی کھائی نہ پانی پیا۔“ (خر ۳۴:۲۸) اسی طرح، اجلاسوں کے دوران کھاناپینا مناسب نہیں۔ اگر صحت کے سنگین مسائل درپیش نہ ہوں تو اِس کیلئے ’مناسب وقت‘ کا انتظار کریں۔—واعظ ۳:۱۔
۸ ہم خدا کے کلام کو ”اُونچا سننے“ والے نہیں بننا چاہتے۔ (عبر ۵:۱۱) لہٰذا، ہمیں پانچ ہفتہوار کلیسیائی اجلاسوں پر یہوواہ کے مُقدس کلام کو توجہ سے سن کر اُس کیلئے گہرا احترام دکھانے کا عزمِمُصمم کرنا چاہئے۔
خدا کو جلال دینے والا نیک چالچلن برقرار رکھیں
۱ ہم جہاں کہیں بھی ہوں، ہمارا چالچلن، آرائشوزیبائش ہماری اور اُس خدا کی بابت گواہی دیتے ہیں جسکی ہم پرستش کرتے ہیں۔ یہ بات خاص طور پر اُس وقت واضح ہوتی ہے جب خدا کے لوگوں کے اجتماعات پر بہتیرے دوسرے لوگ ہمیں دیکھتے ہیں۔ جب ہم اچھا نمونہ پیش کرتے ہیں تو یہوواہ کے نام کی تمجید ہوتی ہے۔ (۱-پطر ۲:۱۲) تاہم، چند لوگوں کا نامناسب رویہ اور غیرمہذب کام خدا کے نام اور اُسکے لوگوں کی نیکنامی کو بٹا لگا دیتے ہیں۔ (واعظ ۹:۱۸ب) اگر ہم اس بات کو یاد رکھیں کہ لوگ ہمارے چالچلن سے ہماری تنظیم اور جس خدا کی ہم پرستش کرتے ہیں اُسکی بابت رائے قائم کرتے ہیں تو ہم فرضشناسی کیساتھ ’سب کام خدا کے جلال کے لئے کرینگے۔‘—۱-کر ۱۰:۳۱۔
۲ مناسب آدابواطوار: اجلاس پر حاضر ہوتے وقت موزوں آرائشوزیبائش کا خیال رکھنا چاہئے۔ دُنیا کی روح ظاہر کرنے والے نازیبا فیشن کے کپڑے پہننے سے گریز کریں جن سے دوسروں کی نسبت ہماری منفرد شناخت غیرواضح ہو جائیگی۔ اجلاسوں پر آتے جاتے یا کنگڈم ہال میں داخل ہوتے یا نکلتے وقت ہمارے چالچلن سے ہمیشہ یہ ظاہر ہونا چاہئے کہ ہم خدا کے خادم ہیں اور کسی بات میں ٹھوکر کا باعث نہیں بنتے۔—۲-کر ۶:۳۔
۳ پطرس ہمیں یاددہانی کراتا ہے کہ ’ہمیں پاک چالچلن اور خدائی عقیدت کے کاموں میں خود کو کس قسم کے شخص ثابت کرنا چاہئے۔‘ (۲-پطر ۳:۱۱) دُعا ہے کہ پانچوں ہفتہوار کلیسیائی اجلاسوں پر ہمارے اقوال اور افعال خلوصدل مشاہدین کی مدد کریں کہ وہ ہمارے عظیم خدا کو جانیں اور اُسکی پرستش کریں جو تمام عزت اور تمجید کا مستحق ہے۔—۱-کر ۱۴:۲۴، ۲۵۔
۴ برکات حاصل کریں: ہم یہ جانتے ہوئے خدا کے کلام کے مشتاق ہیں کہ اسکے ذریعے ہم نجات حاصل کرنے کی طرف بڑھتے ہیں۔ (۱-پطر ۲:۲) اجلاسوں پر حاضر ہونے اور پروگرام کو توجہ کیساتھ سننے سے اس کلام پر ایمان کو مضبوط کرنے اور یوں شیطان کے حملوں کا بہتر طور پر مقابلہ کرنے میں ہم سب کو مدد ملیگی۔ ایسا کرنے سے، ہم یہوواہ اور تمام مشاہدین پر یہ ظاہر کرینگے کہ ہم پاک چیزوں کی دلی قدر کرتے ہیں اور ”ہم ہٹنے والے نہیں . . . بلکہ ایمان رکھنے والے ہیں کہ جان بچائیں۔“—عبر ۱۰:۳۹؛ ۱۲:۱۶؛ امثا ۲۷:۱۱۔
۵ آسمان کے دریچوں کو کھول کر ہم پر روحانی برکتیں برسانے کیلئے ہم یہوواہ خدا کے منتظر رہ سکتے ہیں۔—ملا ۳:۱۰۔