”جاگتے رہو“
۱ یسوع نے اس نظاماُلعمل کے آخری ایّام میں رُونما ہونے والے اہم واقعات کو بیان کرنے کے بعد اپنے شاگردوں کو ”جاگتے رہنے“ کی تاکید کی۔ (مر ۱۳:۳۳) مسیحیوں کو کیوں جاگتے رہنا چاہئے؟ اسلئےکہ ہم انسانی تاریخ کے سب سے خطرناک دَور میں رہ رہے ہیں۔ ہم روحانی غنودگی کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ اسکی وجہ سے ہم اس آخری زمانے میں یہوواہ کے تفویضکردہ کام کی قدر کرنے میں ناکام ہو سکتے ہیں۔ یہ کام کیا ہے؟
۲ یہوواہ اپنے لوگوں کے ذریعے پوری دُنیا میں اپنی بادشاہت کی خوشخبری—نوعِانسان کی واحد اُمید—کا اعلان کروا رہا ہے۔ خدا کی تنظیم کیساتھ ساتھ کام کرنے سے ہماری شناخت ”ہمیشہ کی زندگی کی باتیں“ سننے میں دوسروں کی مدد کرنے کی ضرورت اور وقت کا خیال رکھنے والے سچے مسیحیوں کے طور پر ہوتی ہے۔ (یوح ۶:۶۸) اس اہمترین کام میں سرگرمی کیساتھ حصہ لینے سے ہم روحانی بیداری کا ثبوت دیتے ہیں۔
۳ منادی کرنے کی تحریک پانا: یہوواہ کے گواہوں کے طور پر ہمیں اپنی خدمتگزاری کے سلسلے میں مثبت رُجحان رکھنا چاہئے۔ خدا اور پڑوسی کے لئے ہماری محبت ہمیں ذاتی طور پر منادی کے کام میں حصہ لینے کی تحریک دیتی ہے۔ (ا-کر ۹:۱۶، ۱۷) ایسا کرنے سے ہم اپنی اور اپنے سننے والوں کی بھی نجات کا باعث ہونگے۔ (۱-تیم ۴:۱۶) ہمارا عزمِمُصمم ہونا چاہئے کہ اس کام میں حتیالمقدور باقاعدگی سے حصہ لیں گے اور اُس بہترین حکومت—خدا کی بادشاہت—کی بابت مستقلمزاجی کے ساتھ منادی کریں گے جو نوعِانسان کو پہلے کبھی حاصل نہیں ہوئی ہے!
۴ ہماری خدمتگزاری کو اہم بنانے والی ایک حقیقت یہ ہے کہ ابھی ہم اس کام میں مصروفِعمل ہی ہونگے کہ بڑی مصیبت شروع ہو جائیگی۔ ہمارا اُس دن اور گھڑی سے ناواقف ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم ہر وقت جاگتے اور تیار رہیں اور یہوواہ پر خداپرستانہ توکل ظاہر کریں۔ (افس ۶:۱۸) منادی کی کارگزاری مسلسل وسعت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ تاہم، بہت جلد ایک دن انسانی تاریخ میں گواہی کا یہ عظیم کام اپنے عروج کو پہنچے گا۔
۵ پس، وفاداری سے یسوع کے ”جاگتے“ رہنے کے حکم کی تعمیل کریں۔ اب اِس کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ دُعا ہے کہ ہم اس کیلئے فوری جوابی عمل دکھائیں۔ ہمیں یہوواہ کی خدمت میں ہمہوقت روحانی طور پر ہوشیار، چوکس اور سرگرم رہنا چاہئے۔ جیہاں، ضرور ہے کہ ہم ”جاگتے اور ہوشیار رہیں۔“—۱-تھس ۵:۶۔