سوالی بکس
◼ بروکلن، پیٹرسن اور والکل، نیو یارک اور پوری دُنیا میں سوسائٹی کے برانچ دفاتر کا دورہ کرتے وقت ہمیں اپنے لباس اور بناؤسنگھار پر خصوصی توجہ کیوں دینی چاہئے؟
مسیحیوں سے مناسب آدابواطوار برقرار رکھنے کا تقاضا کِیا جاتا ہے۔ ہمارے لباس اور بناؤسنگھار کو ہر وقت اُس وقار اور تہذیب کی عکاسی کرنی چاہئے جو یہوواہ خدا کے خادموں کیلئے موزوں ہے۔ اس بات کا خاص اطلاق نیو یارک اور پوری دُنیا میں سوسائٹی کی عمارات کا دورہ کرتے وقت ہوتا ہے۔
ڈسٹرکٹ اور بینالاقوامی کنونشنیں ۱۹۹۸ کے دوران منعقد ہوں گی۔ مختلف ممالک سے ہمارے ہزاروں بھائی نیو یارک میں سوسائٹی کے ہیڈکوارٹرز اور دوسرے ممالک میں برانچوں کا دورہ کرینگے۔ نہ صرف ان عمارات کا دورہ کرتے وقت بلکہ دیگر اوقات پر بھی ہمیں اپنے موزوں لباس اور بناؤسنگھار سمیت ’ہر طرح سے خودکو خدا کے خادموں کے طور پر قابلِقبول بنانے‘ کی ضرورت ہے۔—۲-کر ۶:۳، ۴۔
مناسب لباس اور بناؤسنگھار کی بابت باتچیت کرتے ہوئے آرگنائزڈ ٹو آکمپلش آور منسٹری میدانی خدمتگزاری میں حصہ لیتے اور مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہوتے وقت جسمانی صفائی، حیادار لباس اور بناؤسنگھار کی ضرورت پر رائےزنی کرتی ہے۔ پھر، صفحہ ۱۳۱، پیراگراف ۲ پر یہ بیان کرتی ہے: ”بروکلن میں بیتایل ہوم یا سوسائٹی کے دفاتر میں سے کسی بھی برانچ کا دورہ کرتے ہوئے اسی کا اطلاق ہوتا ہے۔ یاد رکھیں، نام بیتایل کا مطلب ’خدا کا گھر‘ ہے، اسلئے ہمارے لباس اور بناؤسنگھار اور چالچلن کو اُسی طرح ہونے کی ضرورت ہے جسکا تقاضا ہم سے پرستش کیلئے کنگڈم ہال میں اجلاسوں پر حاضر ہوتے وقت کِیا جاتا ہے۔“ مقامی علاقے کے بادشاہتی پبلشروں اور بیتایل خاندان کے افراد سے ملنے اور ان کیساتھ رہنے کیلئے اور برانچ عمارات کا دورہ کرنے کیلئے دوردراز مقامات سے آنے والوں کو اسی اعلیٰ معیار کی پابندی کرنی چاہئے۔
ہمارے لباس کو یہوواہ کی سچی پرستش کی بابت دوسروں کے نظریہ پر مثبت اثر ڈالنا چاہئے۔ تاہم، نوٹ کِیا گیا ہے کہ سوسائٹی کی عمارات کا دورہ کرتے ہوئے بعض بہن بھائی اپنے لباس میں حد سے زیادہ لاپرواہ ہونے کا میلان رکھتے ہیں۔ کسی بھی بیتایل ہوم کا دورہ کرتے وقت ایسا لباس موزوں نہیں ہے۔ مسیحی زندگی کے دیگر تمام پہلوؤں کی طرح، اس معاملے میں بھی سب کچھ خدا کے جلال کے لئے کرتے ہوئے ہم وہی اعلیٰ معیار برقرار رکھنا چاہتے ہیں جو خدا کے لوگوں کو دنیا سے فرق ظاہر کرتے ہیں۔ (روم ۱۲:۲؛ ۱-کر ۱۰:۳۱) اپنے بائبل مطالعوں اور دوسروں سے جو پہلی مرتبہ بیتایل کا دورہ کر رہے ہوں بات کرنا اور مناسب لباس اور بناؤسنگھار کی اہمیت پر توجہ دینے کی بابت انہیں یاد دلانا بھی اچھا ہے۔
پس سوسائٹی کی عمارات کا دورہ کرتے وقت اپنے آپ سے پوچھیں: ’کیا میرا لباس اور بناؤسنگھار حیادار ہے؟‘ (مقابلہ کریں میکاہ ۶:۸) ’کیا یہ پورے طور پر اُس خدا کی عکاسی کرتا ہے جسکا میں پرستار ہوں؟ کیا میری وضعقطع سے دوسروں کی توجہ منتشر ہو سکتی یا اُنہیں ٹھیس پہنچ سکتی ہے؟ کیا مَیں اُن کیلئے مناسب نمونہ قائم کر رہا ہوں جو شاید پہلی مرتبہ دورہ کر رہے ہیں؟‘ دعا ہے کہ ہم اپنے لباس اور بناؤسنگھار سے ہمیشہ اپنے ”مُنجی خدا کی تعلیم کو رونق“ بخشیں۔—طط ۲:۱۰۔