”پیسہ کہاں سے آتا ہے؟“
۱ واچ ٹاور سوسائٹی کی ویڈیو ”جیہوواز وٹنسز—دی آرگنائزیشن بیہائنڈ دی نیم“ کے ناضرین بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ وہ مختلف نسلوں اور پسمنظر کے خوششکل مردوں اور عورتوں کو اکٹھے مسکراتے اور ہمآہنگی کیساتھ کام کرتے دیکھتے ہیں۔ نہ صرف ہزاروں مسرور کارکن ہی اُنکی توجہ کا مرکز بنتے ہیں بلکہ سوسائٹی کے بروکلن ہیڈکوارٹرز کی عمارتوں کے بڑے بڑے کمپلیکس اور والکل، نیویارک میں اُنکے فارم بھی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ ویڈیو دکھاتی ہے کہ ان عمارتوں کے اندر جدیدترین ٹیکنالوجی دیکھی جا سکتی ہے—ہر ماہ لاکھوں ملین اشاعات پیدا کرنے والے تیز رفتار چھپائی اور جِلدسازی کے آلات، مختلف اقسام کے کمپیوٹر کے آلات اور معاون خدمات کے بیشمار شعبے۔
۲ یہ وسائل کے بہت زیادہ استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ لہٰذا بعض پوچھتے ہیں، ”پیسہ کہاں سے آتا ہے؟“
۳ جواب یہ ہے کہ یہ ہماری ہی طرح کے عام انسانوں کی طرف سے آتا ہے۔ پوری دُنیا میں، وہ ایسے اشخاص ہیں جو منادی کرنے اور تعلیم دینے کے اہم مسیحی کام کو فروغ دینے کیلئے سب کچھ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جو وہ کر سکتے ہیں۔
۴ کیا آجکل عطیات کی ضرورت ہے؟ بِلاشُبہ ہے اور جوں جوں وقت آگے بڑھتا ہے یہ اَور زیادہ ہوتی جائیگی۔ کیوں؟
۵ مسیحیوں کو خاتمے کے اس دَور کی بابت خاص ہدایات دی گئی ہیں۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو حکم دیا: ”پس تُم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُنکو باپ اور بیٹے اور رُوحاُلقدس کے نام سے بپتسمہ دو۔ اور اُنکو یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جنکا مَیں نے تُم کو حکم دیا ہے۔“—متی۲۸:۱۹، ۲۰۔
۶ جب ہم ”دُنیا کے آخر“ کے اَور زیادہ قریب آتے ہیں تو تعلیم دینے اور منادی کرنے کے اس عظیم کام کو سرانجام دینے کیلئے خاطرخواہ وقت اور وسائل درکار ہیں۔ کیوں؟ اسلئےکہ خدا کی بادشاہت کے پیغام کو ”زمین کی انتہا تک“ لیجانے میں یہ سب کچھ شامل ہے۔ (اعمال ۱:۸) پہلی صدی کے یہودیوں کی طرح زیادہتر لوگ صحائف سے بخوبی واقف نہیں ہیں۔ درحقیقت، دُنیا کی آبادی کی ایک بڑی تعداد بائبل سے واقف تک نہیں اور اسے خدا کے کلام کے طور پر قبول نہیں کرتی۔ لازم ہے کہ مُنادوں کو تربیت دی جائے اور دُنیا کی انتہا تک بھیجا جائے۔ (رومیوں ۱۰:۱۳-۱۵) اور ذرا اس میں شامل زبانوں کی بابت بھی سوچیں! جنہیں منادی کی جاتی ہے ضروری ہے کہ اُنکے پاس اپنی ذاتی زبان میں پڑھنے اور مطالعہ کرنے کیلئے بائبل اور بائبل پر مبنی مطبوعات ہوں۔ تمام لوگوں تک باقاعدہ اور ترقیپسندانہ طور پر پہنچنا اُن کیلئے روحانی پختگی کا باعث بنتا ہے تاکہ وہ اَور دوسرے لوگوں کی مدد کر سکیں اس سب کیلئے وسیع پیمانے پر منظم کئے جانے کی ضرورت ہے۔—۲-تیمتھیس ۲:۲۔
۷ یسوع نے کہا کہ ضرور ہے کہ پہلے ”بادشاہت کی خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کیلئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“ (متی ۲۴:۱۴) لہٰذا اب وقت ہے کہ اس اہم کام کو کرنے کیلئے ہم جوکچھ بھی وقف کر سکتے ہیں کریں۔ اس سے پہلے کہ مادی دولت کی عملی قدروقیمت جاتی رہے ہم اپنے وسائل کا بہترین استعمال کر سکتے ہیں۔—حزقیایل۷:۱۹؛ لوقا۱۶:۹۔
۸ فیاضی کیساتھ خداوند کے کام کو فروغ دینے کیلئے اپنے وقت اور وسائل کو استعمال کرنا بڑی برکات لاتا ہے۔ وہ کیسے؟ کیونکہ خدا، جو سب چیزوں کا مالک ہے، وہ ہمیں اجر دیگا۔ امثال ۱۱:۲۵ بیان کرتی ہے: ”فیاض دل موٹا ہو جائیگا اور سیراب کرنے والا خود بھی سیراب ہوگا۔“ جب ہم اُس کی پرستش کو فروغ دینے کیلئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں تو یہوواہ یقیناً خوش ہوتا ہے۔ (عبرانیوں ۱۳:۱۵، ۱۶) اُس نے قدیم اسرائیل سے جو شریعت کے عہد کے تحت ہدیے لاتے تھے وعدہ کِیا: ”اسی سے میرا امتحان کرو رباُلافواج فرماتا ہے کہ مَیں تُم پر آسمان کے دریچوں کو کھولکر برکت برساتا ہوں کہ نہیں یہاں تک کہ تمہارے پاس اُسکے لئے جگہ نہ رہے۔“ (ملاکی ۳:۱۰) روحانی خوشحالی جس سے آج یہوواہ کے خادم لطفاندوز ہوتے ہیں اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا اپنا وعدہ پورا کرتا ہے۔
۹ تمام لوگوں کو نجات کے دِن کی بابت بتانے کا یہ عظیم کام اور خلوصدل اشخاص کی زندگی کی راہ کی طرف جانے کیلئے مدد کرنا ہمیشہ جاری نہیں رہیگا۔ (متی۷:۱۴؛ ۲-کرنتھیوں ۶:۲) لیکن ضرور ہے کہ خداوند کی ”دوسری بھیڑوں“ کے تمام لوگ جمع کئے جائیں۔ (یوحنا ۱۰:۱۶، اینڈبلیو) آج اس چیلنج کا سامنا کرنا کتنا ضروری ہے! اور راستبازی کی اُس نئی دُنیا میں ماضی کی بابت سوچتے ہوئے ہم میں سے ہر ایک یہ کہتے ہوئے کتنا خوش ہوگا کہ ’جمع کرنے کے اس فیصلہکُن کام میں مَیں نے بھرپور حصہ لیا تھا‘!—۲-پطرس ۳:۱۳۔