اپنی بیوی تبیتا کے ساتھ تبلیغی کام کرتے ہوئے
پاک کلام کی تعلیم زندگی سنوارتی ہے
مَیں تو خدا کے وجود کو مانتا ہی نہیں تھا
پیدائش: 1974ء
پیدائش کا ملک: مشرقی جرمنی
ماضی: خدا کے وجود سے اِنکار کرنے والا
میری سابقہ زندگی
مَیں صوبہ زاکسن کے ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ زاکسن اُس زمانے میں ملک مشرقی جرمنی کا حصہ تھا۔ مَیں اَور میرے گھر والے ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔ میرے والدین نے مجھے بچپن سے اچھی قدریں سکھائی تھیں۔ اُس وقت مشرقی جرمنی میں کمیونسٹ حکومت قائم تھی [کمیونسٹ حکومتیں برابری کے نظریے کو فروغ دیتی ہیں اور یہ اکثر مذہب کے خلاف ہوتی ہیں۔] اِس لیے زاکسن میں زیادہتر لوگ مذہب کو اِتنی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ اور جہاں تک میری بات تھی تو مَیں تو خدا کے وجود کو مانتا ہی نہیں تھا۔اپنی زندگی کے 18 سال مَیں بس کمیونزم کے نظریے کو مانتا رہا اور خدا کے وجود سے اِنکار کرتا رہا۔
مجھے کمیونزم کا نظریہ بہت اچھا لگتا تھا۔ مَیں یہ مانتا تھا کہ ہر شخص کو گھر جائیداد برابر تقسیم کی جانی چاہیے کیونکہ اِس طرح دُنیا میں نہ تو امیر ،امیرتر ہوتا جائے گا اور نہ ہی غریب، غریبتر ہوتا جائے گا۔ لہٰذا مَیں نوجوانوں کی ایک کمیونسٹ پارٹی کا حصہ بن گیا۔ جب مَیں 14 سال کا تھا تو مَیں ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے کام میں حصہ لینے لگا۔ مَیں کاغذ ردی جمع کرتا تاکہ اِنہیں دوبارہ سے اِستعمال کے قابل بنایا جا سکے۔ شہر آئو کے لوگوں نے میری کوششوں کو اِتنا سراہا کہ حکومت نے مجھے اِس کے لیے ایوارڈ دیا۔ حالانکہ مَیں نوجوان تھا لیکن میری کئی جانے مانے سیاستدانوں سے واقفیت تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ مَیں بالکل صحیح کام کر رہا ہوں اور میرا مستقبل بہت روشن ہے۔
لیکن پھر میری دُنیا اچانک سے اُتھلپتھل ہو گئی۔ 1989ء میں دیوارِبرلن کو گِرا دیا گیا اور اِس کے ساتھ ہی مشرقی یورپ کے ملکوں میں قائم کمیونسٹ حکومتیں ختم ہو گئیں۔ اِس کے بعد مجھے ایک اَور دھچکا لگا۔ جلد ہی مجھے یہ اندازہ ہو گیا کہ مشرقی جرمنی میں نااِنصافی بہت عام تھی۔ مثال کے طور پر جو لوگ کمیونزم کے نظریے کو نہیں مانتے تھے، اُنہیں اُن کے شہری حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ کمیونسٹ حکومتیں ایسا کیسے کر سکتی ہیں۔مَیں نے سوچا کہ کیا کمیونزم کے نظریے کے مطابق سب لوگوں کو ایک برابر خیال نہیں کِیا جانا چاہیے؟ کیا یہ نظریہ محض ایک خواب تھا؟ مَیں پریشانی میں ڈوب گیا۔
لہٰذا مَیں نے اپنا دھیان سیاست سے ہٹا کر موسیقی اور مُصوّری میں لگا لیا۔ جب مَیں کالج میں موسیقی سیکھ رہا تھا تو میرا خواب تھا کہ ایک دن مَیں موسیقی اور مُصوّری کو اپنا پیشہ بناؤں گا۔ مَیں نے اُن اچھی قدروں کے مطابق چلنا بھی چھوڑ دیا جو میرے امی ابو نے مجھے سکھائی تھیں۔ میری نظر میں بس یہی بات معنی رکھنے لگی کہ مَیں موج مستی کی زندگی گزاروں اور ایک ہی وقت میں کئی لڑکیوں سے چکر چلاؤں۔ لیکن موسیقی، مُصوّری اور موج مستی نے بھی میرے ذہن کو سکون نہیں پہنچایا۔ مَیں تو جو تصویریں بناتا تھا، اُن سے بھی خوف جھلکتا تھا۔ میرے ذہن میں اکثر یہ سوال آتے تھے کہ میرا مستقبل کیسا ہوگا اور زندگی کا مقصد کیا ہے؟
آخرکار جب مجھے اپنے سوالوں کے جواب مل گئے تو میری حیرت کی اِنتہا نہیں رہی۔ ہوا یہ تھا کہ ایک شام مَیں کالج میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مستقبل کے بارے میں باتچیت کر رہا تھا۔ وہاں مینڈیa نامی ایک طالبِعلم بھی تھی جو یہوواہ کی ایک گواہ تھی۔ اُس شام اُس نے مجھے ایک بڑا ہی اچھا مشورہ دیا۔ اُس نے کہا: ”اندریاس! اگر تُم زندگی اور مستقبل کے بارے میں سوالوں کے جواب جاننا چاہتے ہو تو بائبل کا گہرائی سے مطالعہ کرو۔“
حالانکہ مجھے لگ رہا تھا کہ اِس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا لیکن پھر مَیں نے سوچا کہ ایسا کرنے میں حرج بھی نہیں ہے۔ مینڈی نے مجھے دانیایل کی کتاب کے دوسرے باب کو پڑھنے کا مشورہ دیا۔ جو کچھ مَیں نے اِس میں پڑھا، اُس سے مَیں ہکا بکا رہ گیا۔ اِس میں ایک ایسی پیشگوئی کی گئی تھی جس میں دُنیا کی عالمی طاقتوں یعنی حکومتوں کا ذکر کِیا گیا تھا جو ایک کے بعد ایک آئیں۔ یہ پیشگوئی آج ہمارے زمانے میں بھی پوری ہو رہی ہے۔ مینڈی نے مجھے بائبل کی کچھ اَور پیشگوئیاں بھی دِکھائیں جو مستقبل کے بارے میں تھیں۔ مجھے میرے تمام سوالوں کے جواب مل رہے تھے۔ لیکن مَیں نے سوچا کہ یہ پیشگوئیاں کس نے لکھوائی ہیں اور کون مستقبل کے بارے میں اِتنی درست پیشگوئیاں کر سکتا ہے؟ کیا خدا واقعی وجود رکھتا ہے؟
پاک کلام کی تعلیم کا اثر
مینڈی نے مجھے ہوسٹ اور اینجلیکا نامی شادیشُدہ جوڑے سے ملوایا جو یہوواہ کے گواہ تھے۔ اُنہوں نے خدا کے کلام کو بہتر طور پر سمجھنے میں میری مدد کی۔ جلد ہی مَیں یہ سمجھ گیا کہ یہوواہ کے گواہ ہی وہ لوگ ہیں جو خدا کا ذاتی نام یہوواہ اِستعمال کرتے ہیں اور دوسروں کو اِس کے بارے میں بتاتے ہیں۔ (زبور 83:18؛ متی 6:9) مَیں نے سیکھ لیا کہ یہوواہ خدا نے اِنسانوں کو زمین پر فردوس میں ہمیشہ تک زندگی حاصل کرنے کی اُمید دی ہے۔ اُس کے کلام میں لکھا ہے: ”صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔“ (زبور 37:29) میرے دل کو یہ خیال بہت اچھا لگا کہ اِس وعدے سے وہ تمام لوگ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں جو پاک کلام میں درج خدا کے معیاروں پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن بائبل کے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی میں تبدیلیاں لانا میرے لیے آسان نہیں تھا۔ مَیں نے ایک موسیقار اور مُصوّر کے طور بہت نام کما لیا تھا اور یہ کامیابی میرے سر پر چڑھ گئی تھی۔ اِس لیے سب سے پہلے تو مجھے خاکسار بننے کی ضرورت تھی۔ مجھے اپنی بداخلاق زندگی کو ترک کرنا بھی مشکل لگ رہا تھا۔لیکن یہوواہ میرے ساتھ بڑے صبر سے پیش آیا۔ مجھے اُس کی یہ بات بڑی اچھی لگتی ہے کہ وہ اُن لوگوں کے ساتھ رحم سے پیش آتا ہے جو بائبل کی تعلیمات کے مطابق چلنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔
مَیں اپنی زندگی کے 18 سالوں تک کمیونزم کے نظریے کو مانتا رہا اور خدا کے وجود سے اِنکار کرتا رہا۔ لیکن اِس کے بعد سے پاک کلام کی تعلیمات میری زندگی سنوارنے لگی۔ جو کچھ مَیں نے سیکھا ہے، اُس سے مستقبل کے حوالے سے میری پریشانیاں دُور ہو گئی ہیں اور مجھے زندگی میں ایک مقصد ملا ہے۔ 1993ء میں مَیں نے یہوواہ کے ایک گواہ کے طور پر بپتسمہ لے لیا اور 2000ء میں تبیتا نامی لڑکی سے شادی کر لی۔ تبیتا یہوواہ سے بہت پیار کرتی ہیں۔ ہم اپنا زیادہ سے زیادہ وقت دوسروں کو پاک کلام کی سچائیاں سکھانے میں صرف کرتے ہیں۔ جن لوگوں سے ہم ملتے ہیں، اُن میں سے بہت سے لوگوں کا پسمنظر میرے جیسا ہے۔ مجھے اُس وقت بڑا دلی سکون ملتا ہے جب مَیں اِن لوگوں کو یہ بتایا ہوں کہ وہ یہوواہ کو کیسے جان سکتے ہیں۔
میری زندگی سنور گئی
جب مَیں نے یہوواہ کے گواہوں کی عبادتوں پر جانا شروع کِیا تو میرے والدین کافی فکرمند ہو گئے۔ لیکن بعد میں اُنہیں نظر آنے لگا کہ یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ وقت گزارنے سے مجھ پر کتنا اچھا اثر ہو رہا ہے۔ مجھے اِس بات کی بڑی خوشی ہے کہ اب وہ بائبل پڑھتے ہیں اور یہوواہ کے گواہوں کی عبادتوں پر بھی جاتے ہیں۔
میری شادیشُدہ زندگی خوشحال ہے کیونکہ مَیں اور تبیتا پاک کلام کی اُن ہدایتوں پر چلنے کی پوری کوشش کرتے ہیں جو شادیشُدہ لوگوں کے لیے دی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر ہم نے پاک کلام میں لکھی ہدایت کے مطابق آپس میں عہد کِیا ہے کہ ہم کبھی ایک دوسرے سے بےوفائی نہیں کریں گے۔ یوں ہماری شادی کا بندھن مضبوط ہوا ہے۔—عبرانیوں 13:4۔
اب مجھے مستقبل کی فکر نہیں ستاتی۔ مَیں ایک ایسے عالمگیر خاندان کا حصہ بن گیا ہوں جس میں میرے ہمایمان ایک دوسرے کے ساتھ صلح صفائی سے رہتے ہیں اور آپس میں متحد ہیں۔ اِس خاندان میں شامل ہر فرد ایک دوسرے کو برابر سمجھتا ہے۔ اور یہی شروع سے میری سوچ رہی تھی اور مَیں ساری زندگی اِسی چیز کا خواب دیکھا کرتا تھا۔
a فرضی نام اِستعمال کِیا گیا ہے۔