یادوں کے ذخیرے سے
”یہوواہ آپ کو سچائی سیکھنے کے لیے فرانس لایا ہے“
بھائی آنٹوان سکالچکی نوجوانی میں ایک کوئلے کی کان میں کام کرتے تھے۔ اُن کا سب سے اچھا ساتھی اُن کا گھوڑا تھا۔ وہ دونوں 500 میٹر (1600 فٹ) گہری سُرنگوں سے بڑی مشکل سے کوئلہ نکالتے تھے۔ آنٹوان سے پہلے اُن کے والد بھی اِس کان میں کام کرتے تھے لیکن کان میں ایک حادثے کے دوران وہ شدید زخمی ہو گئے۔ اِس کے بعد آنٹوان کے گھر والوں نے اُن کو کان میں کام پر لگا دیا جہاں اُنہیں ہر دن 9 گھنٹے تک سخت محنت کرنی پڑتی تھی۔ ایک بار تو آنٹوان کان میں پھنس گئے اور بال بال بچے۔
کانکنوں کے اوزار، اور سانلینوبل کے قریب ایک کان جہاں آنٹوان سکالچکی کام کرتے تھے
1920ء اور 1930ء کی دہائی میں پولینڈ سے بہت سے لوگ فرانس منتقل ہوئے اور وہیں اُن کی اولاد بھی پیدا ہوئی۔ بھائی آنٹوان بھی اِسی عرصے کے دوران پیدا ہوئے۔ لیکن پولینڈ کے لوگ فرانس منتقل کیوں ہوئے؟ پہلی عالمی جنگ کے بعد جب پولینڈ کو آزادی ملی تو وہاں کی آبادی بہت زیادہ بڑھ گئی۔ لیکن جنگ کے دوران فرانس کے دس لاکھ سے زیادہ آدمی مارے گئے اِس لیے وہاں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے کے لیے آدمیوں کی سخت ضرورت تھی۔ لہٰذا ستمبر 1919ء میں فرانس اور پولینڈ کے درمیان یہ معاہدہ ہوا کہ دونوں ملکوں کے شہری فرانس یا پولینڈ میں رہائش اِختیار کر سکتے ہیں۔ 1931ء تک فرانس میں پولینڈ کے لوگوں کی تعداد 5 لاکھ 7 ہزار 800 ہو چکی تھی اور اِن میں سے زیادہتر لوگ فرانس کے شمالی علاقوں میں رہتے تھے جہاں کوئلے کی کانیں تھیں۔
پولینڈ کے لوگ اپنے ساتھ اپنی ثقافت بھی لائے اور مذہب سے لگاؤ اُن کی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔ بھائی آنٹوان کی عمر اِس وقت 90 سال ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ”میرے نانا جوزف، پاک کلام کے بارے میں بڑی عقیدت سے بات کرتے تھے اور اُن کے دل میں یہ عقیدت میرے پڑنانا کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔“ ہر اِتوار کو پولینڈ کے لوگ اپنے سب سے اچھے کپڑے پہن کر گِرجے جاتے تھے اور اُنہوں نے فرانس میں بھی اپنے اِس معمول کو جاری رکھا۔ لیکن یہ بات ایسے مقامی لوگوں کو پسند نہیں تھی جو زیادہ مذہبی نہیں تھے۔
بائبل سٹوڈنٹس 1904ء سے فرانس کے شمال مغربی علاقے میں مُنادی کر رہے تھے اور پولینڈ کے بہت سے لوگ پہلی بار اِسی علاقے میں اُن سے ملے۔ 1915ء تک واچٹاور (یعنی مینارِنگہبانی) ہر مہینے پولش زبان میں چھپنے لگا اور 1925ء تک دی گولڈن ایج (جسے اب جاگو! کہا جاتا ہے) بھی اِس زبان میں شائع ہونے لگا۔ بہت سے خاندانوں نے پولش زبان میں اِن رسالوں اور کتاب دی ہارپ آف گاڈ میں درج پیغام کو قبول کِیا۔
آنٹوان کے ایک ماموں 1924ء میں پہلی بار بائبل سٹوڈنٹس کے اِجلاس پر گئے اور اُنہی کے ذریعے آنٹوان کے گھر والوں کو بائبل سٹوڈنٹس کے بارے میں پتہ چلا۔ اُسی سال فرانس کے شہر بورےآنآرٹوا میں بائبل سٹوڈنٹس کا پولش زبان میں پہلا اِجتماع ہوا۔ اِس کے تقریباً ایک مہینے بعد بائبل سٹوڈنٹس کے مرکزی دفتر سے بھائی جوزف رتھرفورڈ ایک اِجتماع کے لیے آئے۔ جب اُنہوں نے دیکھا کہ 2000 حاضرین میں سے زیادہتر لوگ پولینڈ سے ہیں تو اُنہوں نے کہا: ”یہوواہ آپ کو سچائی سیکھنے کے لیے فرانس لایا ہے۔ اب آپ اور آپ کے بچے فرانس کے لوگوں کو سچائی سکھائیں۔ ابھی مُنادی کا بہت سارا کام باقی ہے اور یہوواہ خدا اِس کام کے لیے مبشر فراہم کرے گا۔“
اور یہوواہ خدا نے واقعی مبشر فراہم کئے۔ پولینڈ کے بہن بھائیوں نے اُتنی ہی محنت سے مُنادی کا کام کِیا جتنی محنت سے وہ کانوں سے کوئلہ نکالتے تھے۔ اُن میں سے کچھ تو اپنے ملک واپس لوٹ گئے تاکہ وہاں کے لوگوں کو بھی وہ بیشقیمت سچائیاں سکھا سکیں جو اُنہوں نے خود سیکھی تھیں۔ اِن میں ٹیوفل پیاسکوشکی، شتےپان کوسیاک اور یان زبوڈا شامل تھے جنہوں نے دُوردراز تک خوشخبری پھیلائی۔
لیکن بہت سے مبشر فرانس میں ہی رہے اور اپنے فرانسیسی بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر خوشخبری سناتے رہے۔ 1926ء میں فرانس کے شہر سانلینوبل میں ایک اِجتماع ہوا جس پر 1000 لوگ پولش زبان والے حصے میں آئے اور 300 لوگ فرانسیسی زبان والے حصے میں۔ 1929ء کی سالانہ کتاب میں بتایا گیا کہ ”اِس سال پولینڈ سے 332 بہن بھائیوں نے اپنی زندگی یہوواہ خدا کے لیے وقف کی اور بپتسمہ لیا۔“ دوسری عالمی جنگ شروع ہونے سے پہلے فرانس میں 84 کلیسیائیں تھیں جن میں سے 32 کلیسیائیں پولش زبان کی تھیں۔
فرانس میں پولینڈ کے بہن بھائی ایک اِجتماع پر جا رہے ہیں۔ بینر پر ”یہوواہ کے گواہ“ لکھا ہے۔
1947ء میں پولینڈ کی حکومت نے فرانس میں رہنے والے پولش لوگوں کو پولینڈ لوٹنے کی دعوت دی اور بہت سے یہوواہ کے گواہ اپنے ملک واپس چلے گئے۔ اُن کے جانے کے بعد بھی اُن کی اور اُن کے فرانسیسی بھائیوں کی محنت کے نتائج دیکھے جا سکتے تھے کیونکہ اُس سال مبشروں کی تعداد میں 10 فیصد اِضافہ ہوا۔ اور اِس کے بعد 1948ء سے 1950ء تک 20، 23 اور 40 فیصد اِضافہ ہوا۔ اِن نئے مبشروں کی مدد کرنے کے لیے فرانس میں ہمارے دفتر نے پہلی بار 1948ء میں پانچ حلقے کے نگہبانوں کو مقرر کِیا جن میں سے چار بھائیوں کا تعلق پولینڈ سے تھا۔ اِن میں آنٹوان سکالچکی بھی شامل تھے۔
فرانس میں ابھی بھی بہت سے یہوواہ کے گواہوں کے خاندانی نام پولش ہیں۔ اِن گواہوں کے باپدادا نے پولینڈ سے آ کر نہ صرف کوئلے کی کانوں میں بلکہ خوشخبری پھیلانے میں بھی محنت کی۔ آجکل فرانس میں بہت سے ایسے لوگ آباد ہیں جو دوسرے ملکوں سے آئے ہیں اور اپنی زبان میں سچائی سیکھ رہے ہیں۔ یہ لوگ چاہے اپنے ملک واپس جائیں یا وہیں رہیں، وہ اُن لوگوں کی طرح جوشوخروش سے بادشاہت کا پیغام سناتے ہیں جو پولینڈ سے فرانس منتقل ہوئے تھے۔—فرانس میں ہماری برانچ کی طرف سے۔