سرِورق کا موضوع: کیا موت سے آزادی ممکن ہے؟
موت کا ڈنک
موت ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے ہر کوئی مُنہ پھیرتا ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہر شخص کو کبھی نہ کبھی اِس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موت کا ڈنک بہت ہی زہریلا اور تکلیفدہ ہوتا ہے۔
ہم کبھی بھی خود کو پوری طرح سے اپنے والدین، جیونساتھی یا بچے کی موت کے لیے تیار نہیں کر سکتے، پھر چاہے ہم اِس بارے میں پہلے سے جانتے ہوں یا صدمے کا یہ پہاڑ ہم پر اچانک ٹوٹ پڑے۔ بِلاشُبہ کسی عزیز کی موت ہمیں توڑ کر رکھ دیتی ہے اور ہمارے دل پر ایسا زخم لگاتی ہے جسے بھرا نہیں جا سکتا۔
انتونیو جن کے والد ایک ایکسیڈنٹ میں فوت ہو گئے، کہتے ہیں: ”کسی عزیز کی موت ایسے ہی ہے جیسے کوئی ہمیشہ کے لیے آپ کے گھر پر تالا لگا کر چابیاں اپنے ساتھ لے جائے۔ آپ پھر کبھی اپنے گھر نہیں جا سکتے، ایک لمحے کے لیے بھی نہیں۔ اب آپ کے پاس صرف اِس گھر کی یادیں رہ گئیں ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے آپ کو قبول کرنا پڑے گا، چاہے آپ اِس سے مُنہ موڑنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کریں۔ شاید آپ کو لگے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن اب آپ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے۔“
ڈوروتھی کو بھی ایسے ہی صدمے سے گزرنا پڑا۔ وہ 47 سال کی عمر میں بیوہ ہو گئیں۔ اپنے شوہر کی موت کی وجہ سے اُنہوں نے ٹھانا کہ وہ کچھ خاص سوالوں کے جواب حاصل کرکے رہیں گی۔ وہ سنڈے سکول کی ٹیچر تھیں اور مانتی تھیں کہ موت کے بعد اِنسان کے ساتھ ضرور کچھ نہ کچھ ہوتا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھیں کہ اصل میں کیا ہوتا ہے۔ اِسی لیے اُنہوں نے اپنے چرچ کے پادری سے پوچھا کہ ”جب ہم مر جاتے ہیں تو ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے؟“ اُس پادری نے اُنہیں جواب دیا: ”اِس بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا۔ جب وقت آئے گا تو ہمیں پتہ چل جائے گا۔“
کیا ہمیں یہ سوچ کر مطمئن ہو جانا چاہیے کہ وقت آنے پر ہمیں پتہ چل جائے گا کہ مرنے پر کیا ہوتا ہے؟ یا کیا اِس سوال کا جواب حاصل کرنے کا کوئی اَور طریقہ بھی ہے؟