یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م13 15/‏5 ص.‏ 13
  • قارئین کے سوال

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • قارئین کے سوال
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • ملتا جلتا مواد
  • کیا آپ کو معلوم ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • سُولی پر سزائے‌موت
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
  • کیا آپ کو یاد ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
م13 15/‏5 ص.‏ 13

قارئین کے سوال

کیا بنی‌اسرائیل مجرموں کو سزائے‌موت دینے کے لئے اُن کو سُولی پر لٹکاتے تھے؟‏

پُرانے زمانے میں بہت سی قومیں اپنے کچھ مجرموں کو سزائے‌موت دینے کے لئے اُنہیں سُولی یا کھمبے پر لٹکا دیتی تھیں۔ مثال کے طور پر رومی لوگ مجرموں کو یا تو سُولی پر باندھ دیتے تھے یا پھر اُن کے ہاتھوں پیروں میں کیل ٹھونک کر اُنہیں سُولی پر لٹکا دیتے تھے۔ مجرم کافی دنوں تک سُولی پر زندہ رہتا تھا اور آخرکار بھوک، پیاس، تکلیف اور سخت گرمی یا سردی کی وجہ سے مر جاتا تھا۔ رومی لوگوں کی نظر میں یہ بہت ہی شرم‌ناک سزا تھی اور یہ صرف اُن لوگوں کو دی جاتی تھی جو بہت بُرے کام کرتے تھے۔‏

کیا بنی‌اسرائیل بھی مجرموں کو سزائے‌موت دینے کے لئے اُنہیں سُولی پر لٹکاتے تھے؟ غور کریں کہ خدا نے اسرائیلیوں کو کیا حکم دیا تھا۔ خدا نے کہا تھا کہ ”‏اگر کسی نے کوئی ایسا گُناہ کِیا ہو جس سے اُس کا قتل واجب ہو اور تُو اُسے مار کر درخت سے ٹانگ دے تو اُس کی لاش رات‌بھر درخت پر لٹکی نہ رہے بلکہ تُو اُسی دن اُسے دفن کر دینا۔“‏ (‏است ۲۱:‏۲۲، ۲۳)‏ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ اُس زمانے میں سزائے‌موت کے مجرم کو پہلے ہی مار ڈالا جاتا تھا اور پھر اُس کی لاش کو درخت یا سُولی پر لٹکایا جاتا تھا۔ لیکن بنی‌اسرائیل مجرم کو کیسے مارتے تھے؟‏

احبار ۲۰:‏۲ میں لکھا ہے:‏ ”‏بنی‌اؔسرائیل میں سے یا اُن پردیسیوں میں سے جو اسرائیلیوں کے درمیان بودوباش کرتے ہیں جو کوئی شخص اپنی اولاد میں سے کسی کو مولکؔ کی نذر کرے وہ ضرور جان سے مارا جائے۔ اہلِ‌مُلک اُسے سنگسار کریں۔“‏ اِس کے علاوہ اگر اسرائیلی قوم میں کوئی شخص ’‏جادوگر ہوتا‘‏ تو اُسے بھی ”‏سنگسار“‏ کِیا جاتا تھا۔—‏احبا ۲۰:‏۲۷۔‏

استثنا ۲۲:‏۲۳، ۲۴ میں لکھا ہے:‏ ”‏اگر کوئی کنواری لڑکی کسی شخص سے منسوب ہو گئی ہو اور کوئی دوسرا آدمی اُسے شہر میں پا کر اُس سے صحبت کرے تو تُم دونوں کو اُس شہر کے پھاٹک پر نکال لانا اور اُن کو تُم سنگسار کر دینا کہ وہ مر جائیں۔ لڑکی کو اِس لئے کہ وہ شہر میں ہوتے ہوئے نہ چلّائی اور مرد کو اِس لئے کہ اُس نے اپنے ہمسایہ کی بیوی کو بے‌حرمت کِیا۔ یوں تُو ایسی بُرائی کو اپنے درمیان سے دفع کرنا۔“‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنی‌اسرائیل میں یہ دستور تھا کہ جو لوگ سنگین جُرم کرتے تھے، اُن کو سنگسار کِیا جاتا تھا یعنی اُن کو پتھر مارمار کر ہلاک کر دیا جاتا تھا۔‏a

سزائے‌موت کے مجرم کو پہلے ہی مار ڈالا جاتا تھا اور پھر اُس کی لاش کو درخت یا سُولی پر لٹکایا جاتا تھا۔‏

پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏جسے درخت پر لٹکایا گیا وہ خدا کی طرف سے ملعون ہوتا ہے۔“‏ (‏استثنا ۲۱:‏۲۳، نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ اُس ”‏ملعون“‏ یعنی لعنتی شخص کی لاش کو درخت یا سُولی پر لٹکانے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ دوسرے اسرائیلی اُس کی لاش کو دیکھ کر عبرت حاصل کریں۔‏

a بہت سے عالم اِس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ شریعت کے مطابق مجرموں کو سُولی پر لٹکانے سے پہلے مار دیا جاتا تھا۔ لیکن اِس بات کا ثبوت ہے کہ پہلی صدی عیسوی میں یہودی کچھ مجرموں کو زندہ سُولی پر لٹکاتے تھے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں