کیا تاریخدان یوسیفس نے یسوع کو واقعی مسیح کہا تھا؟
پہلی صدی کے تاریخدان فلاویس یوسیفس نے کتاب یہودیوں کی قدیم تاریخ لکھی۔ اِس کتاب کی جِلد نمبر ۲۰ میں اُنہوں نے یعقوب کی موت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: ”یعقوب جو یسوع کا بھائی تھا۔ یہ وہ یسوع تھا جس کو لوگ مسیح کہتے تھے۔“ بہت سے عالم مانتے ہیں کہ یہ بات یوسیفس نے ہی لکھی ہے۔ لیکن اِسی کتاب میں یسوع مسیح کے بارے میں ایک اَور بیان بھی لکھا ہے اور کچھ عالموں کو لگتا ہے کہ یہ یوسیفس نے نہیں لکھا۔ اِس بیان کو ”یوسیفس کی شہادت“ کہا جاتا ہے۔ اِس میں لکھا ہے:
”اُس زمانے میں دانشمند آدمی یسوع بھی تھا۔ پتہ نہیں اُس کو آدمی کہنا صحیح ہوگا یا نہیں کیونکہ اُس نے بہت بڑےبڑے کام کئے تھے۔ لوگ اُس کی تعلیم کو بڑے شوق سے سنتے تھے۔ بہت سے یہودی اور غیریہودی اُس پر ایمان لے آئے تھے۔ وہ مسیح تھا۔ پیلاطُس نے ہمارے مُعزز لوگوں کے کہنے پر اُسے سُولی پر چڑھانے کی سزا دی۔ لیکن جو لوگ اُس سے پیار کرتے تھے، اُنہوں نے اُسے نہیں چھوڑا کیونکہ یسوع اپنی موت کے تین دن بعد اِن لوگوں کو زندہ نظر آیا، جیسے کہ خدا کے نبیوں نے پیشینگوئی کی تھی۔ اُنہوں نے یسوع کے بارے میں اَور بھی ہزاروں پیشینگوئیاں کی تھیں۔ اور مسیحی جو اُس کے نام سے پہچانے جاتے ہیں، وہ اب تک موجود ہیں۔“—انگریزی ترجمہ: ولیم وِسٹن۔
سولہویں صدی کے آخر سے اِس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ آیا یوسیفس نے ہی اِس بیان کو لکھا ہے یا نہیں۔ چار صدیوں سے چلی آ رہی اِس بحث کو سرژ بردے نے سلجھانے کی کوشش کی۔ بردے ایک فرانسیسی تاریخدان ہیں اور قدیم یونانی اور رومی ادب کے ماہر ہیں۔ اُنہوں نے ”یوسیفس کی شہادت“ پر تحقیق کی اور اِس سلسلے میں ایک کتاب لکھی جس کا عنوان ہے: یوسیفس کی شہادت—تاریخی ثبوت کی روشنی میں (یہ کتاب فرانسیسی زبان میں دستیاب ہے۔)
یوسیفس یونانی زبان میں یہودیوں کی تاریخ کے بارے میں کتابیں لکھتے تھے۔ وہ مسیحی نہیں تھے بلکہ یہودی تھے۔ بعض عالم کہتے ہیں کہ یوسیفس چونکہ یہودی تھے اِس لئے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ یسوع کا ذکر کرتے وقت اُن کے لئے لفظ مسیح استعمال کرتے۔ لیکن تحقیق سے بردے کو پتہ چلا کہ ”یونانی زبان میں ایک شخص کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اکثر وہ لقب استعمال ہوتا تھا جس سے وہ شخص عام طور پر پہچانا جاتا تھا۔“ اِس بِنا پر بردے نے کہا کہ ”اِس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ یوسیفس نے یسوع کے لئے لفظ مسیح استعمال کِیا۔ اصل میں عالموں کو یونانی زبان کی اِسی خصوصیت پر خاص توجہ دینی چاہئے تھی۔“
کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کسی اَور نے یوسیفس کے انداز میں ”یوسیفس کی شہادت“ لکھی ہو؟ تاریخی ثبوتوں اور یوسیفس کے نسخوں پر تحقیق کرنے کے بعد بردے اِس نتیجے پر پہنچے کہ یوسیفس کے لکھنے کا انداز بہت منفرد تھا۔ اگر کسی نے یوسیفس کے انداز میں لکھا ہے تو یہ ایک معجزے سے کم نہیں۔ بردے نے کہا: ”یوسیفس کے انداز میں صرف یوسیفس ہی لکھ سکتے تھے۔“
تو پھر عالم ”یوسیفس کی شہادت“ پر شک کیوں کرتے ہیں؟ اِس سلسلے میں بردے نے کہا: ”یوسیفس کی شہادت پر اِس لئے شک کِیا جاتا ہے کیونکہ کچھ عالموں نے اِس پر سوال اُٹھائے تھے۔ مگر عالموں نے کسی اَور نسخے پر اِتنے زیادہ سوال نہیں اُٹھائے۔“ بردے کے مطابق اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عالم یسوع کو مسیح کے طور پر تسلیم نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اِن عالموں نے ”یوسیفس کی شہادت“ پر تحقیق کرکے غلط نتیجے نکالے جبکہ اِس کا جائزہ لینے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اِسے یوسیفس نے ہی لکھا تھا۔
پتہ نہیں بردے کی تحقیق سے عالموں کا ”یوسیفس کی شہادت“ کے بارے میں نظریہ بدلے گا یا نہیں۔ البتہ بردے کی تحقیق کی بِنا پر پیئر ژولترے کا نظریہ ضرور بدل گیا۔ ژولترے ایک مشہور عالم ہیں جنہوں نے اِس بات پر تحقیق کی کہ یہودی تہذیب پر یونانی تہذیب کا کتنا زیادہ اثر ہوا تھا۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے مسیحیت کی اِبتدائی تاریخ پر بھی تحقیق کی۔ کئی سال تک اُن کو بھی لگتا تھا کہ ”یوسیفس کی شہادت“ میں تبدیلی کی گئی تھی۔ وہ اُن عالموں کا مذاق اُڑاتے تھے جو مانتے تھے کہ یوسیفس نے اِس بیان کو لکھا ہے۔ لیکن پھر بردے کی تحقیق کی بِنا پر اُن کا نظریہ بدل گیا۔ اُنہوں نے کہا: ”آئندہ کسی کو بھی اِس بات پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے کہ ”یوسیفس کی شہادت“ یوسیفس نے نہیں لکھی۔“
بےشک یہوواہ کے گواہ صرف انسانوں کی تحریروں کی بنا پر یسوع کو مسیح نہیں مانتے۔ وہ اِس لئے یسوع کو مسیح مانتے ہیں کیونکہ پاک کلام میں اِس کے بارے میں ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔—۲-تیم ۳:۱۶۔