کیا یسوع مسیح سیاست میں حصہ لیتے تھے؟
اِنجیلوں میں بتایا گیا ہے کہ جب یسوع مسیح زمین پر تھے تو اُنہیں کئی بار سیاست میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ مثال کے طور پر اُن کے بپتسمے کے تھوڑی دیر بعد اِبلیس نے اُنہیں دُنیا کا حکمران بننے کی پیشکش کی۔ کچھ عرصے بعد لوگوں کے ایک ہجوم نے اُنہیں بادشاہ بنانے کی کوشش کی۔ پھر ایک اَور موقعے پر کچھ لوگوں نے یسوع مسیح پر دباؤ ڈالا کہ وہ سیاسی معاملات کے سلسلے میں اپنی رائے پیش کریں۔ یسوع مسیح نے اِن موقعوں پر کیسا ردِعمل ظاہر کِیا؟ آئیں، دیکھیں۔
دُنیا کا حکمران۔ اِنجیلوں میں بتایا گیا ہے کہ اِبلیس نے یسوع مسیح کو دُنیا کا حکمران بننے کی پیشکش کی تھی۔ اُس نے یسوع مسیح سے کہا کہ وہ اُنہیں ”دُنیا کی سب سلطنتیں“ دےدے گا۔ ذرا سوچیں کہ اگر یسوع مسیح ساری دُنیا کے حکمران بن جاتے تو وہ انسانوں کی مشکلات کو دُور کرنے کے لئے بہت کچھ کر سکتے تھے۔ بِلاشُبہ اگر کسی ایسے شخص کو دُنیا کا حکمران بننے کی پیشکش کی جائے جو سیاست کی طاقت پر یقین رکھتا ہو اور جو انسانی مسائل کو حل کرنے کی خواہش بھی رکھتا ہو تو وہ اِس پیشکش کو نہیں ٹھکرائے گا۔ لیکن یسوع مسیح نے اِسے ٹھکرا دیا تھا۔—متی ۴:۸-۱۱۔
بادشاہ۔ یسوع مسیح کے زمانے کے بہت سے لوگ کسی ایسے شخص کو اپنا حکمران بنانا چاہتے تھے جو اُن کے معاشی اور سیاسی مسائل کو حل کر سکے۔ یسوع مسیح کے معجزوں سے متاثر ہو کر اُنہوں نے چاہا کہ یسوع مسیح سیاست کے میدان میں اُتر آئیں۔ اِس پر یسوع مسیح کا ردِعمل کِیا تھا؟ اِنجیل میں لکھا ہے کہ ”یسوؔع یہ معلوم کرکے کہ وہ آکر مجھے بادشاہ بنانے کے لئے پکڑا چاہتے ہیں پھر پہاڑ پر اکیلا چلا گیا۔“ (یوحنا ۶:۱۰-۱۵) اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُنہوں نے سیاست میں حصہ لینے سے کنارہ کِیا۔
سیاسی رہنما۔ یسوع مسیح کی موت سے کچھ دن پہلے کچھ فریسی اور ہیرودی لوگ یسوع مسیح کو آزمانے کے لئے اُن کے پاس آئے۔ فریسی لوگ روم کی حکومت کے خلاف تھے جبکہ ہیرودی لوگ روم کے حمایتی تھے۔ اُنہوں نے یسوع مسیح سے پوچھا کہ کیا ہمیں روم کی حکومت کو ٹیکس دینا چاہئے؟ اِس طرح اُنہوں نے یسوع مسیح کو ایک سیاسی معاملے میں اُلجھانے کی کوشش کی۔
اِنجیل میں لکھا ہے کہ یسوع مسیح نے اُن سے کہا کہ ”تُم مجھے کیوں آزماتے ہو؟ میرے پاس ایک دینار لاؤ کہ مَیں دیکھوں۔ وہ لے آئے۔ اُس نے اُن سے کہا یہ صورت اور نام کس کا ہے؟ اُنہوں نے اُس سے کہا قیصرؔ کا۔ یسوؔع نے اُن سے کہا جو قیصرؔ کا ہے قیصرؔ کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو۔“ (مرقس ۱۲:۱۳-۱۷) یسوع مسیح کی اِس بات سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ اِس سلسلے میں انگریزی کتاب مذہب اور حکومت—دو طاقتوں کی داستان میں لکھا ہے: ”یسوع مسیح نے ایک سیاسی رہنما بننے سے اِنکار کیا اور یہ معیار قائم کِیا کہ مذہب اور سیاست دو الگالگ شعبے ہیں۔“
یہ سچ ہے کہ یسوع مسیح نے سیاست میں حصہ نہیں لیا تھا لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اُنہیں لوگوں کی فکر نہیں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ لوگ کرپشن، غربت اور ناانصافی جیسے مسائل کی دَلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ اُنہیں لوگوں کی خستہحالی دیکھ کر بڑا دُکھ ہوتا تھا۔ (مرقس ۶:۳۳، ۳۴) پھر بھی اُنہوں نے دُنیا کو ناانصافیوں سے پاک کرنے کے لئے کوئی نئی تحریک شروع نہیں کی تھی حالانکہ لوگوں نے اُنہیں سیاسی معاملات میں اُلجھانے کی کوشش تو بہت کی تھی۔
اِن مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع مسیح نے سیاست میں حصہ لینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ لیکن سیاست کے بارے میں مسیحیوں کا نظریہ کیا ہونا چاہئے؟ کیا اُنہیں سیاست میں حصہ لینا چاہئے؟