چوتھا عقیدہ: خدا تثلیث ہے
اِس جھوٹ کا آغاز کہاں سے ہوا؟ ”بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تثلیث کے عقیدے کا آغاز چوتھی صدی کے آخر میں ہوا۔ ایک لحاظ سے یہ درست ہے . . . کیونکہ ’ایک خدا میں تین شخص‘ کا عقیدہ چوتھی صدی کے اختتام سے پہلے تک مسیحی ایمان میں پوری طرح سے شامل نہیں کِیا گیا تھا۔“—دی نیو کیتھولک انسائیکلوپیڈیا (۱۹۶۷)، جِلد ۱۴، صفحہ ۲۹۹۔
”نقایہ کے شہر میں ۲۰ مئی، ۳۲۵ عیسوی کو ایک مجلس اکٹھی ہوئی۔ رومی شہنشاہ قسطنطین نے خود اس کی صدارت کی اور تمام بحثومباحثے میں پیشپیش رہا۔ . . . اِس مجلس نے خدا اور مسیح کے درمیان تعلق کے بارے میں عقیدہ ترتیب دیا۔ اِس عقیدے کا مرکزی خیال قسطنطین نے خود پیش کِیا کہ ’خدا اور مسیح برابر ہیں۔‘ اِس مجلس میں حاضر زیادہتر بشپ شہنشاہ کے اِس خیال سے متفق نہیں تھے۔ پھربھی اُس کے ڈر سے اُنہیں اِس عقیدے کی تحریری دستاویز پر دستخط کرنے پڑے۔ اِن میں سے صرف دو نے دستخط کرنے سے انکار کِیا۔“—انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا (۱۹۷۰)، جِلد ۶، صفحہ ۳۸۶۔
بائبل کی تعلیم کیا ہے؟ ”[ستفنس] نے روحُالقدس سے معمور ہو کر آسمان کی طرف غور سے نظر کی اور خدا کا جلال اور یسوؔع کو خدا کی دہنی طرف کھڑا دیکھ کر۔ کہا کہ دیکھو! مَیں آسمان کو کُھلا اور ابنِآدم کو خدا کی دہنی طرف کھڑا دیکھتا ہوں۔“—اعمال ۷:۵۵، ۵۶۔
یہ رویا کیا ظاہر کرتی ہے؟ اِس رویا میں ستفنس نے خدا کی رُوح سے معمور ہو کر یسوع کو ”خدا کی دہنی طرف کھڑا“ دیکھا۔ اِس سے واضح ہوتا ہے کہ یسوع مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد بھی خدا نہیں بنا تھا بلکہ وہ خدا سے الگ ایک روحانی ہستی تھا۔ نیز، اِس رویا میں تیسرا شخص کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ایک پادری نے بائبل میں سے تثلیث کے عقیدے کی حمایت کرنے والی آیات ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ اِس کے بعد اُس نے اپنی کتاب میں یہ نتیجہ اخذ کِیا: ”ایک خدا میں تین شخص کا عقیدہ . . . نئے عہدنامے میں کہیں نہیں ملتا۔“—مسیحیت اور عقائد کی ابتدا (فرانسیسی زبان میں دستیاب)۔
قسطنطین نے چوتھی صدی میں چرچ کے اختلافات کو ختم کرنے کے لئے تثلیث کے عقیدے کو فروغ دیا تھا۔ لیکن اِس سے ایک اَور سوال پیدا ہوا: مریم جس نے یسوع کو جنم دیا کیا وہ ”خدا کی ماں“ تھی؟
بائبل کی اِن آیات پر غور کریں: متی ۲۶:۳۹؛ یوحنا ۱۴:۲۸؛ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۲۷، ۲۸؛ کلسیوں ۱:۱۵، ۱۶
سچ یہ ہے:
تثلیث کے عقیدے کا آغاز چوتھی صدی کے آخر میں ہوا
[صفحہ ۷ پر تصویر کا حوالہ]
Museo Bardini, Florence