یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م09 1/‏11 ص.‏ 3-‏4
  • روحُ‌القدس—‏مختلف نظریات کی وجہ کیا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • روحُ‌القدس—‏مختلف نظریات کی وجہ کیا ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏روح‌القدس کے نام سے“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • روحُ‌القدس کیا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • پاک روح کی رہنمائی —‏رسولوں کے زمانے سے لے کر آج تک
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
  • رُوح کے موافق چلنے اور خود کو یہوواہ کے لئے وقف کرنے میں تعلق
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
م09 1/‏11 ص.‏ 3-‏4

روحُ‌القدس—‏مختلف نظریات کی وجہ کیا ہے؟‏

روحُ‌القدس کیا ہے؟ یہ سوال جتنا آسان لگتا ہے اِس کا جواب اُتنا ہی مشکل ہے۔ اِس سلسلے میں سولہویں پوپ بینڈکٹ نے آسٹریلیا میں خطاب کرتے ہوئے کہا:‏ ”‏ایسا لگتا ہے کہ روحُ‌القدس کی واضح سمجھ حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔“‏

بِلاشُبہ، لوگ روحُ‌القدس کے بارے میں اُلجھن کا شکار ہیں۔ وہ اِس سلسلے میں مختلف نظریات رکھتے ہیں۔ آئیں اِن میں سے چند پر غور کریں:‏

‏• روحُ‌القدس ایک حقیقی شخص ہے جو مسیح کے شاگردوں کے اندر رہتا ہے۔‏

‏• روحُ‌القدس دُنیا میں خدا کی موجودگی کی علامت ہے۔‏

‏• روحُ‌القدس تثلیث میں شامل تیسرا شخص ہے۔‏

روحُ‌القدس کے بارے میں لوگوں کی اِس اُلجھن کی وجہ کیا ہے؟ دراصل اِس کا آغاز چوتھی صدی عیسوی سے ہوا جب بعض مذہبی عالموں نے یہ دعویٰ کِیا کہ روحُ‌القدس ایک شخص ہے جو خدا کے برابر ہے۔ لیکن یہ پاک صحائف کی تعلیم نہیں تھی اور نہ ہی مسیح کے ابتدائی شاگردوں نے یہ سکھایا تھا۔ دی نیو کیتھولک انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے:‏ ”‏پُرانے عہدنامے میں خدا کی رُوح کو ایک شخص کے طور پر بیان نہیں کِیا گیا ہے .‏ .‏ .‏ خدا کی رُوح درحقیقت خدا کی طاقت ہے۔“‏ یہ انسائیکلوپیڈیا مزید بیان کرتا ہے:‏ ”‏نئے عہدنامے کی زیادہ‌تر آیات خدا کی پاک رُوح کو ایک شخص نہیں بلکہ ایک طاقت کے طور پر ظاہر کرتی ہیں۔ یہ بات نئے عہدنامے میں خدا کی رُوح اور خدا کی طاقت کے درمیان پائے جانے والے تعلق سے واضح ہو جاتی ہے۔“‏

یہ سچ ہے کہ لوگوں کے لئے ایک طاقت کو ایک شخص سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ امریکہ میں کئے گئے ایک حالیہ سروے سے ظاہر ہوا کہ بیشتر لوگ اب اِس نظریے کی حمایت نہیں کرتے کہ روحُ‌القدس ایک شخص ہے۔ کیا اُن کا یہ خیال دُرست ہے؟ یاپھر کیا ہمیں اُن مذہبی عالموں کی بات مان لینی چاہئے جو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ ”‏روحُ‌القدس بھی باپ اور بیٹے کی طرح ایک شخص ہے“‏؟‏

روحُ‌القدس کے متعلق سچائی جاننے کے لئے ہمیں بائبل سے مدد لینے کی ضرورت ہے جو اِس کے بارے میں تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ پولس رسول نے لکھا:‏ ”‏ہر ایک صحیفہ خدا کے الہام سے ہے اور سچائی کی تعلیم دینے اور اصلاح کے لئے مفید ہے۔“‏—‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶‏، ٹوڈیز انگلش ورشن۔‏

آپ کو روحُ‌القدس کے متعلق سچائی جاننے کی کوشش کیوں کرنی چاہئے؟ کیونکہ یہ سچائی آپ کو خدا سے مدد حاصل کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔ کیا آپ بعض‌اوقات یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ اپنی طاقت سے زندگی کی مشکلات کا سامنا نہیں کر سکتے؟ یسوع نے اپنے شاگردوں سے وعدہ کِیا:‏ ”‏مانگتے رہو گے تو تمہیں دیا جائے گا، .‏ .‏ .‏ جب تُم .‏ .‏ .‏ اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ہو تو کیا آسمانی باپ اُنہیں پاک رُوح افراط سے عطا نہ فرمائے گا جو اُس سے مانگتے ہیں۔“‏—‏لوقا ۱۱:‏۹،‏ ۱۳‏، نیو اُردو بائبل ورشن۔‏

اگلے مضامین میں ہم پاک صحائف کی مدد سے یہ سیکھیں گے کہ روحُ‌القدس درحقیقت کیا ہے۔ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ یہ ہمیں کیسے فائدہ پہنچا سکتی ہے۔‏

‏[‏صفحہ ۳ پر عبارت]‏

پاک صحائف سے ظاہر ہوتا ہے کہ روحُ‌القدس دراصل کیا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں