کیا غربت خدا کی ناپسندیدگی کا اظہار ہے؟
خدا نے قدیم اسرائیلی قوم کو بتایا: ”تیرے درمیان کوئی کنگال [”غریب،“ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن] نہ رہے۔“ اِس کی وجہ یہ تھی کہ خدا نے اُنہیں جو شریعت دی تھی اِس میں غریبوں کی مدد کرنے اور اُنہیں قرض سے چھٹکارا دلانے کے سلسلے میں احکام بھی شامل تھے۔ (استثنا ۱۵:۱-۴، ۷-۱۰) لہٰذا، اسرائیلیوں کے درمیان کوئی غریب نہیں ہونا تھا کیونکہ یہوواہ خدا نے اُنہیں برکت دینے کا وعدہ کِیا تھا۔ لیکن اِس برکت کا انحصار شریعت کی فرمانبرداری کرنے پر تھا اور اسرائیلی ایسا کرنے میں ناکام رہے۔
تاہم، اِس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ امیروں کو خدا کی پسندیدگی حاصل ہے جبکہ غریبوں کو اُس کی خوشنودی حاصل نہیں ہے۔ خدا کے بہت سے وفادار خادم غریب تھے۔ مثال کے طور پر، عاموس ایک غریب چرواہا اور پھل بٹورنے والا تھا۔ (عاموس ۱:۱؛ ۷:۱۴) اِس کے علاوہ، ایلیاہ نبی کے دنوں میں جب اسرائیل میں قحط پڑا تو ایلیاہ ایک غریب بیوہ کے گھر میں رہا۔ اِس پورے عرصے کے دوران اِس بیوہ کا آٹا اور تیل معجزانہ طور پر ختم نہ ہوا۔ غور کریں کہ نہ تو ایلیاہ امیر بنا اور نہ ہی بیوہ بلکہ یہوواہ خدا نے اُنہیں صرف ضرورت کی چیزیں فراہم کیں۔—۱-سلاطین ۱۷:۸-۱۶۔
بعض لوگ اچانک رُونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے غریب ہو جاتے ہیں۔ مثلاً، کسی حادثے یا بیماری کی وجہ سے لوگ عارضی یا مستقل طور پر کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ نیز، کسی شخص کی موت کی وجہ سے اُس کی بیوی بیوہ اور اُس کے بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایسے واقعات خدا کی ناپسندیدگی کا اظہار نہیں ہیں۔ ضرورتمندوں کے لئے یہوواہ خدا کی فکرمندی نعومی اور روت کی مثال سے ظاہر ہوتی ہے۔ اگرچہ نعومی اور روت کو اپنے شوہروں کی وفات کے بعد غربت کا سامنا کرنا پڑا توبھی یہوواہ خدا نے اُنہیں برکت دی اور اُن کی ضروریات پوری کرنے کا بندوبست کِیا۔—روت ۱:۱-۶؛ ۲:۲-۱۲؛ ۴:۱۳-۱۷۔
اِن مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ غربت خدا کی ناپسندیدگی کا اظہار نہیں ہے۔ یہوواہ خدا کے وفادار خادم، بادشاہ داؤد کے اِن الفاظ پر بھروسا رکھ سکتے ہیں: ”مَیں جوان تھا اور اب بوڑھا ہوں توبھی مَیں نے صادق کو بیکس اور اُس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا۔“—زبور ۳۷:۲۵۔
[صفحہ ۸ پر تصویر]
اگرچہ نعومی اور روت غریب تھیں توبھی یہوواہ خدا نے اُنہیں برکت بخشی اور اُن کی دیکھبھال کی