یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م09 1/‏3 ص.‏ 7
  • کیا یسوع مسیح قادرِمطلق خدا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا یسوع مسیح قادرِمطلق خدا ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • ملتا جلتا مواد
  • یسوع مسیح کون ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • بیٹا باپ کو ظاہر کرنا چاہتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
  • یسوع مسیح کون ہیں؟‏
    پاک کلام کی تعلیم حاصل کریں
  • یسوع مسیح کون ہے؟‏
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
م09 1/‏3 ص.‏ 7

کیا یسوع مسیح قادرِمطلق خدا ہے؟‏

لوگ اکثر اِس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں:‏

◼ ”‏جی‌ہاں۔ یسوع مسیح ہی قادرِمطلق خدا ہے۔“‏

◼ ”‏یسوع خدا ہے اور وہ مجسم ہو کر زمین پر آیا تھا۔“‏

یسوع مسیح نے اِس موضوع پر کیا تعلیم دی؟‏

◼ ”‏اگر تُم مجھ سے محبت رکھتے تو اِس بات سے کہ مَیں باپ کے پاس جاتا ہوں خوش ہوتے کیونکہ باپ مجھ سے بڑا ہے۔“‏ (‏یوحنا ۱۴:‏۲۸‏)‏ یسوع مسیح نے اِس بات کو تسلیم کِیا کہ وہ اور خدا برابر کا درجہ نہیں رکھتے۔‏

◼ ”‏مَیں اپنے باپ اور تمہارے باپ اور اپنے خدا اور تمہارے خدا کے پاس اُوپر جاتا ہوں۔“‏ (‏یوحنا ۲۰:‏۱۷‏)‏ یسوع مسیح نے خود کو خدا کا لقب نہیں دیا بلکہ اُس نے خدا کو ایک الگ ہستی کے طور پر بیان کِیا۔‏

◼ ”‏مَیں نے کچھ اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ باپ جس نے مجھے بھیجا اُسی نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ کیا کہوں اور کیا بولوں۔“‏ (‏یوحنا ۱۲:‏۴۹‏)‏ یسوع مسیح نے جو کچھ سکھایا یہ اُس کی طرف سے نہیں تھا بلکہ خدا کی طرف سے تھا۔‏

یسوع مسیح نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ قادرِمطلق خدا ہے بلکہ اُس نے کہا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے۔ جب یسوع مسیح زمین پر تھا تو وہ اکثر خدا سے دُعا کرتا تھا۔ اگر وہ واقعی خدا تھا تو وہ کس سے دُعا مانگ رہا تھا؟ (‏متی ۱۴:‏۲۳؛‏ ۲۶:‏۲۶-‏۲۹‏)‏ ظاہری بات ہے کہ وہ خدا سے دُعا مانگنے کا محض دکھاوا نہیں کر رہا تھا۔‏

ایک بار یسوع مسیح کے دو شاگردوں نے اُس سے درخواست کی کہ ہمیں اپنی بادشاہت میں خاص درجہ دے۔ اِس پر اُس نے جواب دیا:‏ ”‏اپنے دہنے بائیں کسی کو بٹھانا میرا کام نہیں مگر جن کے لئے میرے باپ کی طرف سے تیار کِیا گیا اُن ہی کے لئے ہے۔“‏ (‏متی ۲۰:‏۲۳‏)‏ جب یسوع مسیح نے کہا کہ اِن شاگردوں کی درخواست پوری کرنا اُس کے اختیار میں نہیں ہے تو کیا وہ غلط کہہ رہا تھا؟ جی‌نہیں، بلکہ وہ اِس بات کو تسلیم کر رہا تھا کہ صرف خدا ہی ایسی درخواستیں پوری کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ یسوع مسیح نے یہ بھی کہا کہ کچھ ایسی باتیں ہیں جن کے بارے میں نہ تو وہ خود اور نہ ہی فرشتے جانتے ہیں بلکہ صرف خدا جانتا ہے۔—‏مرقس ۱۳:‏۳۲‏۔‏

کیا یسوع مسیح صرف زمین پر خدا سے کم‌تر درجہ رکھتا تھا؟ جی‌نہیں۔ یسوع مسیح کا درجہ اُس وقت بھی خدا سے کم‌تر تھا جب وہ مُردوں میں سے زندہ ہو کر آسمان پر چلا گیا کیونکہ پولس رسول نے کہا:‏ ”‏مسیح کا سر خدا ہے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۳‏)‏ پاک صحائف میں مستقبل کے بارے میں یہ کہا گیا ہے:‏ ”‏جب سب کچھ اُس کے تابع ہو جائے گا تو بیٹا خود اُس کے تابع ہو جائے گا جس نے سب چیزیں اُس کے تابع کر دیں تاکہ سب میں خدا ہی سب کچھ ہو۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۲۸‏۔‏

اِن باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع مسیح قادرِمطلق خدا نہیں ہے۔ اِس وجہ سے یسوع مسیح نے خدا کو ’‏میرا خدا‘‏ کہہ کر مخاطب کِیا۔—‏مکاشفہ ۳:‏۲،‏ ۱۲؛‏ ۲-‏کرنتھیوں ۱:‏۳، ۴‏۔‏a

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a اِس موضوع پر مزید معلومات کے لئے کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں کے صفحہ ۲۰۱-‏۲۰۴ کو دیکھیں۔ آپ اِس کتاب کو یہوواہ کے گواہوں سے حاصل کر سکتے ہیں۔‏

‏[‏صفحہ ۷ پر عبارت]‏

یسوع مسیح نے کہا کہ کچھ ایسی باتیں بھی ہیں جن کے بارے میں نہ تو وہ خود اور نہ ہی فرشتے جانتے ہیں بلکہ صرف خدا جانتا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں