خدا کی ذات کیا ہے؟
لوگ اکثر اِس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں:
◼ ”خدا ہوا کی طرح ہر جگہ حاضروناظر ہے۔
◼ ”ہم خدا کی ذات کا شعور نہیں رکھ سکتے۔“
یسوع مسیح نے اِس موضوع پر کیا تعلیم دی؟
◼ ”میرے باپ کے گھر میں بہت سے مکان ہیں۔“ (یوحنا ۱۴:۲) یسوع مسیح جانتا تھا کہ خدا ایک مخصوص جگہ پر رہتا ہے۔
◼ ”مَیں باپ میں سے نکلا اور دُنیا میں آیا ہوں۔ پھر دُنیا سے رخصت ہو کر باپ کے پاس جاتا ہوں۔“ (یوحنا ۱۶:۲۸) اِس آیت میں یسوع مسیح نے ظاہر کِیا کہ خدا ذاتی طور پر ہر جگہ حاضروناظر نہیں ہے۔
یسوع مسیح اکثر خدا سے دُعا کِیا کرتا اور خدا کو آسمانی باپ کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع مسیح خود کو خدا کے بہت ہی قریب محسوس کرتا تھا۔—یوحنا ۸:۱۹، ۳۸، ۵۴۔
پاک صحائف میں لکھا ہے کہ ”خدا روح ہے“ اور”خدا کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا۔“ (یوحنا ۱:۱۸؛ ۴:۲۴) لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کا جسم نہیں ہے کیونکہ پاک صحائف میں یہ بھی لکھا ہے کہ ”جب نفسانی جسم ہے تو روحانی جسم بھی ہے۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۴۴) تو پھر کیا خدا کا روحانی جسم ہے؟
جیہاں۔ جب یسوع مسیح کو مُردوں میں سے زندہ کِیا گیا تو وہ ”آسمان ہی میں داخل ہوا تاکہ اب خدا کے روبرو ہماری خاطر حاضر ہو۔“ (عبرانیوں ۹:۲۴) اِس سے ہم خدا کے بارے میں دو اہم باتیں سیکھتے ہیں۔ پہلی بات یہ کہ خدا آسمان پر رہائشپذیر ہے۔ اور دوسری یہ کہ خدا ایک روحانی ہستی ہے۔
اگرچہ خدا آسمان پر رہائشپذیر ہے لیکن وہ اپنی پاک روح یعنی قدرت کے ذریعے کُل کائنات میں کہیں بھی اپنی مرضی انجام دے سکتا ہے۔ جس طرح ایک باپ اپنا ہاتھ بڑھا کر اپنے بچے کی مدد کرتا ہے، اِسی طرح خدا اپنی پاک روح کو بھیج کر اپنی مرضی بجا لاتا ہے۔—زبور ۱۰۴:۳۰؛ ۱۳۹:۷۔
خدا ایک ایسی ہستی ہے جس کے احساسات ہیں۔ مثال کے طور پر پاک صحائف میں لکھا ہے کہ خدا اپنے خادموں سے محبت رکھتا ہے، وہ اپنے کاموں سے خوش ہوتا ہے، اُسے بُتپرستی سے نفرت ہے اور وہ دل میں غم کرتا ہے۔ (پیدایش ۶:۶؛ استثنا ۱۶:۲۲؛ ۱-سلاطین ۱۰:۹؛ زبور ۱۰۴:۳۱) خدا بڑی صفات کا مالک ہے۔ اس لئے یسوع مسیح نے کہا کہ ہمیں اپنے سارے دل سے خدا سے محبت رکھنی چاہئے۔—مرقس ۱۲:۳۰۔a
[فٹنوٹ]
a اِس موضوع پر مزید معلومات کے لئے کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں کے پہلے باب کو دیکھیں۔ آپ اِس کتاب کو یہوواہ کے گواہوں سے حاصل کر سکتے ہیں۔
[صفحہ ۵ پر عبارت]
جس طرح ایک باپ اپنا ہاتھ بڑھا کر اپنے بچے کی مدد کرتا ہے، اِسی طرح خدا اپنی پاک روح کو بھیج کر اپنی مرضی بجا لاتا ہے