یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م06 1/‏10 ص.‏ 2-‏3
  • کیا ہم ”‏اخیر زمانہ“‏ میں رہ رہے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا ہم ”‏اخیر زمانہ“‏ میں رہ رہے ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
  • ملتا جلتا مواد
  • کیا ہم ”‏اخیر زمانہ“‏ میں رہ رہے ہیں؟‏
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
  • آخری زمانہ—‏یہ کب ہوگا؟‏
    جاگو!‏—‏2008ء
  • سوالات از قارئین
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • روحانی قلمرو میں حکمران
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
م06 1/‏10 ص.‏ 2-‏3

کیا ہم ”‏اخیر زمانہ“‏ میں رہ رہے ہیں؟‏

کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کا اور آپ کے خاندان کا مستقبل کیا لائے گا؟ زیادہ‌تر لوگ اس بات کا اندازہ لگانے کے لئے کہ دُنیا میں ہونے والے واقعات اُن کے مستقبل کو کونسی شکل دینے والے ہیں خبروں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ لیکن یہ معلومات اخباروں میں نہیں پائی جاتی بلکہ پاک صحائف میں درج ہے۔ خدا نے بہت عرصہ پہلے بتایا کہ ہمارے زمانے میں دُنیا پر حالات کیسے ہوں گے۔ اس کے علاوہ اُس نے یہ بھی ظاہر کِیا کہ مستقبل میں کیا ہوگا۔‏

یسوع مسیح نے لوگوں کو تعلیم دیتے ہوئے اکثر خدا کی بادشاہت کا ذکر کِیا۔ (‏لوقا ۴:‏۴۳‏)‏ یہ سُن کر لوگ جاننا چاہتے تھے کہ یہ بادشاہت کب آئے گی؟ مثال کے طور پر، یسوع کے قتل ہونے سے تین دن پہلے اُس کے شاگردوں نے سوال کِیا:‏ ”‏تیرے آنے [‏یعنی بادشاہ کے طور پر حکمرانی کرنے]‏ اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟“‏ (‏متی ۲۴:‏۳‏)‏ یسوع نے جواب دیا کہ صرف یہوواہ خدا ہی اُس دن کو جانتا ہے جب یہ بادشاہت پوری زمین پر حکمرانی کرنے لگے گی۔ (‏متی ۲۴:‏۳۶؛‏ مرقس ۱۳:‏۳۲‏)‏ لیکن یسوع مسیح اور اُس کے شاگردوں نے زمین پر ہونے والے چند ایسے واقعات کی پیشینگوئی کی جن سے ظاہر ہونا تھا کہ مسیح کی حکمرانی آسمان پر شروع ہو گئی ہے۔‏

اِس سلسلے میں ہمیں آسمان پر ہونے والے ایک اہم واقعے پر غور کرنا چاہئے۔ سن ۱۹۱۴ میں یسوع مسیح کو آسمان پر بادشاہ کے طور پر تخت‌نشین کر دیا گیا۔‏a (‏دانی‌ایل ۷:‏۱۳، ۱۴‏)‏ آسمان پر اپنی حکمرانی شروع کرتے ہی اُس نے ایک اہم قدم اُٹھایا۔ خدا کے کلام میں اس کے بارے میں یوں بتایا گیا ہے:‏ ”‏پھر آسمان پر لڑائی ہوئی۔ میکاؔئیل اور اُس کے فرشتے اژدہا سے لڑنے کو نکلے اور اژدہا اور اُس کے فرشتے اُن سے لڑے۔“‏ (‏مکاشفہ ۱۲:‏۷‏)‏ ”‏میکاؔئیل“‏ سے مُراد یسوع مسیح ہے جسے آسمان پر ”‏مقرب فرشتہ میکاؔئیل“‏ کا نام دیا گیا ہے۔‏b (‏یہوداہ ۹؛‏ ۱-‏تھسلنیکیوں ۴:‏۱۶‏)‏ اور ”‏اژدہا“‏ سے مُراد شیطان ہے۔ اس آسمانی لڑائی میں شیطان اور اُس کی پیروی کرنے والے شریر فرشتوں کا کیا انجام نکلا؟ اُنہیں شکست دی گئی اور اُن کو ”‏زمین پر گِرا دیا گیا۔“‏ وہ ہمیشہ کے لئے آسمان سے نکال دئے گئے۔ (‏مکاشفہ ۱۲:‏۹‏)‏ اس وجہ سے اُس پیشینگوئی میں آگے بیان کِیا گیا ہے کہ ”‏اَے آسمانو اور اُن کے رہنے والو خوشی مناؤ!‏“‏ جی‌ہاں، شیطان کی شکست کو دیکھ کر خدا کے وفادار فرشتے خوش ہوئے۔ لیکن انسانوں کے لئے خوشی منانے کا وقت ابھی نہیں آیا تھا۔ صحیفے میں آگے بیان کِیا گیا ہے کہ ”‏اَے خشکی اور تری تُم پر افسوس!‏ کیونکہ ابلیس بڑے قہر میں تمہارے پاس اُتر کر آیا ہے۔ اِس لئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“‏—‏مکاشفہ ۱۲:‏۱۲‏۔‏

شیطان بڑے قہر میں ہے اور زمین پر رہنے والوں کو مصیبت اور دُکھ پہنچا رہا ہے۔ لیکن مصیبت کا یہ دَور جلد ختم ہونے والا ہے کیونکہ شیطان کا ”‏تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“‏ اس لئے خدا کے کلام میں ہمارے دَور کو ”‏اخیر زمانہ“‏ کہا گیا ہے۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱‏)‏ ہم یہ جان کر اُمید باندھ سکتے ہیں کہ جلد ہی اِس دُنیا پر شیطان کا اثر مٹا دیا جائے گا۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a وضاحت کے لئے یہوواہ کے گواہوں کی شائع‌کردہ کتاب دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏ صفحہ ۹۴-‏۹۷ کو دیکھئے۔‏

b مینارِنگہبانی، ۱ مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۳۰-‏۳۱کو دیکھیں۔‏

‏[‏صفحہ ۲ پر تصویروں کے حوالہ‌جات]‏

‏:COVER: Foreground: © Chris Stowers/Panos Pictures; background

FAROOQ NAEEM/AFP/Getty Images

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں