”تُم سب کی محبت زیادہ ہوتی جاتی ہے“
سن ۲۰۰۴ میں مُلک جاپان میں سخت طوفان، بڑے بڑے سیلاب اور شدید زلزلے آئے۔ ان آفتوں کا شکار بننے والے لوگوں میں یہوواہ کے گواہ بھی شامل تھے۔ (واعظ ۹:۱۱) اس مصیبت کے وقت اُن کے مسیحی بہنبھائی اُن کی مدد کو آئے۔ ان موقعوں پر صاف ظاہر ہوا کہ یہوواہ کے گواہ واقعی آپس میں گہری محبت رکھتے ہیں۔—۱-پطرس ۱:۲۲۔
مثال کے طور پر جولائی کے مہینے میں برسات کی وجہ سے وسطی جاپان میں سیلاب آئے۔ ان سیلابوں میں یہوواہ کے گواہوں کے ۲۰ خاندانوں کے گھر برباد ہو گئے اور اُنکی ایک عبادتگاہ میں ایک میٹر [تین فٹ] تک پانی چڑھ گیا۔ آسپاس کی کلیسیاؤں میں سے فوراً سینکڑوں گواہ مدد کرنے کیلئے آ پہنچے۔ دو ہفتے کی سخت محنت کے بعد اُنہوں نے عبادتگاہ اور گھروں کو کیچڑ سے صاف کرکے اُنکی مرمت کی۔
تینتیس اکتوبر کو اُسی علاقے میں ایک زلزلہ آیا جسکی شدت ۶ اعشاریہ ۸ تھی۔ اِس میں چالیس لوگ اپنی جان کھو بیٹھے اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔ پورے علاقے میں پانی، بجلی اور گیس کٹ گئے۔ حالانکہ وہاں کے یہوواہ کے گواہوں کی عبادتگاہ زلزلہ کے مرکز سے محض ۵۰ کلومیٹر [۳۰ میل] دُور واقع ہے لیکن اسکو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ لہٰذا کلیسیا کے بزرگ اس عمارت سے امداد کا انتظام کرنے لگے۔ سب سے پہلے اُنہوں نے اپنے مسیحی بہنبھائیوں کا حال دریافت کِیا۔ اُن سب کی جانیں بچ گئی تھیں اور اُن میں سے کوئی زخمی بھی نہیں ہوا تھا۔ پھر جولائی کے سیلاب کا شکار ہونے والے چھے گواہ صبحسویرے وہاں پہنچ گئے۔ اب وہ اپنے بہنبھائیوں کی مدد کرنا چاہتے تھے۔ زلزلے کے چند ہی گھنٹوں بعد اُس علاقے میں رہنے والے گواہوں کو خوراک اور پانی مہیا کِیا گیا۔
کلیسیا کے ایک بزرگ یوں بیان کرتے ہیں: ”سیلاب کا شکار ہونے والے گواہ بہت شکرگزار ہیں کہ مصیبت کے وقت اُنکی مدد کی گئی تھی۔ اِس شکرگزاری کا اظہار کرتے ہوئے وہ بڑی خوشی سے زلزلے کا شکار ہونے والے گواہوں کی مدد کو آئے۔ وہ صبحسویرے سے رات گئے تک محنت کرتے رہے۔ اُنکی آنکھوں کی چمک سے اُنکی دلی خوشی صاف ظاہر ہوتی تھی۔“
یہوواہ کے گواہ زندگی کی ہر اُونچنیچ میں ایک دوسرے کیلئے محبت دکھاتے ہیں۔ اُن پر پولس رسول کی یہ بات لاگو ہوتی ہے: ”تُم سب کی محبت آپس میں زیادہ ہوتی جاتی ہے۔“—۲-تھسلنیکیوں ۱:۳۔