یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م05 1/‏6 ص.‏ 31
  • سوالات از قارئین

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سوالات از قارئین
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • ملتا جلتا مواد
  • فرشتے ہماری مدد کرتے ہیں
    عظیم اُستاد سے سیکھیں
  • فرشتے انسانوں کی مدد کیسے کرتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • کیا آپ کا کوئی محافظ فرشتہ ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • اُنہوں نے اپنے مالک سے معافی کا درس حاصل کِیا
    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
م05 1/‏6 ص.‏ 31

سوالات از قارئین

جب شاگردوں نے یہ سنا کہ پطرس جو قید میں تھا پھاٹک پر کھڑا ہے تو اُنہوں نے یہ کیوں کہا:‏ ”‏کہ اُس کا فرشتہ ہوگا“‏؟—‏اعمال ۱۲:‏۱۵‏۔‏

شاگردوں نے شاید یہ سمجھ لیا تھا کہ پھاٹک پر کوئی ملکوتی پیامبر پطرس کی نمائندگی کرنے کے لئے کھڑا تھا۔ آئیے اس واقعہ کے پس‌منظر پر غور کریں۔‏

ہیرودیس نے یعقوب کو مروا دینے کے بعد پطرس کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس لئے شاگردوں کے پاس یہ ماننے کی ٹھوس وجہ موجود تھی کہ پطرس کو بھی یعقوب کی طرح قتل کر دیا جائے گا۔ پطرس کو زنجیروں میں باندھ کر چار چار سپاہیوں کے چار پہروں کی سخت نگرانی میں رکھا گیا تھا۔ ایک رات ایک فرشتہ کے ذریعے معجزانہ طور پر پطرس کو قید سے رِہا کرایا گیا۔ آخرکار جب پطرس کو یہ پتہ چلا کہ اُس کے ساتھ کیا واقع ہوا ہے تو اُس نے کہا:‏ ”‏اب مَیں نے سچ جان لیا کہ خداوند [‏یہوواہ]‏ نے اپنا فرشتہ بھیج کر مجھے ہیرؔودیس کے ہاتھ سے چھڑا لیا۔“‏—‏اعمال ۱۲:‏۱-‏۱۱‏۔‏

پطرس فوراً یوحنا مرقس کی ماں مریم کے گھر آیا جہاں بہت سے شاگرد جمع تھے۔ جب اُس نے پھاٹک پر دستک دی تو رُدی نام ایک لونڈی دروازہ کھولنے کے لئے آئی اور پطرس کی آواز پہچان کر دوسروں کو خبر دینے کے لئے اندر دوڑ گئی!‏ پہلے تو شاگردوں نے اُس لڑکی کا یقین نہ کِیا کہ پطرس دروازہ پر ہے۔ بلکہ اُنہوں نے یہ سمجھا کہ ”‏اُس کا فرشتہ ہوگا۔“‏—‏اعمال ۱۲:‏۱۲-‏۱۵‏۔‏

کیا شاگرد یہ سمجھ رہے تھے کہ پطرس کو قتل کر دیا گیا ہے اور دروازہ پر اُس کی رُوح کھڑی ہے؟ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ یسوع کے شاگرد مُردوں کی بابت اس صحیفائی سچائی سے بخوبی واقف تھے کہ ”‏مُردے کچھ بھی نہیں جانتے۔“‏ (‏واعظ ۹:‏۵،‏ ۱۰‏)‏ لہٰذا اُس وقت شاگردوں کا کیا مطلب تھا جب اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اُس کا فرشتہ ہوگا“‏؟‏

یسوع کے شاگرد جانتے تھے کہ پوری تاریخ میں، فرشتوں نے ہمیشہ خدا کے لوگوں کی مدد کی ہے۔ مثال کے طور پر، یعقوب نے ایک فرشتہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ”‏جس نے مجھے سب بلا‌ؤں سے بچایا۔“‏ (‏پیدایش ۴۸:‏۱۶‏)‏ ایک مرتبہ یسوع مسیح نے شاگردوں کے بیچ کھڑے ایک چھوٹے بچے کی بابت اُن سے کہا:‏ ”‏خبردار اِن چھوٹوں میں سے کسی کو ناچیز نہ جاننا کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہوں کہ آسمان پر اُن کے فرشتے میرے آسمانی باپ کا مُنہ ہر وقت دیکھتے ہیں۔“‏—‏متی ۱۸:‏۱۰‏۔‏

دلچسپی کی بات ہے کہ ینگز لٹرل ٹرانسلیشن آف دی ہولی بائبل لفظ ایگیلوس (‏”‏فرشتہ“‏)‏ کا ترجمہ ”‏پیامبر“‏ کے طور پر کرتی ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بعض یہودیوں کا یہ ایمان تھا کہ خدا کے ہر خادم کا ایک ذاتی فرشتہ یعنی ”‏محافظ فرشتہ“‏ ہوتا ہے۔ بیشک، خدا کا کلام ایسی تعلیم نہیں دیتا۔ تاہم، ممکن ہے کہ جب شاگردوں نے کہا کہ یہ ”‏اُس کا فرشتہ ہوگا“‏ تو شاید وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ پھاٹک پر کوئی ملکوتی پیامبر یعنی فرشتہ پطرس کی نمائندگی کرنے کے لئے کھڑا ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں