یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م05 15/‏2 ص.‏ 9
  • بائبل کا نفیس ترجمہ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بائبل کا نفیس ترجمہ
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • ملتا جلتا مواد
  • خدا کے کلام سے محبت رکھنے والوں کیلئے ایک یادگار لمحہ
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • نیو ورلڈ ٹرانسلیشن—‏دُنیابھر میں لاکھوں کی پسند
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • بائبل کا ایک زندہ اور مؤثر ترجمہ
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2015ء
  • کیا ”‏ترجمہ نئی دُنیا“‏ درست ترجمہ ہے؟‏
    اکثر پوچھے جانے والے سوال
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
م05 15/‏2 ص.‏ 9

بائبل کا نفیس ترجمہ

جرمنی میں ۱۷ویں اور ۱۸ویں صدی کے دوران لُوتھرن چرچ کے زیادہ‌تر اراکین نے اپنے مذہبی عقیدوں پر عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ چند افراد اس صورتحال کی وجہ سے کافی پریشان تھے۔ اسلئے اُنہوں نے عوام میں دینداری کو فروغ دینے کیلئے ایک نئی تحریک کو جنم دیا۔ البتہ اس تحریک کے پیروکاروں کو اکثر ٹھٹھوں میں اُڑایا جاتا، یہاں تک کہ اُنکو اذیت کا نشانہ بھی بنایا جاتا۔ بعض مشہور علماء بھی اس تحریک سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن میں سے کئی اپنی جان کی خاطر شہر بیرلے‌بُرگ کو بھاگ گئے۔ اس شہر کے نواب جنکا نام کازیمیر تھا بڑے مذہبی تھے اور ایسے لوگوں کا بہت احترام کرتے تھے جو اپنے مذہبی عقیدوں کے پکے تھے۔ اسلئے نواب کازیمیر ان علماء کو پناہ دینے کو تیار تھے۔ اسکے نتیجے میں شہر بیرلے‌بُرگ کے محفوظ ماحول میں بائبل کا جرمن زبان میں ترجمہ ہونے لگا۔ یہ ترجمہ آج تک ”‏بیرلے‌بُرگ بائبل“‏ کے نام سے مشہور ہے۔ اسکا ترجمان کون تھا؟‏

اسکے ترجمان یوحن ہاؤگ نامی ایک عالم تھے۔ اُنہیں اپنی مذہبی تعلیمات کی وجہ سے اپنے آبائی شہر کو چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ وہ بہت سی زبانوں میں ماہر تھے۔ بیرلے‌بُرگ پہنچنے کے کچھ عرصہ بعد اُنہوں نے دوسرے علماء کو اپنا ارادہ بتایا۔ تاریخ کی ایک کتاب اس سلسلے میں بیان کرتی ہے کہ ”‏وہ بائبل کا نفیس‌ترین ترجمہ کرنا چاہتے تھے۔ جو غلطیاں لُوتھر کے ترجمے میں پائی جاتی تھیں، ہاؤگ اُنہیں اپنے ترجمے میں درست کرنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ خدا کا کلام صحیح طرح سے سمجھا جائے۔“‏ ہاؤگ یہ بھی خواہش رکھتے تھے کہ خدا کا کلام عام لوگوں کو آسانی سے سمجھ میں آ جائے۔ وہ اکیلے میں کام نہیں کر رہے تھے بلکہ یورپ کے بہت سے دوسرے علماء بھی اس میں اُنکا ہاتھ بٹا رہے تھے۔ آخرکار ۲۰ سال کے بعد، یعنی سن ۱۷۲۶ میں یہ عمدہ ترجمہ مکمل ہو گیا۔ ہاؤگ نے اسکے حاشیہ پر آیتوں کی تشریح بھی کی تھی۔ اس تشریح کی وجہ سے ترجمہ کا مواد اتنا زیادہ ہو گیا کہ اسے آٹھ جِلدوں میں شائع کرنا پڑا۔‏

بیرلے‌بُرگ بائبل کی چند خصوصیات پر غور کیجئے۔ مثال کے طور پر اس میں خروج ۶:‏۲، ۳ کو ایسے بیان کِیا گیا ہے:‏ ”‏خدا نے موسیٰؔ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:‏ خداوند مَیں ہی ہُوں!‏ اور مَیں اؔبرہام، اِضحاؔق اور یعقوؔب کو قادرِمطلق خدا کے طور پر دکھائی دیا۔ لیکن اپنا نام یہوؔواہ مَیں نے اُن پر ظاہر نہیں کِیا۔“‏ پھر اس آیت کی تشریح یوں کی گئی ہے:‏ ”‏یہوؔواہ وہ نام ہے جسے خدا نے اپنے لئے مخصوص کِیا ہے اور جسے اُس نے انسان پر ظاہر کِیا ہے۔“‏ اس آیت کے علاوہ خدا کا نام یہوواہ خروج ۳:‏۱۵ اور خروج ۳۴:‏۶ کی تشریح میں بھی استعمال کِیا گیا ہے۔‏

بیرلے‌بُرگ بائبل کے علاوہ جرمن زبان کی بہت سی دوسری بائبلوں میں بھی خدا کا نام یہوواہ استعمال کِیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر یہوواہ کے گواہوں نے بائبل کا ایک ترجمہ شائع کِیا ہے جو نیو ورلڈ ٹرانسلیشن کے نام سے مشہور ہو گیا ہے۔ اس ترجمہ میں بھی یہوواہ کا نام استعمال کِیا گیا ہے جس سے خدا کی بڑائی ہوتی ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں