یہوواہ کی فروتنی ہمارے لئے کیا اہمیت رکھتی ہے؟
داؤد کو طرح طرح کے کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنے سُسر، بادشاہ ساؤل کی طرف سے اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔ تین مرتبہ ساؤل نے داؤد کو نیزے کیساتھ جان سے مارنے کی کوشش کی۔ پھر ساؤل کافی عرصے تک اُسکا پیچھا کرتا رہا جسکی وجہ سے داؤد کو پناہ کیلئے اِدھراُدھر بھٹکنا پڑا۔ (۱-سموئیل ۱۸:۱۱؛ ۱۹:۱۰؛ ۲۶:۲۰) ان تمام مشکلات میں یہوواہ نے داؤد کا ساتھ دیا۔ خدا نے اُسے ساؤل کے علاوہ دوسرے دُشمنوں سے بھی بچایا۔ اسلئے داؤد نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے یوں کہا: ”[یہوواہ] میری چٹان اور میرا قلعہ اور میرا چھڑانے والا ہے۔ . . . تُو نے مجھ کو اپنی نجات کی سپر بھی بخشی اور تیری نرمی نے مجھے بزرگ بنایا ہے۔“ (۲-سموئیل ۲۲:۲، ۳۶) جیہاں، آخرکار داؤد واقعی اسرائیلیوں کی نظر میں بزرگ بنا۔ لیکن یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ یہوواہ کی نرمی نے اُسے بزرگ بنایا تھا؟
یہوواہ کی نرمی انسان کیساتھ اُسکے برتاؤ سے ظاہر ہوتی ہے۔ جب ہم اسے خوش کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں تو وہ ہم سے رحمدلی کیساتھ پیش آتا ہے۔ دلچسپی کی بات ہے کہ زبور ۱۱۳:۶، ۷ میں یہوواہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ”فروتنی سے آسمانوزمین پر نظر کرتا ہے۔ وہ مسکین کو خاک سے اور محتاج کو مزبلہ پر سے اُٹھا لیتا ہے۔“ جب صحیفوں میں یہوواہ کی فروتنی کا ذکر کِیا جاتا ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ اُسکا اختیار محدود ہے یا کہ وہ کسی کا تابعدار ہے۔ اسکی بجائے زبورنویس یہ کہنا چاہتا تھا کہ یہوواہ ’ہم پر نظر کرنے‘ کیلئے اپنے اُونچے مقام سے ”نیچے جھکتا ہے۔“ (ٹوڈیز اِنگلش ورشن) داؤد ایک ناکامل اور عاجز آدمی تھا۔ یہوواہ اُسکی فریاد سننے کیلئے ”فروتنی سے“ آسمان سے ’نیچے جھکا۔‘ اسلئے داؤد نے لکھا کہ ”[یہوواہ] اگرچہ بلندوبالا ہے تو بھی خاکسار کا خیال رکھتا ہے۔“ (زبور ۱۳۸:۶) یہوواہ داؤد کیساتھ نرمی، صبر اور رحمدلی سے پیش آیا تھا۔ وہ ان لوگوں کیساتھ بھی اسی طرح پیش آتا ہے جو اُسکی مرضی بجا لانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ ہم اس بات سے کتنی حوصلہافزائی حاصل کر سکتے ہیں!
کائنات کا خالق اور مالک ہونے کے باوجود یہوواہ خدا ادنیٰ انسانوں کی مدد کرنے کیلئے تیار ہے۔ اس وجہ سے ہم کٹھن صورتحال کا سامنا کرتے وقت بھی اُس پر پورا بھروسہ رکھ سکتے ہیں۔ وہ ہمیں کبھی بھولیگا نہیں۔ یہوواہ نے اس بات کو قدیم اسرائیل کیساتھ اپنے برتاؤ سے بھی ثابت کِیا تھا۔ زبور ۱۳۶:۲۳ میں لکھا ہے کہ یہوواہ نے ’انکی پستی میں انکو یاد کِیا کیونکہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔‘
ہو سکتا ہے کہ داؤد کی طرح ہم بھی مشکلات سے گزر رہے ہوں۔ بےدین لوگ شاید ہمارے ایمان کی وجہ سے ہمارا مذاق اُڑائیں۔ خدا کے بہتیرے خادم اپنی خراب صحت یا کسی عزیز کی موت کی وجہ سے افسردہ ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہم خلوصدلی سے یہوواہ سے دُعا کر سکتے ہیں۔ وہ ’نیچے جھک کر‘ ہماری سنیگا اور ہم پر رحم کریگا۔ زبورنویس نے خدا کے الہام سے لکھا کہ ”[یہوواہ] کی نگاہ صادقوں پر ہے۔ اور اُسکے کان اُنکی فریاد پر لگے رہتے ہیں۔“ (زبور ۳۴:۱۵) جیہاں، خدا ہمارے ساتھ فروتنی سے پیش آتا ہے۔ جب ہم یہوواہ کی اس خوبی پر غور کرتے ہیں تو ہمارے دل میں اُسکی قدر اَور بھی بڑھ جاتی ہے۔
[صفحہ ۳۰ پر تصویر]
جسطرح یہوواہ نے داؤد کی فریاد سنی اسطرح وہ ہماری بھی دُعائیں سنتا ہے