یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م04 15/‏9 ص.‏ 3-‏4
  • ‏”‏تُم اِسطرح دُعا کِیا کرو“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏تُم اِسطرح دُعا کِیا کرو“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • ملتا جلتا مواد
  • دُعا کیسے کریں—‏کیا یسوع کی سکھائی ہوئی دُعا کرنا ہی دُعا کرنے کا واحد طریقہ ہے؟‏
    پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
  • یسوع کی دُعا—‏آپ کیلئے کیا مطلب رکھتی ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • پاک ہاتھ اُٹھا کر دُعا کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • یہوواہ کی قربت میں رہو
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
م04 15/‏9 ص.‏ 3-‏4

‏”‏تُم اِسطرح دُعا کِیا کرو“‏

کیا آپ اُس دُعا سے واقف ہیں جو یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو سکھائی تھی۔ اپنے مشہور پہاڑی وعظ میں یسوع نے کہا:‏ ”‏پس تُم اِسطرح دُعا کِیا کرو۔“‏ (‏متی ۶:‏۹‏)‏ چونکہ یہ دُعا یسوع نے متعارف کرائی تھی اسلئے اسے یسوع کی اپنے شاگردوں کو سکھائی جانے والی دُعا یعنی دُعائے‌خداوندی کہا جاتا ہے، اسکے علاوہ یہ ”‏اَے ہمارے باپ“‏ کی دُعا کے طور پر بھی مشہور ہے۔—‏لاطینی، پیٹرناسٹر۔‏

دُنیابھر میں لاکھوں لوگوں کو یہ دُعا زبانی یاد ہے اور وہ دن میں کئی مرتبہ اسے دہراتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، بہتیرے اس دُعا کو سکولوں اور عوامی تقریبات میں پڑھتے ہیں۔ اس دُعا کو اتنی زیادہ اہمیت کیوں دی جاتی ہے؟‏

تیسری صدی کے مذہبی عالم سپرئین نے لکھا:‏ ”‏جو دُعا ہمیں مسیح نے سکھائی اس سے زیادہ روحانی دُعا اَور کونسی ہو سکتی ہے؟ .‏ .‏ .‏ باپ سے کی جانے والی اس دُعا سے بڑھ کر اَور کونسی دُعا صداقت پر مبنی ہو سکتی ہے جو اُسکے بیٹے نے جوکہ خود حق ہے مانگی تھی؟“‏—‏یوحنا ۱۴:‏۶‏۔‏

اپنی دُعاؤں کی کتاب میں رومن کیتھولک چرچ ’‏اَے ہمارے باپ‘‏ کی دُعا کو ”‏بنیادی مسیحی دُعا“‏ قرار دیتا ہے۔ دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا تسلیم کرتا ہے کہ اس دُعا کو دُنیائے‌مسیحیت کے تمام فرقوں میں اہم مقام حاصل ہے اور یہ اسے ”‏مسیحی ایمان کا بنیادی اقرار“‏ کہتے ہیں۔‏

تاہم، اس بات کو تسلیم کرنا پڑیگا کہ دُعائے‌خداوندی مانگنے والے بیشتر لوگ اسے پوری طرح نہیں سمجھتے۔ کینیڈا کا اخبار اوٹاوا سٹیزن بیان کرتا ہے:‏ ”‏آپکا تعلق خواہ کسی بھی مسیحی فرقے سے کیوں نہ ہو آپ اس دُعا کو بغیر رُکے فرفر سنا سکتے ہیں۔ لیکن شاید اسے آہستہ آہستہ اور سمجھ کیساتھ سنانا آپ کیلئے مشکل ہو۔“‏

کیا یہ ضروری ہے کہ ہم خدا سے جو بھی دُعا کریں اُسکا مطلب اچھی طرح سمجھیں؟ یسوع نے اپنے شاگردوں کو دُعا کرنا کیوں سکھایا تھا؟ یسوع کی یہ دُعا آپ کیلئے کیا مطلب رکھتی ہے؟ آئیے ان سوالات کے جواب پر غور کریں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں