یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م04 15/‏2 ص.‏ 31
  • سوالات از قارئین

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سوالات از قارئین
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • ملتا جلتا مواد
  • خدا کے گھر میں زیتون کا ہرا درخت
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • ایک بہت بڑا طوفان
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
  • پیدایش کی کتاب سے اہم نکات—‏۱
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • کیا ایک کٹا ہوا درخت پھر سے اُگ سکتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2015ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
م04 15/‏2 ص.‏ 31

سوالات از قارئین

طوفان کے بعد، نوح نے ایک فاختہ کو کشتی سے باہر بھیجا جو ”‏زیتون کی تازہ پتی“‏ چونچ میں لیکر واپس لوٹی۔ فاختہ کو پتی کہاں سے ملی تھی؟‏

بائبل بیان کرتی ہے کہ ”‏پانی زمین پر بہت ہی زیادہ چڑھا اور سب اُونچے پہاڑ جو دُنیا میں ہیں چھپ گئے۔“‏ (‏پیدایش ۷:‏۱۹‏)‏ جب طوفانی پانی کم ہونے لگا تو نوح نے ایک ایک ہفتے کے وقفے سے تین مرتبہ ایک فاختہ کو اُڑایا۔ دوسری مرتبہ جب فاختہ واپس آئی تو ”‏زیتون کی ایک تازہ پتی اُسکی چونچ میں تھی۔ تب نوؔح نے معلوم کِیا کہ پانی زمین پر سے کم ہو گیا۔“‏—‏پیدایش ۸:‏۸-‏۱۱‏۔‏

بیشک، اس وقت ہمارے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں کہ زمین کے کونسے حصے پر کتنے وقت کیلئے پانی ٹھہرا رہا لیکن طوفان نے یقیناً زمین کی سطح کو تبدیل کر دیا تھا۔ تاہم، یہ بات یقینی ہے کہ پانی اتنے عرصے تک زمین پر رہا کہ اس سے بہت سے درخت ختم ہو گئے۔ اِسکے باوجود، بعض یقیناً بچ گئے اور جب پانی کی سطح کم ہوئی تو اُنہوں نے تازہ پتے نکال لئے۔‏

زیتون کے درخت کی بابت دی نیو بائبل ڈکشنری بیان کرتی ہے:‏ ”‏اگر اسے کاٹ دیا جائے تو جڑوں سے نئی کونپلیں پھوٹ نکلتی ہیں اور اسطرح ایک وقت میں کم‌ازکم پانچ شاخیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ مرجھا جانے والے زیتون کے درخت بھی عموماً اسی طرح پھوٹ نکلتے ہیں۔“‏ دی نیو شیف-‏ہرٹسوک انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجس نالج بیان کرتا ہے:‏ ”‏یہ بالکل ایسے ہے کہ گویا اُنکی طاقت ختم نہیں ہوتی۔“‏ آجکل کوئی بھی انسان اُس وقت کے سیلابی پانیوں کے نمکیات اور درجۂ‌حرارت کی بابت کچھ نہیں جانتا۔ لہٰذا، ہم زیتون کے درختوں اور دیگر نباتات پر اُنکے اثرات کی بابت یقین کیساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے۔‏

تاہم، جنگلی زیتون سرد موسم میں زندہ نہیں رہ سکتے جیسے‌کہ پہاڑی علاقے کے درختوں کی بابت کہا جاتا ہے۔ یہ عموماً ۳،۰۰۰ فٹ سے گہرے علاقوں میں اُگتا ہے جہاں کا اوسط درجۂ‌حرارت ۵۰ ڈگری فارن‌ہیٹ سے زیادہ ہوتا ہے۔ کتاب دی فلڈ ریکنسڈرڈ بیان کرتی ہے:‏ ”‏تازہ پتی سے نوح یہ اندازہ لگا سکتا تھا کہ نشیبی علاقوں سے پانی ختم ہو رہا ہے۔“‏ اس سے ایک ہفتے بعد جب نوح نے فاختہ کو اُڑایا تو وہ واپس نہ لوٹی جس سے پتہ چلتا ہے کہ فاختہ کیلئے رہنے کی جگہ اور کھانے کیلئے جڑی‌بوٹیاں وافر مقدار میں موجود تھیں۔—‏پیدایش ۸:‏۱۲‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں