نیک ضمیر
ایک دن کام سے گھر آتے وقت، کینیا یونیورسٹی کے ملازم چارلز کا سیلفون کھو گیا۔ کینیا میں سیلفون ابھی بھی خاصے مہنگے ہیں۔
چارلز کہتا ہے، ”مجھے توقع نہیں تھی کہ کوئی اسے واپس کریگا۔“ تاہم، چند روز بعد مَیں یہوواہ کے گواہوں کے برانچ دفتر سے ایک کال موصول کرکے بڑا حیران ہوا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ کسی نے مجھے آکر سیلفون واپس لینے کیلئے کہا ہے! بات دراصل کچھ یوں ہے کہ یہوواہ کا ایک گواہ اُسی گاڑی میں سوار تھا جس میں چارلز تھا اور وہ سیلفون اُسے مل گیا تھا۔ مالک کو تلاش کرنے کی جستجو میں گواہ سیلفون کو برانچ دفتر لے آیا اور وہاں پر کام کرنے والے رضاکاروں نے فون کے نمبر سے چارلز کو تلاش کر لیا۔
چارلز نے برانچ دفتر کو ایک خط میں لکھا کہ ”مَیں مشکلات کے باوجود اُن تمام کاوشوں کیلئے مشکور ہوں جو مجھ تک پہنچنے میں آپکو کرنی پڑیں۔ مَیں تہِدل سے آپکی تنظیم کے اُن ارکان کا شکرگزار ہوں جنہوں نے یہ فون مجھے واپس کر دیا۔ آجکل دیانتدار شخص بہت کم ملتے ہیں مگر یہ خوشی کی بات ہے کہ یہوواہ خدا کے سچے گواہوں کی صورت میں ہمارے پاس چند ایسے لوگ ہیں۔“
یہوواہ کے گواہ اپنی دیانتداری کی وجہ سے ہر جگہ مشہور ہیں۔ وہ پولس رسول کی نقل کرتے ہیں جس نے کہا: ”ہمیں یقین ہے کہ ہمارا دل صاف ہے اور ہم ہر بات میں نیکی کیساتھ زندگی گذارنا چاہتے ہیں۔“ (عبرانیوں ۱۳:۱۸؛ ۱-کرنتھیوں ۱۱:۱) وہ خوش ہیں کہ ایسا چالچلن یہوواہ خدا کیلئے جلال کا باعث بنتا ہے، جیسے یسوع نے فرمایا: ”تمہاری روشنی آدمیوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھکر تمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے تمجید کریں۔“—متی ۵:۱۶۔