یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م03 15/‏10 ص.‏ 27
  • سوالات از قارئین

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سوالات از قارئین
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • ملتا جلتا مواد
  • یسوع مسیح خدا کا بیٹا کیوں کہلاتا ہے؟‏
    جاگو!‏—‏2006ء
  • حصہ 3
    خدا کی سنیں
  • ‏”‏خدا نے ہم سے ایسی محبت کی“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ابدی خوشی خدا پرست دینے والوں کی منتظر ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
م03 15/‏10 ص.‏ 27

سوالات از قارئین

پیدایش ۳:‏۲۲ میں جب یہوواہ نے ”‏ہم میں سے ایک کی مانند“‏ کا اظہار استعمال کِیا تو اِس میں کون کون شامل ہے؟‏

اِس حوالے میں خدا نے بظاہر اپنا اور اپنے اکلوتے بیٹے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:‏ ”‏انسان نیک‌وبد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی مانند ہو گیا۔“‏ (‏پیدایش ۳:‏۲۲‏)‏ آئیے غور کریں کیسے؟‏

یہوواہ خدا نے پہلے انسانی جوڑے آدم اور حوا کو سزا سنانے کے بعد یہ کہا تھا۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں پر خدا لفظ ”‏ہم“‏ اپنے لئے استعمال کر رہا ہے جسطرح ایک بادشاہ اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے بھی ”‏ہم“‏ کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جب بادشاہ کہتا ہے کہ ”‏ہم اِس بات سے خوش نہیں،“‏ تو اُسکا کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ خود اِس بات سے خوش نہیں ہے۔ پیدایش ۱:‏۲۶ اور ۳:‏۲۲ کے بارے میں ایک عالم نے یوں کہا:‏ ”‏بعض لوگ کہتے ہیں کہ اِن صحیفوں میں خدا اپنی عظمت پر زور دینے کیلئے اپنے آپکو ’‏ہم‘‏ کا لقب دے رہا ہے یا یہ کہ خدا تثلیث ہے۔ .‏ .‏ .‏ لیکن یہ وضاحتیں پیدایش ۳:‏۲۲ پر عائد نہیں ہو سکتیں۔“‏

تو پھر کیا خدا اِن صحیفوں میں ”‏ہم“‏ کہہ کر شیطان کو اپنے ساتھ شامل کر رہا تھا؟ ہرگز نہیں!‏ یہ بات درست ہے کہ آدم اور حوا کو ورغلا کر شیطان خود ”‏نیک‌وبد“‏ کا فیصلہ کرنے لگا۔ لیکن شیطان نے یہوواہ خدا کے خلاف بغاوت کی تھی۔ اِسلئے یہوواہ نے اُسے ترک کر دیا۔ اِس وجہ سے جب یہوواہ ‏”‏ہم“‏ کہہ رہا تھا تو شیطان اِس میں شامل نہیں ہو سکتا تھا۔‏

کیا خدا ”‏ہم“‏ کہہ کر اپنے وفادار فرشتوں کا حوالہ دے رہا تھا؟ ہم وثوق سے نہیں کہہ سکتے۔ لیکن پیدایش ۱:‏۲۶ اور ۳:‏۲۲ میں ہمیں کچھ وضاحت ملتی ہے۔ پیدایش ۱:‏۲۶ میں یہوواہ خدا نے کہا کہ ”‏ہم انسان کو اپنی صورت پر اور اپنی شبِیہ کی مانند بنائیں۔“‏ خدا یہاں کس سے مخاطب ہے؟ کلسیوں ۱:‏۱۵، ۱۶ میں یسوع مسیح کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ”‏وہ اندیکھے خدا کی صورت اور تمام مخلوقات سے پہلے مولود ہے۔ کیونکہ اُسی میں سب چیزیں پیدا کی گئیں آسمان کی ہوں یا زمین کی۔“‏ اِس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ پیدایش ۱:‏۲۶ میں یہوواہ اپنے اکلوتے بیٹے سے مخاطب تھا۔ جب زمین اور آسمان بنائے جا رہے تھے تو یسوع ایک ”‏ماہر کاریگر“‏ کے طور پر یہوواہ خدا کا ساتھ دے رہا تھا۔ (‏امثال ۸:‏۲۲-‏۳۱‏)‏ اِسی طرح پیدایش ۳:‏۲۲ میں بھی یہوواہ اپنے اکلوتے بیٹے سے مخاطب تھا جس سے وہ سب سے زیادہ پیار کرتا ہے۔‏

یسوع نے آسمان پر یہوواہ خدا کیساتھ بہت عرصے تک کام کِیا۔ اِس عرصے کے دوران یسوع نے یہوواہ خدا کے اُصولوں اور معیاروں کے بارے میں سیکھا۔ اِسلئے اُسکو ”‏نیک‌وبد“‏ کی پہچان تھی۔ یسوع مسیح یہوواہ خدا کے اُصولوں سے اچھی طرح واقف تھا۔ شاید یہوواہ نے یسوع کو کچھ معاملات کا خود ہی فیصلہ کرنے کی اجازت دی ہو۔ چنانچہ یسوع مسیح ”‏نیک‌وبد“‏ کی پہچان رکھتا تھا اور اِسکو ایسا کرنے کا اختیار بھی دیا گیا تھا۔ اُس نے یہوواہ خدا کے اختیار کا کبھی ناجائز استعمال نہیں کِیا جبکہ آدم، حوا اور شیطان نے یہوواہ خدا کی مخالفت کرکے خود ”‏نیک‌وبد“‏ کے معیار قائم کئے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں