غریبوں کیلئے حقیقی اُمید
جب یسوع مسیح زمین پر تھا تو اُس نے غریبوں کیلئے بہت سے اچھے کام کئے۔ ایک شخص جس نے یسوع کے کاموں کو دیکھا یوں بیان کرتا ہے: ”اندھے دیکھتے اور لنگڑے چلتے پھرتے ہیں۔ کوڑھی پاک صاف کئے جاتے اور بہرے سنتے ہیں اور مُردے زندہ کئے جاتے ہیں اور غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔“ (متی ۱۱:۵) آجکل بھی دُنیا میں لاکھوں لوگ غریب ہیں۔ کیا وہ یہ اُمید رکھ سکتے ہیں کہ اُنکے حالات میں بھی کبھی بہتری آئیگی؟ یہ درست ہے کیونکہ اِسکا وعدہ خدا کے کلام میں کِیا گیا ہے!
اِس دُنیا میں زیادہتر لوگ غریبوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ لیکن اِسکے برعکس بائبل میں وعدہ کِیا گیا ہے کہ ”مسکین سدا بھولے بسرے نہ رہینگے۔ نہ غریبوں کی اُمید ہمیشہ کیلئے ٹوٹے گی۔“ (زبور ۹:۱۸) اِن تسلیبخش الفاظ کی تکمیل کب ہوگی؟ اِن تسلیبخش الفاظ کی تکمیل اُس وقت ہوگی جب خدا کی بادشاہت انسانی حکومتوں کی جگہ لے لیگی جو ایک حقیقی آسمانی حکومت ہے۔ (دانیایل ۲:۴۴) اس آسمانی حکومت کا بادشاہ یسوع مسیح ہوگا۔ وہ غریبوں کی بابت کیسا محسوس کریگا؟ یسوع ”غریب اور محتاج پر ترس کھائیگا۔ اور محتاجوں کی جان کو بچائیگا۔ وہ فدیہ دیکر اُنکی جان کو ظلم اور جبر سے چھڑائیگا اور اُنکا خون اُسکی نظر میں بیشقیمت ہوگا۔“—زبور ۷۲:۱۳، ۱۴۔
جب یسوع مسیح حکمرانی کرے گا تو زمین پر لوگوں کے حالات بالکل بدل جائیں گے۔ اُس وقت لوگ محنت کریں گے اور اپنی محنت سے فائدہ بھی اُٹھائیں گے۔ اس سلسلے میں بائبل میکاہ ۴:۳، ۴ میں بیان کرتی ہے: ”تب ہر ایک آدمی اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کے نیچے بیٹھے گا اور اُن کو کوئی نہ ڈرائے گا کیونکہ ربُالافواج نے اپنے مُنہ سے یہ فرمایا ہے۔“ خدا کی بادشاہت کے تحت بیماری اور موت کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ (یسعیاہ ۲۵:۸) وہ کتنی فرق دُنیا ہوگی! کیا ہم اِن وعدوں پر یقین کر سکتے ہیں؟ جیہاں، کیونکہ خدا نے خود اپنے کلام، بائبل میں یہ وعدہ کِیا ہے۔
بائبل ہمیں اُمید دینے کے علاوہ مسائل سے نپٹنا بھی سکھاتی ہے۔ مثال کے طور پر، بہت سے غریب لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اُنکی کوئی اہمیت نہیں۔ لیکن ایک غریب مسیحی کو معلوم ہے کہ خدا امیر اور غریب کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا کیونکہ ایوب ۳۴:۱۹ میں لکھا ہے کہ خدا ”امیر کو غریب سے زیادہ نہیں مانتا کیونکہ وہ سب اُسی کے ہاتھ کی کاریگری ہیں۔“ یقیناً، خدا دونوں سے یکساں محبت کرتا ہے۔—اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵۔