ایک غمگین ماں کیلئے دلاسہ
فرانس میں ایک تین ماہ کی بچی ایک دردناک بیماری سے مر گئی۔ اُسکی ماں نے ایک اخبار کو یہ خط لکھا، ”دو سال پہلے جب میری بیٹی میلیسا فوت ہوئی تو ہمیں گہری چوٹ لگی۔ ہم یہی سوال کرتے تھے کہ ’خدایا! تُو نے ایسا کیوں ہونے دیا؟‘ کیتھولک مذہب سے تعلق رکھنے کے باوجود ہمیں اس سوال کا کوئی جواب نہ ملا۔“ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ماں کتنی نااُمید اور غمگین تھی۔
پھر وہ اسی خط میں لکھتی ہے کہ ”میلیسا کے مرنے کے کچھ عرصہ بعد ہی دو اشخاص نے ہمارے دروازے پر دستک دی۔ دروازہ کھولتے ہی مَیں جان گئی کہ وہ یہوواہ کے گواہ ہیں۔ اِس سے پیشتر کہ مَیں اُن سے جانے کے کئے کہتی میری نظر اُس رسالے پر پڑی جو اُنکے ہاتھ میں تھا۔ اُس کا موضوع کچھ اس طرح تھا: ”خدا تکلیف کی اجازت کیوں دیتا ہے؟“ یہی سوال تو مَیں پوچھتی تھی۔ مَیں نے اُن کو اندر بلایا تاکہ مَیں اُنکے ساتھ اسی بات پر بحث کر سکوں۔ اِن سے پہلے بھی بہتیرے لوگوں نے ہمارے خاندان کو کھوکھلی باتوں سے تسلی دینے کی کوشش کی تھی، مثلاً ’تمہاری بیٹی خدا کو پیاری ہوگئی ہے۔‘ ایسی باتیں سُن سُن کر ہمارے کان پک گئے تھے۔ مگر ان دونوں نے کچھ کہنے کی بجائے میری باتیں غور سے سنیں جس سے میرے دِل کا بوجھ ہلکا ہو گیا۔ مَیں نے اُنکو دوبارہ آنے کے لئے بھی کہا۔ اب مَیں پچھلے دو سالوں سے اُنکے ساتھ بائبل کا مطالعہ کر رہی ہوں جس سے مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا ہے۔ فیالحال مَیں یہوواہ کی گواہ تو نہیں بنی لیکن مَیں اُنکے اجلاسوں پر ضرور جاتی ہوں۔“