کیا ہمیں واقعی دوسروں کی ضرورت ہے؟
مشہور سائنسدان البرٹ آئنسٹائن نے بیان کِیا، ”جب ہم اپنی زندگیوں اور کاوشوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم بہت جلد اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ ہماری تمامتر کارگزاریاں اور خواہشات دوسرے انسانوں کی زندگیوں سے منسلک ہیں۔“ وہ مزید بیان کرتا ہے: ”ہم دوسروں کے ہاتھوں کی اُگائی ہوئی خوراک کھاتے، دوسروں کے بنائے ہوئے کپڑے پہنتے اور دوسروں کے تعمیرکردہ گھروں میں رہتے ہیں۔ . . . ایک شخص اپنی انفرادی حیثیت کی بجائے بچپن سے لیکر موت تک اپنی مادی اور روحانی زندگی کے لئے راہنمائی فراہم کرنے والے عظیم انسانی معاشرے کے فرد کے طور پر زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔“
حیوانی زندگی میں جبلّی رفاقت عام نظر آتی ہے۔ ہاتھی اکٹھے ملکر سفر کرتے اور اپنے بچوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ شیرنیاں بھی ملکر شکار کرتی ہیں اور پھر اپنا شکار شیروں کیساتھ بانٹ کر کھاتی ہیں۔ ڈولفن ایک ساتھ کھیلتی ہیں اور اُنہوں نے مصیبت میں بعض جانوروں اور تیراکوں کی جان بھی بچائی ہے۔
تاہم، معاشرتی علوم کے ماہرین بیان کرتے ہیں کہ انسانوں میں ایک خاص میلان تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ میکسیکو میں شائع ہونے والے ایک اخبار کے مطابق، بعض سائنسدان یہ یقین رکھتے ہیں کہ ”عشروں سے الگتھلگ رہنے کے رُجحان اور معاشرتی زندگی کی تنزلی نے امریکی معاشرے کو بہت زیادہ متاثر کِیا ہے۔“ اخبار نے بیان کِیا کہ ”قوم کی خوشحالی بڑے پیمانے پر سماجی انقلاب پر منحصر ہے جس میں معاشرتی زندگی کی بحالی بھی شامل ہے۔“
یہ مسئلہ خاص طور پر ترقییافتہ ممالک کے رہنے والے لوگوں میں بڑھ رہا ہے۔ خود کو دوسروں سے علیٰحدہ کرنے کا رُجحان بہت سے لوگوں میں تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ لوگ ’اپنی زندگی جینا‘ چاہتے ہیں اور ذاتی معاملات میں دوسروں کی ’دخلاندازی‘ کی پُرزور مزاحمت کرتے ہیں۔ عام خیال کے مطابق، اس رُجحان نے انسانی معاشرے کو جذباتی مسائل، افسردگی اور خودکشی کی طرف مائل کِیا ہے۔
اس سلسلے میں ڈاکٹر ڈینئل گولمین نے بیان کِیا: ”سماجی تنہائی—یہ نظریہ کہ کوئی بھی ایسا شخص نہیں جس کیساتھ ذاتی احساسات پر باتچیت ہو سکتی ہو یا قریبی رابطہ برقرار رکھا جا سکتا ہو—بیماری یا موت کے امکان کو بڑھا دیتی ہے۔“ سائنس نامی جریدے کی شائعکردہ رپورٹ نے یہ نتیجہ اخذ کِیا کہ سماجی تنہائی ’تمباکونوشی کی عادت، بلند فشارِخون، کولیسٹرول کی زیادتی، موٹاپے اور جسمانی ورزش کی کمی کی طرح شرحِاموات میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔‘
پس مختلف وجوہات کی بِنا پر ہمیں واقعی ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ ہم مکمل طور پر خودمختار نہیں رہ سکتے۔ پس الگتھلگ رہنے کے رُجحان سے کیسے نپٹا جا سکتا ہے؟ کس چیز نے بیشتر لوگوں کی زندگیوں کو پُرمعنی بنا دیا ہے؟ اگلا مضمون ایسے سوالات کے جواب فراہم کریگا۔
[صفحہ ۳ پر عبارت]
”ہماری تمامتر کارگزاریاں اور خواہشات دوسرے انسانوں کی زندگیوں سے منسلک ہیں۔“ —البرٹ آئنسٹائن