ہم سب کو شاباش کی ضرورت ہے
ایک چھوٹی بچی کا دن اچھا گزرا تھا۔ اگرچہ اُسے دیگر اوقات پر اصلاح کی ضرورت ہوتی تھی توبھی اس خاص دن پر اُس نے اچھا طرزِعمل ظاہر کِیا۔ تاہم، اس رات سوتے وقت اس کی ماں نے اُس کے رونے کی آواز سنی۔ جب اُس سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں پریشان ہے تو اس نے روتے ہوئے کہا: ”کیا آج مَیں نے اچھا طرزِعمل ظاہر نہیں کِیا؟“
اِس سوال نے ماں کو بیحد افسردہ کر دیا۔ وہ ہمیشہ اپنی بیٹی کو فوراً ڈانٹ دیا کرتی تھی۔ لیکن اس دن اس لڑکی نے اچھا طرزِعمل ظاہر کرنے کی بہت کوشش کی مگر ماں نے اُس سے قدردانی کا ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا۔
صرف چھوٹی لڑکیوں کو ہی شاباش اور حوصلہافزائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نصیحت اور اصلاح کی طرح ہم سب کو شاباش کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
جب ہمیں دلی قدردانی کے ساتھ شاباش دی جاتی ہے تو ہم کیسا محسوس کرتے ہیں؟ کیا اس سے ہمیں خوشی اور فرحت حاصل نہیں ہوتی؟ جب کوئی ہم پر توجہ دیتا اور ہماری پروا کرتا ہے تو ہمیں اسکا بھی احساس ہوتا ہے۔ یہ ہماری ہمت بڑھاتا ہے کہ ہم نے کوئی مفید کام کِیا ہے اور اس سے ہمیں مستقبل میں سخت محنت کرنے کی تحریک ملتی ہے۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ مخلص شاباش اکثر ہمیں حوصلہافزا بات کہنے والے شخص کی قربت میں لے آتی ہے۔—امثال ۱۵:۲۳۔
یسوع شاباش دینے کی ضرورت کو سمجھتا تھا۔ توڑوں کی تمثیل میں مالک (یسوع اپنی تصویرکشی کرتا ہے) نے دو وفادار نوکروں کو یہ کہتے ہوئے گرمجوشی کیساتھ شاباش دی: ”اَے اچھے اور دیانتدار نوکر شاباش!“ یہ بات کسقدر خوشکُن تھی! اگرچہ انکی لیاقتیں اور کامرانیاں بہت فرق تھیں توبھی اُنہوں نے برابر کی شاباش حاصل کی۔—متی ۲۵:۱۹-۲۳۔
پس آئیے اس چھوٹی لڑکی کی ماں کو یاد رکھیں۔ ہمیں اس بات کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں کہ دوسرے جب آنسو بہائینگے تو ہی ہم اُنہیں شاباش دینگے۔ اس کی بجائے، ہمیں شاباش دینے کے مواقع تلاش کرنے کا یقین کر لینا چاہئے۔ واقعی، ہمارے پاس ہر موقع پر مخلص شاباش دینے کی معقول وجہ موجود ہے۔