یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م02 1/‏11 ص.‏ 3-‏4
  • معافی مانگنا اتنا مشکل کیوں ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • معافی مانگنا اتنا مشکل کیوں ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • ملتا جلتا مواد
  • معافی مانگنا سیکھیں
    جاگو!‏—‏2015ء
  • معافی مانگنا—‏صلح کی کُنجی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • خوشیوں بھری شادی‌شُدہ زندگی کے لیے:‏ معافی مانگیں
    گھریلو زندگی کو خوشگوار بنائیں
  • غلطی کا اعتراف کیوں کریں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
م02 1/‏11 ص.‏ 3-‏4

معافی مانگنا اتنا مشکل کیوں ہے؟‏

جولائی سن ۲۰۰۰ میں، ریاستہائے‌متحدہ میں کیلیفورنیا ریاست کی قانون‌ساز  اسمبلی نے  ایک قانون پاس کِیا جسکی رُو سے کسی حادثے میں ملوث لوگوں کو زخمی ہو جانے والے شخص سے اظہارِہمدردی کی شرط پر سزا سے بری قرار دیا گیا تھا۔ قانون‌سازی کیوں؟ یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کسی حادثے میں کوئی زخمی ہو جاتا ہے یا کوئی اَور نقصان واقع ہوتا ہے تو لوگ اکثراوقات معافی مانگنے سے ہچکچاتے ہیں اس لئے کہ کہیں عدالت میں اس بات کو ان کے جُرم کا اعتراف نہ سمجھ لیا جائے۔ اس کے برعکس، جو لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان سے بِلاتاخیر معافی مانگی جانی چاہئے وہ ناراض ہو سکتے ہیں اور ایک چھوٹا سا حادثہ ایک بڑے جھگڑے میں بدل سکتا ہے۔‏

بیشک، اُس حادثے کے لئے معافی مانگنا ضروری نہیں جس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں۔ نیز ایسے اوقات ہو سکتے ہیں جب آپ کو اپنی بات کے سلسلے میں محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ ایک قدیم مثل کہتی ہے:‏ ”‏کلام کی کثرت خطا سے خالی نہیں لیکن ہونٹوں کو قابو میں رکھنے والا دانا ہے۔“‏ (‏امثال ۱۰:‏۱۹؛‏ ۲۷:‏۱۲‏)‏ پھربھی آپ خوش‌اخلاق اور مددگار ہو سکتے ہیں۔‏

تاہم، کیا یہ بات سچ نہیں کہ عدالتی مقدمات کا خطرہ نہ ہونے کے باوجود بہتیرے لوگوں نے معافی مانگنا چھوڑ دیا ہے؟ گھر پر ایک بیوی یوں  اظہارِافسوس کر  سکتی ہے، ’‏میرے شوہر نے کسی بھی بات کیلئے کبھی معافی نہیں مانگی۔‘‏ کام کی جگہ پر ایک فورمین یہ شکایت کر سکتا ہے کہ ’‏میرے ماتحت ملازمین اپنی غلطی نہیں مانتے اور شاذونادر ہی معافی مانگتے ہیں۔‘‏ سکول میں ایک اُستاد شاید یہ رپورٹ دے کہ ’‏بچوں کو مجھے معاف کیجئے کہنے کی تربیت ہی نہیں دی جاتی۔‘‏

معافی مانگنے سے ہچکچاہٹ کی ایک وجہ استرداد کا ڈر ہے۔ نظرانداز  کئے جانے کے خیال سے وہ شاید اس بات کا اظہار نہ کر سکے کہ حقیقت میں وہ کیسا محسوس کرتا ہے۔ درحقیقت، جس شخص کو ٹھیس پہنچی ہے وہ شاید ٹھیس پہنچانے والے سے مکمل طور پر قطع‌تعلق کر سکتا ہے جس سے دوبارہ میل‌ملاپ بہت مشکل ہو سکتا ہے۔‏

معافی مانگنے سے ہچکچاہٹ کی ایک اَور وجہ دیگر لوگوں کے جذبات کا خیال نہ رکھنا ہے۔ وہ سوچ سکتے ہیں، ’‏معافی مانگنے سے میری غلطی کا ازالہ تو نہیں ہو جائے گا۔‘‏ تاہم، دیگر یہ کہنے سے ہچکچاتے ہیں کہ جوکچھ ہوا اس کا انہیں بہت افسوس ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ ’‏کیا مجھے ذمہ‌دار ٹھہرا کر نقصان کی تلافی کے لئے کہا جائے گا؟‘‏ تاہم، غلطی کا اقرار کرنے میں سب سے بڑی رُکاوٹ تکبّر ہے۔ انتہائی مغرور شخص جسے ”‏مجھے معاف کیجئے“‏ کہنے کی توفیق نہیں ہوتی وہ دراصل یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ ’‏مَیں اپنی غلطی تسلیم کرکے اپنا وقار کھونا نہیں چاہتا۔ اس سے میرے مرتبے میں فرق پڑتا ہے۔‘‏

خواہ کوئی بھی وجہ ہو، بہتیرے معافی مانگنا مشکل پاتے ہیں۔ لیکن کیا معافی مانگنا ضروری ہے؟ معافی مانگنے کے فوائد کیا ہیں؟‏

‏[‏صفحہ ۳ پر تصویر]‏

‏”‏بچوں کو مجھے معاف کیجئے کہنے کی تربیت ہی نہیں دی جاتی“‏

‏[‏صفحہ ۳ پر تصویر]‏

‏”‏میرے ماتحت ملازمین اپنی غلطی نہیں مانتے“‏

‏[‏صفحہ ۳ پر تصویر]‏

‏”‏میرا شوہر کبھی معافی نہیں مانگتا“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں