’ہماری محبت گہری ہو گئی ہے‘
جاپان کے جزیرے ہوکیڈو میں ماؤنٹ یوسو ۲۳ سال تک ساکن رہنے کے بعد جمعہ مارچ ۳۱، ۲۰۰۰ میں اچانک پھٹ گیا۔ اُس خطرناک علاقے سے ہزاروں لوگوں کو بھاگنا پڑا۔ ان میں سے بہتیروں کے گھربار اور ملازمتیں ختم ہو گئیں لیکن خوشقسمتی سے سب کی جانیں بچ گئیں۔ اُس علاقے کو خالی کرنے والوں میں ۴۶ یہوواہ کے گواہ بھی شامل تھے لیکن وہ بےیارومددگار نہیں تھے۔
جس روز پہاڑ پھٹا اُسی روز اس علاقے میں خدمت کرنے والے ایک سفری نگہبان کی مدد سے امدادی کارگزاریوں کا بندوبست شروع کر دیا گیا۔ بہت جلد گردونواح کی کلیسیاؤں سے امدادی رسد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جاپان برانچ کی زیرِنگرانی فوری طور پر ایک ریلیف کمیٹی تشکیل دی گئی اور پورے جاپان کے یہوواہ کے گواہوں کی طرف سے عطیات موصول ہونے لگے۔ روحانی کارگزاریوں کی معاونت کیلئے یہوواہ کے گواہوں کے کُلوقتی خادموں کو سب سے زیادہ متاثر ہونے والی کلیسیا میں بھیج دیا گیا اور جذباتی اور روحانی مدد فراہم کرنے کیلئے سرکٹ اوورسیئر نے باربار علاقے کا دورہ کِیا۔
اس مشکل وقت کے دوران بھی متاثرہ علاقے کے گواہ قدرے محفوظ علاقے میں گھروں پر مسیحی اجلاس منعقد کرتے رہے۔ جہاں پر کنگڈم ہال واقع تھا جب اُس جگہ کو خالی کرنے کا حکم منسوخ ہوا تو بھائی واپس لوٹ آئے اور انہیں وہاں ایک ٹوٹیپھوٹی خستہحال عمارت ملی۔ کنگڈم ہال کے قریب ہی زمین میں پیدا ہونے والے شگاف سے ابھی تک دھواں اُٹھ رہا تھا۔ گواہوں نے سوچا، ’کیا اس علاقہ میں اجلاس منعقد کرنا دانشمندی کی بات ہے؟ کیا کنگڈم ہال کی مرمت کی جا سکتی ہے؟‘
یہ فیصلہ کِیا گیا کہ قریب ہی کسی محفوظ مقام پر ایک نیا کنگڈم ہال تعمیر کِیا جائے۔ ریجنل بلڈنگ کمیٹی کی طرف سے ضروری مدد فراہم کی گئی۔ پورے ملک کے گواہوں کی طرف سے موصول ہونے والے عطیات کو اس تعمیراتی کام کے لئے استعمال کِیا گیا۔ فوری طور پر زمین خریدی گئی اور ہزاروں رضاکار کارکنوں کی مدد سے نہایت کم وقت میں ایک نیا کنگڈم ہال تیار ہو گیا۔ اتوار جولائی ۲۳، ۲۰۰۰ کو اس نئے کنگڈم ہال میں منعقد ہونے والے پہلے اجلاس پر ۷۵ اشخاص حاضر تھے۔ حاضرین میں سے بہتیروں کی آنکھیں خوشی سے اشکبار تھیں۔ اسی سال اکتوبر میں کنگڈم ہال کی مخصوصیت پر مقامی کلیسیا کے ایک بزرگ نے کہا: ”آتشفشاں کا لاوا مشکلات اور تکلیف کا باعث بنا تھا۔ تاہم اس تعمیراتی کام نے ہمارے خوف کو خوشی میں بدل دیا ہے۔ ہماری محبت یہوواہ اور اپنے مسیحی بھائیوں کے لئے اَور زیادہ گہری ہو گئی ہے!“