کیا موت کے بعد بھی زندگی ہے؟
بزرگ ایوب نے تقریباً ۳،۵۰۰ سال پہلے یہ استفسار کِیا کہ ”اگر آدمی مر جائے تو کیا وہ پھر جئے گا؟“ (ایوب ۱۴:۱۴) اس سوال نے ہزاروں سال سے نوعِانسان کو تذبذب میں ڈال رکھا ہے۔ عرصۂدراز سے ہر تہذیب کے لوگوں نے اس موضوع پر غوروفکر کرنے کے بعد مختلف نظریات پیش کئے ہیں۔
بہتیرے نامنہاد مسیحی جنت اور دوزخ پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، ہندو عقیدۂتناسخ پر ایمان رکھتے ہیں۔ اسلامی نظریے کی بابت بیان کرتے ہوئے ایک اسلامی مذہبی ادارے کا نائب، امیر معاویہ تبصرہ کرتا ہے: ”ہمارا ایمان ہے کہ موت کے بعد یومِحساب ہوگا جب سب لوگ اللہ کی عدالت میں پیش ہونگے۔“ اسلامی عقیدے کے مطابق، اُس وقت اللہ ہر شخص کو اُسکے اعمال کی بِنا پر جنت یا دوزخ میں بھیجیگا۔
سری لنکا میں، بدھسٹ اور کیتھولک خاندانوں میں کسی کی موت کے وقت دروازے اور کھڑکیاں کھلی رکھی جاتی ہیں۔ ایک چراغ جلا کر تابوت کو اس طرح رکھا جاتا ہے کہ مُتوَفّی کے پاؤں کا رُخ سامنے کے دروازے کی طرف ہوتا ہے۔ اُنکا اعتقاد ہے کہ اس طرح مُتوَفّی کی رُوح کو باہر نکلنے میں آسانی ہوتی ہے۔
مغربی آسٹریلیا کی یونیورسٹی کے رونلڈ ایم. برنٹ کے مطابق، آسٹریلوی ابریجنی ایمان رکھتے ہیں کہ ”انسان کے اندر غیرفانی رُوح ہوتی ہے۔“ بعض افریقی قبائل یہ ایمان رکھتے ہیں کہ موت کے بعد عام لوگ بھوتپریت بن جاتے ہیں جبکہ اہم شخصیات آبائی رُوحیں بن جاتی ہیں جنکا قبیلے کے نادیدہ راہنماؤں کے طور پر احترام کِیا جاتا ہے اور اُن سے دُعائیں مانگی جاتی ہیں۔
بعض ممالک میں، مُردوں کی حالت سے متعلق عقائد مقامی رسمورواج اور نامنہاد مسیحیت کا امتزاج ہیں۔ مثال کے طور پر، مغربی افریقہ میں بہت سے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ لوگوں میں کسی شخص کی وفات پر آئینوں کو ڈھانپ دینے کا رواج ہے تاکہ کوئی شخص آئینے میں رُوح کو جاتے ہوئے نہ دیکھ لے۔
اگرچہ سوال تو ایک ہی ہے کہ ’جب ہم مرتے ہیں تو ہمارے ساتھ کیا واقع ہوتا ہے؟‘ لیکن لوگ اسکے مختلف جواب دیتے ہیں۔ تاہم، اِن تمام جوابات میں ایک بات مشترک ہے: انسان کے اندر کوئی غیرفانی چیز ہوتی ہے جو موت کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ بعض لوگوں کے خیال میں یہ ”چیز“ رُوح ہے۔ مثال کے طور پر، افریقہ اور ایشیا، بحرالکاہلی پولینیشیا، میلانیشیا اور مائیکرونیشیا کے علاقوں میں بیشتر لوگ یہ ایمان رکھتے ہیں کہ جان کی بجائے رُوح غیرفانی ہوتی ہے۔ درحقیقت بعض زبانوں میں تو لفظ ”جان“ پایا ہی نہیں جاتا۔
کیا انسان کے اندر رُوح ہوتی ہے؟ کیا یہ رُوح واقعی موت کے وقت جسم سے نکل جاتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ نیز مُردوں کیلئے کیا اُمید ہے؟ ان سوالات کو نظرانداز نہیں کِیا جا سکتا۔ آپکے ثقافتی یا مذہبی پسمنظر سے قطعنظر موت ایک ایسی حقیقت ہے جسکا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ لہٰذا یہ مسئلہ آپ کیلئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم آپ کی اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے کیلئے حوصلہافزائی کرتے ہیں۔