مذہبی اتحاد عنقریب؟
لوتھرن ورلڈ فیڈریشن کے صدر، کرسٹین کراؤس نے کہا: ”ہم اپنے گرجاگھروں کی تاریخ میں ایک اہم دن کا ظہور دیکھ رہے ہیں۔“ اسی طرح، پوپ جان پال دوم نے بھی ”مکمل طور پر مسیحی اتحاد کو ازسرِنو تعمیر کرنے کی غیرمستحکم راہ میں ایک سنگِمیل“ کا ذکر کِیا۔
اِن حوصلہافزا اعلانات کی وجہ اکتوبر ۳۱، ۱۹۹۹ میں جرمنی، آگسبرگ میں آفیشل کامن سٹیٹمنٹ پر دستخط کرنا تھا جس نے جائنٹ ڈکلریشن آن دی ڈاکٹرین آف جسٹیفیکیشن کی تصدیق کی۔ اس موقع کے لئے وقت اور مقام کا انتخاب بڑا اچھا تھا۔ ایک بیان کے مطابق کہ اکتوبر ۳۱، ۱۵۱۷ میں مارٹن لوتھر نے اپنے ۹۵ یادگار مقالے وٹنبرگ میں کیسل گرجاگھر کے دروازے پر چسپاں کرتے ہوئے پروٹسٹنٹ ریفارمیشن کی راہ ہموار کی تھی۔ آگسبرگ ہی وہ جگہ تھی جہاں لوتھر کے پیروکاروں نے ۱۵۳۰ میں اپنا بنیادی عقیدہ دی آگسبرگ کنفیشن پیش کِیا جسے کیتھولک چرچ نے رد کر کے پروٹسٹنٹ اور کیتھولک کے درمیان ناقابلِتسخیر اختلاف پیدا کر دیا۔
کیا جائنٹ ڈکلریشن اپنے دعوے کے مطابق چرچ کی تقسیم کے مسئلے پر قابو پانے میں ایک فیصلہکُن قدم ثابت ہوگا؟ اس سلسلے میں تمام فریقین پُراُمید نہیں تھے۔ تقریباً ۲۵۰ سے زائد پروٹسٹنٹ علما نے ایک مختلف درخواست پر دستخط کرتے ہوئے کیتھولک چرچ کی تحویل میں آنے سے خبردار کِیا۔ پروٹسٹنٹ بھی ۲۰۰۰، سال کیلئے معافی کے سلسلے میں کیتھولک چرچ کی خاص رعایت پر ناراض تھے، وہی عمل جو تقریباً ۵۰۰ سال پہلے انکے درمیان اختلاف کی بنیاد بنا تھا۔ لہٰذا، آگسبرگ کنفیشن اور کونسل آف ٹرینٹ کی طرف سے کیتھولک تردید اتحاد کو ناممکن بنا دیتے ہیں۔
دُنیائےمسیحیت میں تقسیم اور اختلاف کی شدت کو کوئی بھی مشترکہ معاہدہ دُور نہیں کر سکتا۔ اسکے علاوہ، ایمان میں اتحاد صرف خدا کے کلام بائبل پر مبنی اعتقادات سے حاصل ہو سکتا ہے۔ (افسیوں ۴:۳-۶) حقیقی اتحاد مصالحت کی بجائے خدا کے تقاضوں کی بابت سیکھنے اور اُن پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ ”سب اُمتیں اپنے اپنے معبود کے نام سے چلے گی،“ وفادار نبی میکاہ نے بیان کِیا، ”پر ہم ابدالآباد تک خداوند [”یہوواہ،“اینڈبلیو] اپنے خدا کے نام سے چلینگے۔“—میکاہ ۴:۵۔