سیرت لازوال ہوتی ہے
”ایـک نـوجـوان کے نـزدیـک حـسـنوسـیـرت مـیـں کـوئـی فـرق نـہـیـں ہـوتـا،“ ایـک وفـادار عـمـررسـیـدہ مـسـیـحـی نے اپـنے تـجـربے سے بـیـان کِـیـا۔
جیہاں، انسان سیرت کی بجائے ظاہری حسنوجمال پر زیادہ توجہ دیتا ہے جسکی وجہ سے اکثر باطنی اقدار کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم، ہمارا خالق ہماری ظاہری حالت سے قطعنظر ہمارے باطن پر نگاہ رکھتا ہے۔ یوں، وہ خردمندی کا ایک اعلیٰ نمونہ قائم کرتا ہے۔ بائبل میں خدا نے خود یہ کہا: ”[خدا] انسان کی مانند نظر نہیں کرتا اِسلئے کہ انسان ظاہری صورت کو دیکھتا ہے پر [یہوواہ] دل پر نظر کرتا ہے۔“—۱-سموئیل ۱۶:۷۔
خدا ہی نے انسان کو حقیقی حسن کی نعمت سے نوازا ہے اور اُسکا کلام آشکارا کرتا ہے کہ کسی شخص کی حقیقی قدروقیمت کو پرکھتے وقت روحانی صفات زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”حسن دھوکا اور جمال بےثبات ہے لیکن وہ عورت جو [یہوواہ] سے ڈرتی ہے ستودہ ہوگی۔“ (امثال ۳۱:۳۰) بِلاشُبہ، ظاہری حسن باطنی بدصورتی کو چھپا لیتا ہے۔ (آستر ۱:۱۰-۱۲؛ امثال ۱۱:۲۲) تاہم، جسمانی حسن تو وقت کے ساتھ ساتھ ڈھل جاتا ہے مگر باطنی حسن—دلی صفات—سدا بڑھتا اور قائم رہتا ہے۔
لہٰذا، محبت، خوشی، اطمینان، تحمل، مہربانی، نیکی، ایمانداری، حلم، پرہیزگاری جیسی صفات پیدا کرنا کتنی دانشمندی کی بات ہے! (گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳) یوں، ہم باطنی حسن حاصل کر سکتے ہیں جسکی قدروقیمت لازوال ہے۔—۱-پطرس ۳:۳، ۴۔