یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م00 1/‏10 ص.‏ 3
  • زمین—‏کیا یہ محض آزمائشی جگہ ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • زمین—‏کیا یہ محض آزمائشی جگہ ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏’‏تیری مرضی زمین پر پوری ہو‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
  • ابدی خوشی—‏آسمان یا زمین پر؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • آپ زمین کے فردوس بن جانے پر یقین رکھ سکتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • زمین
    جاگو!‏—‏2015ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
م00 1/‏10 ص.‏ 3

زمین‏—‏کیا یہ محض آزمائشی جگہ ہے؟‏

بالآخر وہ امتحان میں پاس ہو گئی۔ دو ہفتوں کے امتحانات میں سخت محنت کرنے والی طالبہ نے ایک خوش‌کُن رپورٹ حاصل کی۔ اب وہ اُس ملازمت کے سلسلے میں پیش‌رفت کر سکتی تھی جسکی وہ ہمیشہ خواہاں تھی۔‏

بہتیرے لوگ زمین پر زندگی کو ایسا ہی خیال کرتے ہیں۔ وہ اسے ابتدائی امتحان خیال کرتے ہیں جس میں سے سب کو گزرنا پڑتا ہے۔ جو اس میں ”‏کامیاب“‏ ہو جاتے ہیں وہ آئندہ زندگی کیلئے کسی بہتر مقام تک پہنچ جاتے ہیں۔ واقعی، اگر انسانی توقع کے مطابق موجودہ زندگی ہی—‏بہتیروں کیلئے بس زندہ رہنے کا نام—‏بہترین زندگی ہوتی تو یہ بڑی افسوسناک بات ہوتی۔ بالعموم خوشحال‌وخوشگوار زندگی بسر کرنے کے باوجود، بائبل کردار ایوب نے بیان کِیا:‏ ”‏انسان جو عورت سے پیدا ہوتا ہے۔ تھوڑے دنوں کا ہے اور دُکھ سے بھرا ہے۔“‏—‏ایوب ۱۴:‏۱‏۔‏

بہتیرے انسانوں کی سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے نیو کیتھولک انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے:‏ ”‏آسمانی جلال وہ منزل ہے جسے خدا نے انسانوں کیلئے ٹھہرایا ہے۔ .‏ .‏ .‏ انسان کی خوشی اسکے آسمانی بہشت حاصل کرنے سے دیکھی جا سکتی ہے۔“‏ ریاستہائے‌متحدہ میں چرچ آف کرائسٹ کے ایک حالیہ سروے سے ظاہر ہوا کہ ۸۷ فیصد لوگوں کا ایمان ہے کہ غالباً وہ مرنے کے بعد آسمان پر جائینگے۔‏

بیشتر غیرمسیحی لوگ بھی مرنے کے بعد زمین کو چھوڑ کر ایک بہتر جگہ جانے کی اُمید رکھتے ہیں۔ مثلاً، مسلمان آسمانی جنت میں جانے کی اُمید رکھتے ہیں۔ چین اور جاپان میں بدھ‌مت فرقوں کے پاک سرزمین کے معتقد یقین رکھتے ہیں کہ لامحدود روشنی کے بدھا، ‏”‏امیدا“‏ کے نام کو غیرمختتم طور پر دہرانے سے وہ پاک سرزمین یا مغربی فردوس میں دوبارہ جنم لینگے جہاں وہ انتہائی خوشحال زندگی بسر کرینگے۔‏

دلچسپی کی بات ہے کہ دُنیا میں وسیع پیمانے پر ترجمہ ہونے اور تقسیم ہونے والی مُقدس کتاب، بائبل، زمین کو ایسی جگہ یا گزرپتھر کے طور پر بیان نہیں کرتی جس سے گزر کر آگے جانا ہے۔ مثال کے طور پر، یہ بیان کرتی ہے:‏ ”‏صادق زمین کے وارث ہونگے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہینگے۔“‏ (‏زبور ۳۷:‏۲۹‏)‏ بائبل میں یسوع کے مشہور الفاظ بھی پائے جاتے ہیں:‏ ”‏مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہونگے۔“‏—‏متی ۵:‏۵‏۔‏

عام نقطۂ‌نظر یہ دلالت کرتا ہے کہ ہمارا زمینی مسکن عارضی ہے اور موت دراصل آسمانی بہشت میں پُرلطف زندگی کا دروازہ ہے۔ اگر ایسا ہے توپھر موت یقیناً ایک برکت ہے۔ لیکن کیا عام طور پر لوگ موت کو ایسا خیال کرتے ہیں یا کیا وہ موجودہ زندگی کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں؟ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ جب لوگ کسی حد تک صحت‌وتندرستی اور امن‌وامان سے رہ رہے ہوتے ہیں تو وہ مرنا نہیں چاہتے ہیں۔‏

تاہم، زمین پر مشکلات اور تکالیف سے پُر زندگی کے باعث آسمان کو بیشتر لوگ حقیقی امن اور خوشی کا واحد مقام خیال کرتے ہیں۔ کیا آسمان ہی انتہائی امن کا مقام، خرابی اور ناموافقت سے مکمل طور پر پاک ہے؟ اسی طرح سے کیا آئندہ زندگی صرف آسمانی عالم میں ہی ہوگی؟ آپ بائبل کے جواب پر حیران ہو سکتے ہیں۔ براہِ‌مہربانی آگے پڑھنا جاری رکھیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں