الخاموشی نیمرضامندی
کتاب بٹرئیل—جرمن چرچز اینڈ دی ہولوکاسٹ نازیاِزم میں مذہب کے کردار کو کُھل کر بیان کرتی ہے۔ یہ کتاب اِس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ”مسیحیوں کی اکثریت نے اِس نظامِحکومت کی حمایت کی وجہ سے یہودیوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف کوئی آواز نہ اُٹھائی۔ اُن کی خاموشی اِس بات کا مُنہ بولتا ثبوت تھی کہ وہ اِس سے خوش ہیں۔“
اقبالی مسیحی نازیاِزم کی حمایت میں کیوں تھے؟ کتاب وضاحت کرتی ہے کہ بہتیرے ہٹلر کے اِس دعوے کے فریب میں آ گئے تھے کہ وہ ”جرمن معاشرے میں امنوسلامتی قائم کرے گا۔“ یہ کتاب مزید بیان کرتی ہے: ”اُس نے فحشنگاری، عصمتفروشی، اسقاطِحمل، ہمجنسپسندی اور جدید فن کی ’بیہودگی‘ کی مخالفت کرنے کے علاوہ چار، چھ اور آٹھ بچوں کو جنم دینے والی عورتوں کو کانسی، چاندی اور سونے کے تمغے دینے سے اُنکی حوصلہافزائی کی کہ اُنہیں گھر میں اپنا روایتی کردار ادا کرتے رہنا چاہئے۔ ہٹلر نے ورسائی معاہدے کی قومی تذلیل کے بدلے، روایتی اقدار کی احیا اور عسکریانا قومپرستی کا نظریہ پیش کِیا جس سے قومی اشتراکیت مسیحیوں سمیت جرمن کی عوام کیلئے دلکش انتخاب بن گئی۔“
تاہم، ایک گروہ اِن سب سے فرق تھا۔ کتاب بٹرئیل بیان کرتی ہے کہ ”یہوواہ کے گواہوں نے تشدد یا فوجی طاقت کے استعمال میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔“ اِسکے نتیجے میں یہ چھوٹا سا گروہ زیرِعتاب آ گیا اور اِسکے بہتیرے ارکان کو مراکزِاسیران میں ڈال دیا گیا۔ اِسکے باوجود، مسیح کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرنے والے دیگر لوگوں کے کان پر جُوں تک نہ رینگی۔ کتاب مزید بیان کرتی ہے: ”کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کو یہوواہ کے گواہوں سے کوئی ہمدردی نہیں تھی بلکہ وہ اُن سے عداوت رکھتے تھے۔ اِسی لئے اُنہوں نے گواہوں کے امنپسندانہ مؤقف کی بجائے ہٹلر کے ظلموستم کی زیادہ حمایت کی۔“ بِلاشُبہ، اُنکی خاموشی نے نازی دورِحکومت میں گواہوں پر ڈھائے جانے والے ظلم میں اضافہ کِیا تھا۔
نازی سیاست میں چرچ کی شمولیت ابھی تک سخت بحثوتکرار کا مرکز ہے مگر یہوواہ کے گواہوں کی بابت بٹرئیل کہتی ہے کہ ”اِس مذہبی گروہ نے حکومت کے ساتھ کسی قسم کا الحاق یا تعاون نہیں کِیا تھا۔“