ملاح سے سبق سیکھیں
کُھلے سمندر میں تنہا کشتی چلانے سے بہت زیادہ تھکاوٹ ہو سکتی ہے۔ اتنی زیادہ مشقت سے پورا جسم شل ہو جانے کے باعث ملاح بآسانی کسی خطرناک صورتحال میں مبتلا ہو جانے سے کوئی نہ کوئی غلطی کر سکتا ہے۔ اسی لئے ملاح کے نزدیک لنگر بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ لنگر ڈال دینے سے تھکےماندے ملاح کو ذرا سستانے اور تازہدم ہونے کا موقع مل جاتا ہے اور یوں وہ پانی کے بہاؤ کیساتھ بہ کر کسی خطرے میں مبتلا ہونے سے بچ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ لنگر کشتی کے مستک کو ہوا اور لہروں کے مخالف اُٹھائے رکھتا ہے جس سے کشتی ایک جگہ کھڑی رہتی ہے۔
جسطرح ملاحوں کو سمندر میں کئی خطرات کا سامنا ہوتا ہے بالکل اُسی طرح مسیحیوں کو بھی اس دُنیا کی طرف سے مستقل آزمائشوں کا سامنا ہوتا ہے جسکی وجہ سے اُنہیں آرام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ درحقیقت، یسوع نے بھی ایک مرتبہ اپنے شاگردوں کو مشورہ دیا تھا: ”تم آپ الگ ویران جگہ میں چلے آؤ اور ذرا آرام کرو۔“ (مرقس ۶:۳۱) آجکل، بعض لوگ چند ہفتوں کیلئے کسی دوسرے مقام کی سیاحت یا اپنے خاندان کیساتھ ہفتے کے آخر پر کہیں تفریح کیلئے جاتے ہیں۔ یہ لمحات تقویت اور تازگی بخشنے والے ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم، ان مواقع پر ہم اپنے روحانی تحفظ کو کیسے یقینی بنا سکتے ہیں؟ کونسی چیز گمراہی سے بچنے اور اپنا توازن برقرار رکھنے کے سلسلے میں ہمارا روحانی لنگر ثابت ہو سکتی ہے؟
یہوواہ نے بڑی فراخدلی سے ہمیں ایک ایسی چیز فراہم کی ہے۔ یہ اسکا پاک کلام، بائبل ہے۔ اسے روزانہ پڑھنے سے ہم یہوواہ کی قربت میں رہینگے اور کبھی بھی اُس سے دُور نہیں ہونگے۔ اسکی مشورت ہمیں مستحکم کرتی ہے اور ابلیس اور اُسکی دُنیا کی آزمائشوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اگرچہ یہ ہمارے معمول کا حصہ نہ بھی ہو توبھی بائبل پڑھائی کا باقاعدہ پروگرام برقرار رکھنا ہمیں روحانی طور پر مستحکم کر سکتا ہے۔—یشوع ۱:۷، ۸؛ کلسیوں ۲:۷۔
زبورنویس ہمیں یاددہانی کراتا ہے کہ ”مبارک ہے وہ آدمی . . . خداوند کی شریعت میں [جسکی] خوشنودی ہے اور اُسی کی شریعت پر دن رات اُسکا دھیان رہتا ہے۔“ (زبور ۱:۱، ۲) خدا کا کلام روزانہ پڑھنے سے ہم مسیحی راہ پر گامزن رہنے کیلئے ہمیشہ تیار رہینگے اور حقیقی تازگی اور تقویت کے ”مبارک“ نتائج حاصل کرینگے۔