نفرت کی وبا
”لوگ جن سے نفرت کرتے ہیں اُنہیں جانتے بھی نہیں۔“—جـیـمـز رسـل لـووَل، سـفـیـر اور مـضـمـوننـگار۔
آجکل نفرت ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ ہمارے ذہن میں مشرقی تیمور، کوسوو، لائبیریا، لٹلٹن اور سرائیوو کے علاوہ نیو نازی، برطانوی غنڈہراج اور سفیدفامی حاکمیت جیسے نام اور جلے ہوئے کھنڈرات، لاشوں کے ڈھیر اور ان لاشوں کو دفن کرنے کیلئے کھودے گئے بڑےبڑے گڑھوں کی تصاویر نقش ہو چکی ہیں۔
نفرت، جھگڑے اور تشدد سے پاک مستقبل کے خواب چکناچور ہو گئے ہیں۔ مرحوم فرانسیسی صدر کی بیوی، ڈینئل متراں نے اپنی جوانی کے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا: ”اُس وقت لوگ برادرانہ محبت سے سرشار ایک ایسے قابلِاعتماد معاشرے میں رہنے کا خواب دیکھتے تھے جہاں وہ ذہنی سکون سے دوسروں کیساتھ ملجُل کر زندگی بسر کر سکیں؛ اُنکا خواب تھا کہ وہ ایک مستحکم اور فیاضدل دُنیا میں صحت، امن اور وقار سے زندگی بسر کریں جہاں اُنہیں کوئی خوفوخطرہ نہ ہو۔“ ان تمام تصورات کیساتھ کیا واقع ہوا؟ اس نے بڑے افسوس کا اظہار کِیا: ”ہمارے خواب مسلمہ طور پر نصف صدی کے بعد ہی حملے کا شکار ہو گئے ہیں۔“
آجکل نفرت ازسرِنو زور پکڑ رہی ہے جس سے آنکھ نہیں چرائی جا سکتی۔ یہ ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے اور بہت سی وحشیانہ صورتوں میں ظاہر ہو رہی ہے۔ انفرادی تحفظ کا احساس جسے لاکھوں لوگ معمولی سمجھتے ہیں، نفرت کے اُن احمقانہ کاموں کے باعث ختم ہو گیا ہے جن میں سے ہر ایک پہلے سے زیادہ دہشتناک ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے گھر اور مُلک میں نفرت کا شکار نہیں ہوتے تو کسی اَور جگہ اسکی زد میں آ سکتے ہیں۔ ہم غالباً ہر روز اس کا ثبوت ٹیلیویژن پر خبروں اور حالاتِحاضرہ کی نشریات میں دیکھتے ہیں۔ اب تو انٹرنیٹ پر بھی کسی حد تک اسکے آثار پائے جاتے ہیں۔ آئیے چند مثالوں پر غور کریں۔
پچھلے دس سالوں کے دوران قومپرستی میں بینظیر اضافہ ہوا ہے۔ ہارورڈ سینٹر فار انٹرنیشنل افیرز کے ڈائریکٹر جوزف ایس. نائے جونیئر نے بیان کِیا کہ ”دُنیا کے بیشتر حصوں میں قومپرستی کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ دُنیا اتحاد کے فقدان کی وجہ سے مختلف گروہوں میں بٹی ہوئی ہے جو ایک دوسرے کے خیالات اور عزائم سے بخوبی واقف ہیں۔ اس سے جھگڑے اور فساد کا اَور زیادہ امکان پیدا ہو جاتا ہے۔“
کسی مُلک یا علاقے کی حدود کے اندر نفرت کی زیادہ پوشیدہ اقسام بھی پائی جاتی ہیں۔ کینیڈا میں پانچ غنڈوں کے ایک عمررسیدہ سکھ کو قتل کرنے کے واقعے سے ”یہ ظاہر ہو گیا کہ نسلی رواداری کے علمبردار اس مُلک میں بھی نفرت کی بِنا پر کئے جانے والے جرائم کا ازسرِنو آغاز ہو گیا ہے۔“ جرمنی میں، گزشتہ برسوں کے دوران نسلیاتی حملوں میں تیزی سے کمی ہونے کے باوجود، ۱۹۹۷ میں انتہاپسندوں کی طرف سے ایسے ہی حملوں کی تعداد میں ۲۷ فیصد اضافہ ہو گیا۔ امورِداخلہ کے وزیر مینفرڈ کانتھر نے بیان کِیا کہ ”یہ مایوسکُن ترقی ہے۔“
شمالی البانیہ کی رپورٹ نے بیان کِیا کہ ۶،۰۰۰ سے زائد بچے اپنے خاندانی دُشمنوں کے ہاتھوں مارے جانے کے ڈر کے باعث اپنے ہی گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔ خاندانی دُشمنی نے ان بچوں کو متاثر کرنے کے علاوہ ”ہزاروں خاندانوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔“ ریاستہائےمتحدہ کے فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایفبیآئی) کے مطابق، ”۱۹۹۸ میں نفرت کی بِنا پر ہونے والے جن ۷،۷۵۵ جرائم کی رپورٹ ایفبیآئی کو ملی اُن میں سے نصف سے زائد نسلیاتی تعصّب کی وجہ سے کئے گئے تھے۔“ باقی جرائم کے محرکات میں مذہبی، طبقاتی یا قومی تعصّب اور ذہنیوجسمانی نااہلیت شامل تھی۔
مزیدبرآں، ہر روز اخبارات کی شہسُرخیاں غیرملکیوں سے نفرت کی وبا کی نشاندہی کرتی ہیں جسکا خاص نشانہ پناہگزین بنتے ہیں جن کی تعداد اس وقت ۲۱ ملین سے زیادہ ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ غیرملکیوں سے نفرت کا اظہار کرنے والوں کی اکثریت نوجوان لوگوں کی ہے جنہیں غیرذمہدار سیاسی شخصیات اور قربانی کا بکرا تلاش کرنے والے دیگر لوگ اسکی ترغیب دیتے ہیں۔ بےاعتباری، غیررواداری اور فرق رنگونسل کے لوگوں کی بابت غیرمبدل رائے قائم کرنا اسی مسئلے کی مبہم علامات ہیں۔
نفرت کی اس وبا کے چند اسباب کیا ہیں؟ نیز نفرت کو مٹانے کیلئے کیا کِیا جا سکتا ہے؟ اگلا مضمون ان سوالات پر باتچیت کریگا۔