خدائی حکمت کیسے ظاہر ہوتی ہے؟
”مسکین کی حکمت کی تحقیر ہوتی ہے اور اُسکی باتیں سنی نہیں جاتیں۔“ دانشمند بادشاہ سلیمان نے ان الفاظ کیساتھ ایک پورے شہر کو تباہی سے بچانے والے ایک غریب مگر نہایت فہیم شخص کی کہانی کا اختتام کِیا۔ تاہم، افسوس کی بات ہے کہ ”کسی شخص نے اِس مسکین مرد کو یاد نہ کِیا۔“—واعظ ۹:۱۴-۱۶۔
مسکین اشخاص خواہ کتنے بھی فیضرساں کام کریں دوسرے انسان اُنہیں ہمیشہ حقارت کی نگاہ سے ہی دیکھتے ہیں۔ یہ بات یسوع کے سلسلے میں بالکل سچ ثابت ہوئی۔ یسعیاہ نے اُس کی بابت پیشینگوئی کی: ”وہ آدمیوں میں حقیرومردود۔ مردِغمناک اور رنج کا آشنا تھا۔“ (یسعیاہ ۵۳:۳) بعض لوگ یسوع کو محض اس لئے حقیر خیال کرتے تھے کہ اُس کے پاس اُس زمانے کے راہنماؤں جیسا بلند مقام یا مالومتاع نہیں تھا۔ تاہم، اسکے پاس کسی گنہگار انسان کی نسبت کہیں افضل حکمت تھی۔ یسوع کے اپنے آبائی شہر کے لوگ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے کہ یہ ”بڑھئی کا بیٹا“ ایسی حکمت کا مالک اور ایسے زبردست کام کرنے کے لائق ہے۔ تاہم، یہ اُنکی بہت بڑی غلطی تھی کیونکہ سرگزشت مزید بیان کرتی ہے کہ یسوع نے ”اُنکی بےاعتقادی کے سبب سے وہاں بہت سے معجزے نہ دکھائے۔“ اس سے اُن لوگوں کو کتنا بڑا نقصان ہوا!—متی ۱۳:۵۴-۵۸۔
ہمیں ایسی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ یسوع نے کہا، ”حکمت اپنے کاموں سے راست ثابت“ ہوتی ہے۔ خدا کا کام کرنے اور آسمانی حکمت کی تعلیم دینے والے لوگ معاشرے میں اپنی حیثیت اور مقام سے نہیں بلکہ ”اچھے پھل“—بائبل پر مبنی ایمان اور اعمال—سے فرق نظر آتے ہیں۔—متی ۷:۱۸-۲۰؛ ۱۱:۱۹۔